خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان وزیراعظم بنگلہ دیش بننے کو تیار

بنگلہ دیش کی سیاست ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں طویل عرصے تک اقتدار سے باہر رہنے والی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ایک بار پھر ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھرتی دکھائی دے رہی ہے۔ پارٹی کی بانی سربراہ اور سابق وزیراعظم بیگم خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد ان کے صاحبزادے اور بی این پی کے قائم مقام چیئرمین طارق رحمان 20 سال بعد خود ساختہ جلاوطنی ختم کرتے ہوئے لندن سے ڈھاکہ واپس آ چکے ہیں۔ انتخابی جائزوں کے مطابق 12 فروری کو ہونے والے الیکشن میں طارق رحمان کی زیر قیادت ان کی جماعت کی کامیابی نوشتہ دیوار ہے جس کے بعد ان کے وزیراعظم بننے کا قوی امکان موجود ہے۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ شیخ حسینہ واجد اس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور ان کی عوامی لیگ کو اس الیکشن میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔

یاد رہے کہ طارق رحمان 2008 میں فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے دور میں گرفتاری اور کرپشن کے مقدمات کے بعد علاج کی غرض سے لندن منتقل ہوئے تھے۔ بعد ازاں حسینہ واجد کی حکومت کی جانب سے ان کے خلاف کئی مقدمات قائم کیے گئے، جن میں 2004 کے گرنیڈ حملے کا کیس بھی شامل تھا، تاہم وہ ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے رہے۔ حالیہ سیاسی تبدیلی کے بعد وہ تمام مقدمات سے بری ہو چکے ہیں، جس کے بعد ان کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔ طارق رحمان کی واپسی تب ممکن ہوئی جب اگست 2024 میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں عوامی لیگ کی طویل حکومت کا خاتمہ ہوا اور وزیراعظم شیخ حسینہ واجد ملک چھوڑ کر بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی منتقل ہو گئیں۔

اس پیش رفت کے بعد سے بنگلہ دیش میں طاقت کی بساط یکسر بدل چکی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق طارق رحمان کی جیت کے امکانات اس لیے بھی زیادہ ہیں کہ ان کی سب سے بڑی متحارب جماعت، شیخ حسینہ واجد کی عوامی لیگ، کو موجودہ انتخابی عمل سے باہر کر دیا گیا ہے۔ عبوری حکومت کے فیصلوں کے تحت عوامی لیگ پر انتخابی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد ہے، جب کہ اس کے کئی مرکزی رہنما یا تو گرفتار ہیں یا نااہل قرار دیے جا چکے ہیں۔ اس صورتحال میں بی این پی سب سے منظم اور مضبوط سیاسی قوت بن کر سامنے آئی ہے۔ 12 فروری کو ہونے والے انتخابات میں بی این پی، طارق رحمان کی قیادت میں، اپنی اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر انتخابی میدان میں اتری ہے، جب کہ دوسری جانب جماعتِ اسلامی بھی اپنے روایتی اور نئے اتحادیوں کے ساتھ مل کر الیکشن لڑ رہی ہے۔ یوں یہ انتخابات عملی طور پر مختلف سیاسی اتحادوں کے درمیان مقابلے کی صورت اختیار کر چکے ہیں، تاہم عوامی لیگ کی عدم موجودگی نے مقابلے کا توازن واضح طور پر بی این پی کے حق میں جھکا دیا ہے۔

یاد رہے کہ بنگلہ دیشی سیاست گزشتہ کئی دہائیوں سے بنیادی طور پر دو بڑی جماعتوں، یعنی عوامی لیگ اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی، کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ایک طرف شیخ حسینہ واجد اور دوسری جانب بیگم خالدہ ضیا ملک کی سب سے طاقتور سیاسی شخصیات سمجھی جاتی تھیں۔ طارق رحمان کے والد، سابق صدر ضیاءالرحمان، بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد اہم ترین قومی رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے 1977 سے 1981 تک ملک پر حکمرانی کی اور بعد ازاں ایک فوجی بغاوت میں قتل کر دیے گئے۔ ان کی موت کے بعد خالدہ ضیا نے ان کی جگہ لی اور وزیراعظم بنیں۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران طارق رحمان نے معیشت کی بحالی، غریب طبقے کے لیے مالی امداد میں اضافے، گارمنٹس انڈسٹری پر انحصار کم کرنے، اور کھلونوں، لیدر اور زرعی مصنوعات جیسی صنعتوں کو فروغ دینے کے وعدے کیے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کے عہدے کے لیے دو مدتوں یا دس سال کی آئینی حد مقرر کرنے کی تجویز بھی دی ہے تاکہ مستقبل میں شخصی اقتدار اور آمریت کے امکانات کو روکا جا سکے۔

ماضی کے برعکس، طارق رحمان اب ایک نرم لہجے اور مصالحت پسند سیاستدان کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ وہ انتقامی سیاست کو مسترد کرتے ہوئے قومی مفاہمت، امن اور ادارہ جاتی استحکام پر زور دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کو اس وقت سب سے زیادہ سیاسی برداشت اور یکجہتی کی ضرورت ہے تاکہ ملک کو معاشی اور سیاسی بحرانوں سے نکالا جا سکے۔

انتخابات سے قبل ڈھاکہ سمیت بڑے شہروں میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور فوج و قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل گشت کر رہے ہیں۔

اس وقت عالمی مبصرین کی نظریں 12 فروری کے انتخابات پر جمی ہوئی ہیں، جنہیں بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر الیکشن کے نتائج توقعات کے مطابق آئے تو طارق رحمان نہ صرف اپنی والدہ کے سیاسی ورثے کو آگے بڑھائیں گے بلکہ ایک بار پھر ضیا خاندان کو اقتدار کے ایوانوں تک واپس لے آئیں گے۔

Back to top button