خالدہ ضیا کے بعد ان کے بیٹے طارق رحمان وزیراعظم بننے کو تیار

بنگلہ دیش کے انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد بیگم خالدہ ضیا کی بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے ان کے بیٹے اور پارٹی چیئرمین طارق رحمان کو اگلا وزیرِاعظم نامزد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یوں بنگلہ دیش کی سیاست میں یہ دوسرا موقع ہوگا کہ ایک ہی خاندان کے دو افراد وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچے۔ اس سے قبل شیخ مجیب الرحمن اور ان کی بیٹی شیخ حسینہ واجد بھی وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں۔
انتخابی نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے 209 نشستیں جیت کر دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ بنگلہ دیش کے 13ویں انتخابات میں غیر سرکاری نتائج کے مطابق بنگلہ دیش کی جماعتِ اسلامی نے 68 نشستیں حاصل کیں۔ قومی شہری پارٹی نے 6 جیتی ہیں، جبکہ آزاد امیدواروں نے 7 نشستیں اپنے نام کیں۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش خلیفۃ مجلس نے 2، اسلامی اْندولان بنگلہ دیش، بنگلہ دیش جتیہ پارٹی، گونو اوڈھیکار پریشاد اور گنا سمہتی اْندولان نے ایک ایک نشستیں جیتی ہیں۔ یہ نتائج 297 حلقوں کے غیر حتمی اعداد و شمار پر مبنی ہیں، جب کہ دو حلقوں کے نتائج عدالت کے احکامات کی وجہ سے مؤخر ہیں۔
اہم بات یہ ہے کہ حسینہ واجد کو اقتدار سے بے دخل کرنے والی سٹوڈنٹس موومنٹ کے رہنماؤں کو توقع سے بہت کم نشستیں ملی ہیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ اس نے بنیاد پرست اور خواتین مخالف جماعت اسلامی کے ساتھ انتخابی اتحاد کر لیا تھا۔ بی این پی کے سینئر رہنما امیر خسرو محمود چوہدری کا کہنا ہے کہ پارٹی چیئرمین طارق رحمان ہی وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار ہوں گے۔ طارق رحمان بنگلہ دیش کی سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا اور ملک کے سابق فوجی صدر ضیا الرحمان کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ وہ 20 نومبر 1965 کو پیدا ہوئے، تاہم بعض سرکاری دستاویزات میں ان کی تاریخِ پیدائش 1968 درج ہے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے ڈھاکہ کے بی اے ایف شاہین کالج میں حاصل کی اور بعد ازاں ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں داخلہ لیا، اگرچہ ان کی تعلیمی تکمیل کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ حالیہ انتخابی حلف نامے میں ان کی تعلیمی قابلیت اعلیٰ ثانوی تعلیم درج کی گئی ہے۔
سیاسی طور پر وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس نے بنگلہ دیشی سیاست پر گہرا اثر ڈالا ہے۔ 1980 کی دہائی میں انہوں نے فوجی حکمران حسین محمد ارشاد کے خلاف تحریک میں حصہ لیا۔ 1988 میں وہ باضابطہ طور پر بی این پی میں شامل ہوئے اور بعد ازاں 1991 کے انتخابات کے دوران پارٹی سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 2001 کے انتخابات میں بی این پی کی قیادت میں چار جماعتی اتحاد نے دو تہائی اکثریت حاصل کی، جس کے بعد طارق رحمان پارٹی کے اندر ایک بااثر رہنما کے طور پر ابھرے۔
2007 میں فوجی حمایت یافتہ نگران حکومت کے قیام کے بعد طارق رحمان کو کرپشن کے الزامات میں گرفتار کیا گیا اور انہوں نے 18 ماہ جیل میں گزارے۔ ستمبر 2008 میں رہائی کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ لندن منتقل ہو گئے۔ بعد ازاں انہوں نے برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کی۔ ان پر کئی مقدمات قائم کیے گئے، جن میں 2004 میں ڈھاکہ میں تب کی اپوزیشن رہنما شیخ حسینہ کے جلسے پر ہونے والے دستی بم حملے کا مقدمہ بھی شامل تھا۔ عوامی لیگ کے دورِ حکومت میں انہیں اس مقدمے میں سزا سنائی گئی، تاہم سیاسی تبدیلیوں کے بعد انہیں قانونی ریلیف ملا۔ بی این پی ہمیشہ ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتی رہی ہے۔
2018 میں بیگم خالدہ ضیا کو کرپشن کیس میں قید کی سزا کے بعد طارق رحمان نے لندن سے پارٹی کے قائم مقام چیئرمین کے طور پر قیادت سنبھالی۔ انہوں نے ویڈیو لنکس اور سوشل میڈیا کے ذریعے پارٹی کارکنوں سے رابطہ برقرار رکھا اور تنظیمی ڈھانچے کو متحد رکھنے کی کوشش کی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق جلاوطنی کے دوران پارٹی کو متحرک رکھنا ان کی اہم کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگست 2024 میں سیاسی منظرنامے میں بڑی تبدیلی کے بعد، جب شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا، طارق رحمان کی وطن واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔ وہ 25 دسمبر 2025 کو ڈھاکہ واپس آئے۔ 30 دسمبر کو خالدہ ضیا کے انتقال کے بعد 9 جنوری 2026 کو بی این پی کی نیشنل اسٹینڈنگ کمیٹی کے اجلاس میں انہیں باضابطہ طور پر پارٹی کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا۔ انہوں نے ملک بھر میں انتخابی مہم کی قیادت کی اور پہلی بار قومی پارلیمانی انتخابات میں براہِ راست حصہ لیا۔
بنگلادیش ریفرنڈ: عوام نے آئینی اصلاحات کے حق میں فیصلہ سنا دیا
اب جبکہ بی این پی کو واضح برتری مل چکی ہے، تو پارٹی نے انہیں وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق طارق رحمان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ ماضی کے تنازعات اور الزامات کے سائے سے نکل کر خود کو ایک قومی سطح کے رہنما کے طور پر منوائیں۔ ان کی سیاسی زندگی قید، مقدمات، جلاوطنی اور خاندانی سانحات سے عبارت رہی ہے، اور اب اگر وہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہیں تو انہیں ایک منقسم سیاسی ماحول میں مفاہمت اور استحکام کی راہ ہموار کرنا ہو گی۔
