خامنہ ای کا قتل: ملک گیر مظاہرے، کراچی میں لوگ کس نے مارے؟

 

 

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد پاکستان بھر میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور پر تشدد واقعات کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اتوار کو سب سے زیادہ کشیدہ صورت حال کراچی میں دیکھی گئی جہاں امریکی قونصل خانے کے باہر اکٹھے ہونے والے مظاہرین نے عمارت کو نظر آتش کرنے کی کوشش کی جس پر بلڈنگ میں موجود امریکی میرین فورس نے فائرنگ کر دی جس سے 9 افراد مارے گئے جب کہ دو درجن سے زائد زخمی ہوئے۔

 

عینی شاہدین اور مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اتوار کی صبح مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کی اپیل پر بڑی تعداد میں مظاہرین صدر اور ٹاور کے علاقوں سے مارچ کرتے ہوئے امریکی قونصل خانے کی جانب بڑھے۔ ابتدا میں احتجاج پُرامن تھا تاہم دوپہر تک صورتحال کشیدہ ہو گئی جب مشتعل افراد نے سکیورٹی بیریئرز ہٹانے اور مرکزی گیٹ کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی۔ بعض ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند افراد گیٹ عبور کر کے اندرونی حصے تک پہنچ گئے اور استقبالیہ کے شیشوں کو نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد کچھ مظاہرین نے امریکن قونصلیٹ کی عمارت کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور ربر کی گولیوں کا استعمال کیا۔ تاہم حالات تب مزید بگڑ گئے جب قونصل خانے کی عمارت کے اندر تعینات امریکی میرین سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ شروع ہو گئی۔ سرکاری سطح پر فائرنگ کرنے والوں کے بارے میں واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، لیکن 9 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ بتیس زخمیوں کو طبی امداد کے لیے کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں پہنچایا گیا۔ نجی ریسکیو سروسز نے بھی اموات کی تصدیق کی ہے۔

 

اتوار کی شام تک کراچی کے مختلف اضلاع سے مزید نفری طلب کر لی گئی اور رینجرز کے دستے بھی حساس مقامات پر تعینات کر دیے گئے۔ پولیس حکام نے مظاہرین سے مذاکرات کر کے انہیں بحریہ کالج کے مقام پر احتجاج کی پیشکش کی، تاہم مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ وہ قونصل خانے کے سامنے ہی دھرنا دیں گے اور امریکی پرچم اتارنے کا مطالبہ بھی کرتے رہے۔ شہر کے مرکزی شاہراہوں پر ٹریفک معطل رہی جبکہ کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔

 

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی اتوار کے روز کشیدگی برقرار رہی جہاں ریڈ زون اور ڈپلومیٹک انکلیو جانے والے تمام راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے۔ آبپارہ چوک سے نکلنے والے مظاہرین نے امریکی سفارت خانے کی جانب مارچ کا اعلان کیا جس پر پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ پتھراؤ کے واقعات میں متعدد اہلکار زخمی ہوئے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ایف سی اور رینجرز کو الرٹ رکھا گیا ہے اور سفارتی تنصیبات کی حفاظت کے لیے تین تہوں پر مشتمل حصار قائم کیا گیا ہے۔

 

لاہور میں امریکی قونصل خانے کے باہر بھی مظاہرین کی بڑی تعداد جمع ہوئی۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے شیلنگ کی جبکہ بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ اسی طرح پشاور اور دیگر شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں جن میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

 

گلگت بلتستان کے علاقوں گلگت اور سکردو میں مظاہرے زیادہ شدت اختیار کر گئے جہاں مشتعل افراد نے اقوام متحدہ کے دفاتر کو نذر آتش کر دیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان کئی گھنٹوں تک جھڑپیں جاری رہیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ سکردو میں ایک ڈی ایس پی سمیت کئی پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے۔ مقامی انتظامیہ نے رینجرز طلب کر کے علاقے میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا ہے اور مذہبی و سیاسی قیادت سے رابطے شروع کر دیے گئے ہیں تاکہ حالات کو قابو میں رکھا جا سکے۔

 

آزاد کشمیر کے مختلف شہروں میں بھی خامنہ ای کے قتل کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور مرکزی شاہراہوں پر دھرنے دیے گئے۔ مظاہرین نے ایران کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا نوٹس لے۔

 

ادھر امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور پاکستان میں موجود امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور مقامی خبروں پر نظر رکھیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سرکاری و سفارتی املاک کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: پاکستان کی فضائی حدود سے اوور فلائنگ میں غیر معمولی اضافہ

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور خامنہ ای کی موت نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی شدید سیاسی و عوامی ردعمل کو جنم دیا ہے۔ پاکستان میں جاری مظاہرے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ علاقائی کشیدگی کے اثرات سرحدوں سے باہر بھی گہرے ہو سکتے ہیں، اور اگر فوری سفارتی کوششیں نہ کی گئیں تو حالات مزید سنگین رخ اختیار کر سکتے ہیں۔

Back to top button