خان کی القادر یونیورسٹی 4 برس میں صرف 200 طلبہ کو داخلہ دے پائی

عمران خان اور انکی تیسری بیوی بشریٰ بی بی کو جس القادر ٹرسٹ نامی یونیورسٹی کے سکینڈل میں ممکنہ طور پر قید کی سزا کا سامناہےوہ پچھلے چار برس میں صرف 200 طلباء کو داخلہ دینے میں کامیاب ہو سکی ہے، حالانکہ اس کا اصل ٹارگٹ ایک سال میں ہزار سے زائد طلبہ کو داخلہ دینے کا تھا۔

یاد ریے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف نیب میں القادر یونیورسٹی سکینڈل کے حوالے سے جو کیس چل رہا ہے اس میں الزام ہے کہ انہوں نے برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی یا این سی اے سے واپس لائے گئے 190 ملین پاؤنڈز کے بدلے میں بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے کروڑوں روپے کے عطیات اور 458 کنال اراضی حاصل کی۔ اس کیس میں سابق وزیراعظم عمران خان کو اختیارات کے ناجائز استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا ہے۔ خیال رہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں شروع کی گئی القادر یونیورسٹی روحانی اور مذہبی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے قائم کی گئی تھی، لیکن حال یہ ہے کہ یہ یونیورسٹی ابھی تک پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن سے بھی منظور نہیں ہو پائی۔ ابھی تک القادر یونیورسٹی سالانہ بنیادوں پر سرکار سے الحاقی سرٹیفکیٹ لے کر چل رہی ہے، حالانکہ اس کے ابتدائی اشتہارات میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ یہ سرکاری طور پر منظور شدہ یونیورسٹی ہے جس کے پاس الحاق کا سرٹیفکیٹ بھی موجود ہے۔

القادر یونیورسٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد الرحمٰن نے تصدیق کی ہے کہ ان کی یونیورسٹی ابھی تک پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تسلیم شدہ نہیں ہے۔ انکا کہنا تھا کہ اب القادر یونیورسٹی کا سٹیٹس القادر کالج کا ہے کیونکہ اسے صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن سے ڈگری دینے کی اجازت نہیں ملی۔ پہلے سال میں صرف 41 اور دوسرے سال میں صرف 60 طلباء کے داخلے کے حوالے سے سوال پر ڈاکٹر امجد نے بتایا کہ الحاق کے مسائل کی وجہ سے طلبہ تھوڑی تعداد میں داخلہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سال 2021 سے 2025 تک القادر ٹرسٹ کل 200 طلباء کو داخلہ دے چکا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ ہمارے داخلے کے معیار کافی سخت ہیں، جس میں طلباء کے لیے داخلہ امتحان اور انٹرویو دونوں پاس کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، ہم تسلیم شدگی کے کچھ ضوابطی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ القادر یونیورسٹی کی پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظوری نہ ہونے نے اس کی ساکھ کو خراب کیا ہے۔ جب تدریسی عملے کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو ڈاکٹر امجد نے کہا کہ القادر کالج میں اس وقت 12 باقاعدہ فیکلٹی ممبران ہیں، جن میں سات پی ایچ ڈی ہولڈرز اور پانچ ماسٹرز ڈگری کے حامل ہیں۔ مہمان فیکلٹی کے اضافے کے ساتھ، تدریسی عملے کی کل تعداد 80 ہو جاتی ہے۔

فیس کے ڈھانچے بارے ایک سوال پر القادر کالج کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ ہم اپنے 95 فیصد طلباء کو سکالرشپس فراہم کرتے ہیں تاکہ انکا ادارہ مستحق امیدواروں کے لیے قابل رسائی بن سکے۔ انکا کہنا تھا کہ ہم طلباء کو مفت کھانا بھی فراہم کرتے ہیں، جس سے 50 طلباء مستفید ہوتے ہیں اور اس پر 5 لاکھ روپے ماہانہ کی لاگت آتی ہے، جو مقامی عطیہ دہندگان سے فنڈ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 95 فیصد طلباء کالج کے ہوسٹل میں رہتے ہیں، جن میں تمام صوبوں کے طلباء شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 2021 میں پہلے بیچ میں 23 طلباء میں سے 16 خواتین اور 7 مرد تھے، جو 2025 میں گریجویٹ ہوں گے۔ سال 2024 میں 100 طلباء کو داخلہ دیا گیا، جن میں سے 70 طلبہ نے مینجمنٹ سائنسز کا انتخاب کیا اور 30 نے بی ایس اسلامی تعلیمات میں داخلہ لیا۔ زیادہ تر طلباء مینجمنٹ سٹڈیز کو اسلامی تعلیمات پر ترجیح دیتے ہیں۔ القادر کے  ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بتایا کہ کالج کا سالانہ خرچ تقریباً سات ملین روپے ہے۔ انہوں نے حکومت کے محکموں کی جانب سے ٹرسٹ کی خیرات کی حیثیت کی منظور سے متعلق چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی۔ انکا کہنا تھا کہ اسکے باوجود ہم انفرادی عطیہ دہندگان پر انحصار کرتے ہیں جو طلباء کی ضرورت کے مطابق فنڈ فراہم کرتے ہیں۔

Back to top button