خان کی بنی گالہ منتقلی!

تحریر : انصار عباسی
بشکریہ : روزنامہ جنگ
پاکستان کی موجودہ سیاسی فضا میں کشیدگی، عدم اعتماد اور محاذ آرائی اس نہج پر پہنچ چکی ہے جہاں کسی بھی چھوٹی مفاہمتی پیش رفت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہو جاتی ہے، ڈیل کی باتیں ہونے لگتی ہیں، حکومت کی تبدیلی تک کی افواہیں پھیلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ کوئی نرم قدم اٹھائے یا دوسرا فریق بات چیت کی طرف مائل ہو جائے تو اس سے افواہ ساز سرگرم ہو جاتے ہیں، یوٹیوبرز کی دیہاڑیاں لگ جاتی ہیں اور جو بہتر کام ہونا چاہیے اور جسکے دور رس مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں وہ نہیں ہو پاتا۔ لیکن میری دانست میں ریاست کو ایسے افواہ سازوں اور جھوٹے یوٹیوبرز کی پروا نہیں کرنی چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ بشری بی بی کی ممکنہ طور پر بنی گالہ منتقلی اسی نوعیت کا ایک قدم ہوسکتا ہے جو سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ قانون میں یہ گنجائش موجود ہے کہ کسی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا جائے۔ ماضی میں بھی پاکستان میں ایسی مثالیں ملتی ہیں جب سکیورٹی، صحت یا سیاسی مصلحت کے تحت اہم شخصیات کو جیل کے بجائے کسی مخصوص مقام پر نظربند رکھا گیا۔ بنی گالہ چونکہ عمران خان کی رہائش گاہ ہے، اس لیے وہاں مناسب سکیورٹی اور انتظامی کنٹرول کے ساتھ انہیں منتقل کرنا نہ تو غیرقانونی ہوگا اور نہ ہی غیر معمولی۔ اس اقدام سے ایک طرف اُن کی صحت اور علاج معالجے کی ضروریات بہتر انداز میں پوری ہوسکیں گی اور دوسری طرف حکومت بھی انسانی ہمدردی کا مثبت پیغام دے سکے گی۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ عمران خان کی صحت خصوصاً آنکھ کے علاج کے حوالے سے اُن کی فیملی اور پارٹی کی طرف سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ غیر سیاسی ڈاکٹرز کی رپورٹ پہلے ہی سامنے آچکی ہے لیکن فیملی اور پارٹی کے اعتماد کے ڈاکٹرز کو بھی باقاعدہ رسائی دی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ کسی بھی قیدی کو علاج کی سہولت دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، اور جب معاملہ ایک سابق وزیر اعظم اور سابق کرکٹ ہیرو کا ہو تو یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس اقدام سے حکومت بشمول اسٹیبلشمنٹ اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے۔ سختی کے بجائے نرمی کا مظاہرہ کرنا چاہیے جو سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔اس تناظر میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کردار اہم ہو سکتا ہے کیوں کہ نہ صرف وہ فیلڈ مارشل کے قریب ہیں بلکہ وہ ایک عرصے سے سیاسی جوڑتوڑکیلئے پسِ پردہ رابطوں میں مصروف رہے ہیں۔ محسن نقوی کےگزشتہ ایک دو سال سے تحریک انصاف کے کچھ رہنماؤں سے رابطے بھی رہے۔ اگر وہ انہی چینلز کو استعمال کرتے ہوئے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بنی گالہ منتقلی کے لیے کوئی قابلِ قبول فارمولا تیار کریں تو یہ ایک بڑی پیش رفت ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملاقاتوں کے معاملے کو بھی انسانی بنیادوں پر آسان بنایا جا سکتا ہے تاکہ خاندان کے افراد اور قریبی سیاسی ساتھی اُن سے مل سکیں۔ یہاں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کے راستے کو ترجیح دے۔ اگر پارٹی رہنما سنجیدگی سے بات چیت کریں اور کسی درمیانی حل پر آمادہ ہوں تو حکومت کیلئے بھی کوئی قدم اٹھانا آسان ہو جائیگا۔ سیاست میں ضد اور انا اکثر مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں، جبکہ لچک اور تدبر راستے کھول دیتے ہیں۔ بنی گالہ منتقلی کا ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ ملک میں جاری سیاسی کشیدگی میں کمی آئے گی۔ موجودہ حالات میں معیشت، خارجہ پالیسی اور داخلی سلامتی جیسے بڑے چیلنجز حکومت اور اپوزیشن دونوںسے سنجیدہ توجہ چاہتے ہیں۔ اگر سیاسی ماحول نسبتاً پرسکون ہو جائے تو قومی مسائل پر توجہ دینا آسان ہو سکتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ریاست کی طاقت صرف سختی میں نہیں بلکہ برداشت اور حکمت میں بھی ہوتی ہے۔ اگر حکومت یہ قدم اٹھاتی ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ وہ سیاسی حکمت اور بردباری کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ اسی طرح اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ مثبت ردعمل دے اور تصادم کے بجائے مفاہمت کی سیاست کو فروغ دے۔ پاکستان اس وقت جس نازک دور سے گزر رہا ہے، وہاں ہر ایسا قدم جو تناؤ کم کرے، قابلِ تحسین ہونا چاہیے۔ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی بنی گالہ منتقلی سےکوئی کرشمہ تو نہیں ہو سکتا لیکن اس سے سیاسی نظام اب بھی مکالمے اور اعتدال کی طرف لوٹ سکتا ہے جس کے رستہ میں بدقسمتی سے سب سے بڑی رکاوٹ عمران خان خود رہے۔ اگر ایسا ہو گیا تو شاید یہی چھوٹا سا قدم بڑی سطح پر قومی مفاہمت کے سفرکا آغاز ثابت ہوجائے۔
