خواجہ سعدرفیق کاعمران خان کے معاملے پرنوازشریف کوبات چیت کامشورہ

سینئر لیگی رہنما اور سابق وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ بانی تحریک انصاف عمران خان کی کوئی ضمانت دینے کو تیار نہیں، اس وقت نوازشریف کو کردار ادا کرنا پڑے گا۔
خواجہ سعد رفیق نے ایوان اقبال میں منعقدہ خواجہ رفیق شہید کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقریب میں آنے والی تمام شخصیات کا شکریہ ادا کرتا ہوں، تمام سیاسی کارکنوں نے تحمل سے بات کو سنا، یہ تقریب لاہور کی سب سے پرانی سیاسی تقریب کا روپ دھار چکی ہے۔
سعد رفیق نے کہا کہ خواجہ رفیق شہید کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے، طاقت کا استعمال ریاست کو آگے لے کر نہیں جاسکتا، یہاں پاکستان بنتے ہی فوجی جرنیلوں جاگیرداروں کا گٹھ جوڑ بن گیا، پاکستان بنانے والوں کو ملک دشمن غدار کہا گیا، آئین کو پامال کرنے والوں کو سلیوٹ مارے گئے۔
ان کا کہنا تھا کہ سوچتا ہوں کیا پاکستان کے سب وزیراعظم غدار تھے، کیا سب جج اور چیف محب وطن تھے، جمہوریت ہمارے خمیر میں ہے، یہ قوم جمہوریت سے مایوس نہیں ہے ، میں اول و آخر مسلم لیگی ہوں۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ جس دن جیل سے نکلا اسی دن کہا تھا کہ انتقام نہیں لوں گا، میرے حلقہ کے چار ٹکرے کئے گیے، کچھ مہربانی جنرل فیض حمید نے کی تھی، میں بھی اسمبلی نہیں جانا چاہتا تھا میں حالات دیکھ چکا تھا، ووٹ کی طاقت کو مجروح ہونے سے بچایا جائے۔
سابق وفاقی وزیر سعد رفیق نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہماری ساری پارٹی پر ایکشن کیا، جب کسی کو سزا ہوتی ہے مجھے کبھی خوشی نہیں ہوتی، ہم نے سیاست کو داو پر لگا کر ریاست کو بچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کی حکومت تاریخی کام کر رہی ہے، سب کام اور محنت کے ثمرات نہیں مل رہے، آج پنجاب کو گالی بنادیا گیا ہے، میں چاہتا ہوں کہ سبق سیکھا جائے، پاکستان کے نام پر آکٹھا ہونا چاہئے، لڑائیوں میں پاکستانیوں کا اوور کتنا وقت ضائع ہوگا۔
سعد رفیق نے کہا کہ سیاست دانوں کا کام ہے کہ وہ اپنے آپ کو اہل ثابت کریں ، ہم نے پاکستان کیلئے پیپلزپارٹی کو برداشت کیا، ہمیں لوگوں سے بات کرنا ہوگی، بانی تحریک انصاف کی اپنی غلطیاں بہت ہیں، دوبار ہم گئے لیکن بانی تحریک انصاف نہیں مانے، اگر وہ اپوزیشن میں چلے جاتے تو نہ 9 مئی ہوتا نہ وہ جیل میں ہوتے۔
