خیبرپختونخوا حکومت کا ضلع کرم میں آپریشن کا فیصلہ

خیبرپختونخوا کی حکومت نے ضلع کرم کے کشیدہ علاقوں میں امن و امان کی بحالی کےلیے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کا حتمی فیصلہ کرلیا۔
ضلع کرم کے کشیدہ علاقوں بگن،چھپری، چھپری پروان،مندوری میں آپریشن کیا جائےگا،تاکہ علاقے سے بے امنی کا خاتمہ کیا جا سکے۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کرم کی جانب سے جاری کیےگئے نوٹی فکیشن میں کہاگیا ہےکہ آپریشن کے متاثرین کےلیے عارضی کیمپ قائم کیے جائیں گے۔
نوٹی فکیشن میں کہاگیا ہےکہ کرم ایجنسی میں آپریشن کے دوران متاثرین کےلیے کیمپ ضلع ہنگو میں قائم کیے جائیں گے۔
صوبائی حکومت کی جانب سے ہنگو میں 2 کالجزز،ریسکیو کمپاؤنڈ اور جوڈیشل بلڈنگ میں کیمپ قائم کیےجائیں گے۔
واضح رہےکہ 2 روز قبل ضلع کرم کے علاقے بگن میں امدادی سامان پاراچنار لے جانےوالے گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ کر دی گئی تھی،جس کے نتیجے میں ایک سپاہی سمیت متعدد افراد شہید ہوئےتھے، 4 ڈرائیورز کی تشدد زدہ لاشیں بھی بگن کے علاقے سےملی تھیں۔
ہنگو کے اسسٹنٹ کمشنر سعید منان نے ٹل سے پاراچنار امدادی سامان ل جانے والی 35 گاڑیوں پر مشتمل قافلے پر حملے کی تصدیق کی تھی۔
بعد ازاں خبر آئی تھی کہ امدادی سامان پاراچنار لےجانے والے گاڑیوں کے قافلے پر بگن میں حملے کےنتیجے میں اموات کی تعداد 10 تک جا پہنچی ہے۔
پی ٹی آئی کوشش کر رہی ہے کہ کوئی ٹرمپ کارڈ کام آجائے: شرجیل میمن
ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر (ڈی ایچ کیو) قیصر عباس کے مطابق گاڑیوں کے قافلے پر حملے کے نتیجے میں اب تک جن افراد کی اموات کی تصدیق ہوئی ہے،ان میں ایک اور سکیورٹی اہلکار، 6 ڈرائیورز اور 2 مسافر بھی شامل ہیں۔
ضلع کرم میں کرفیو نافذ کرکے سکیورٹی فورسز نے پوزیشن سنبھال لی تھیں اور علاقے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے گشت بھی کیا جارہا ہے۔
