خیبرپختونخوا : حکومت اور اپوزیشن میں سینیٹ انتخابات بلا مقابلہ کرانے پر پیش رفت

خیبرپختونخوا میں حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے مابین بلا مقابلہ سینیٹ انتخابات کے معاملے پر اتفاق کرلیا گیا ہے۔ فریقین کے درمیان رابطے اور مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پشاور میں ہونے والی ایک اہم ملاقات میں دونوں فریقین کے درمیان 6/5 فارمولے پر بڑی حد تک اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ اس فارمولے کے تحت پی ٹی آئی کو 6 جب کہ اپوزیشن کو 5 نشستیں دی جائیں گی۔ تاہم پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت کے اندرونی معاملات پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو پی ٹی آئی کے باقی امیدواروں کو دستبردار کرانے کی ذمے داری سونپی گئی ہے،تاکہ فارمولے کو عملی شکل دی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ صوبائی حکومت بھی چاہتی ہے کہ امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوں تاکہ ممکنہ سیاسی نقصان سے بچا جاسکے، جب کہ اپوزیشن جماعتیں پہلے ہی باہمی حکمت عملی پر متفق ہیں اور متفقہ امیدواروں کے انتخاب کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
مذاکرات کے تسلسل میں حکومتی و اپوزیشن نمائندوں کے درمیان مزید ملاقاتیں ہوئیں، اور آج ایک حتمی اجلاس متوقع ہے جس میں معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے۔
دونوں جانب سے اصولی طور پر بلا مقابلہ انتخاب پر اتفاق کرلیا گیا ہے،تاہم چند نکات پر حتمی فیصلہ باقی ہے۔
ذرائع کےمطابق اگر یہ معاہدہ طے نہ پایا اور انتخابات ووٹنگ کی طرف گئے، تو صورت حال حکومت اور اپوزیشن دونوں کےلیے غیریقینی ہوسکتی ہے، اس لیے مکمل کامیابی یقینی بنانے کی کوشش جاری ہے۔
پارٹی رہنماؤں کے اختلافات پر عمران خان نے وارننگ دے دی : بیرسٹرگوہر
یاد رہےکہ خیبرپختونخوا سے سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخابات 21 جولائی کو ہوں گے، جن میں 7 جنرل، 2 خواتین، اور 2 ٹیکنوکریٹ نشستیں شامل ہیں۔
