خیبر پختونخواہ PTI بحران کا شکار، جنید اکبر کیوں ناراض

خیبرپختونخوا میں پچھلے 13 برس سے برسر اقتدار تحریک انصاف اب ایک اور اندرونی بحران کا شکار ہو گئی ہے جس کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ خود جہاں پارٹی کے صوبائی صدر اور سینئر پارلیمانی رہنما جنید اکبر ہیں جنہوں نے کھل کر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے نہ صرف اپنی پارلیمانی پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے بلکہ پارٹی سے لاتعلقی کے واضح اشارے بھی دے دیے ہیں۔
جنید اکبر کا یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پی ٹی آئی پہلے ہی صوبے میں تنظیمی کمزوری، اندرونی اختلافات اور عوامی حمایت میں بتدریج کمی کا سامنا کر رہی ہے۔ جنید اکبر کا شمار خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جو پارٹی کی تنظیمی سیاست، پارلیمانی کردار اور مزاحمتی بیانیے کے حوالے سے ایک واضح اور دو ٹوک مؤقف رکھتے رہے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے صوبائی سیاست میں سرگرم ہیں اور انہیں ان چند رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے جو ایوان کے اندر حساس قومی معاملات، بالخصوص دہشت گردی اور وفاقی پالیسیوں پر کھل کر بات کرنے کے حامی رہے ہیں۔ تاہم حالیہ مہینوں میں یہی اندازِ سیاست پارٹی کی پارلیمانی قیادت کے لیے ناگوار بنتا چلا گیا۔
پارلیمانی پارٹی کے واٹس ایپ گروپ میں بھیجے گئے اپنے سخت پیغام میں جنید اکبر نے کہا کہ انہیں گزشتہ رمضان کے بعد اور بجٹ سیشن کے دوران ایوان میں مؤثر انداز میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ میں روزانہ چند مخصوص افراد کو ہی بولنے کا موقع ملتا ہے جبکہ دیگر ارکان کو محض ڈیسک بجانے تک محدود رکھا جاتا ہے۔ جنید اکبر کے مطابق جب انہوں نے بولنے کی کوشش کی تو انہیں دانستہ طور پر نظرانداز کیا گیا، جس سے ان کے اندر شدید احساسِ محرومی نے جنم لیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر منتخب نمائندوں کو عوامی مسائل پر بات کرنے کا حق ہی نہ دیا جائے تو ان کی پارلیمنٹ میں موجودگی کا مقصد کیا رہ جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے چند افراد نے ایوان کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھ رکھا ہے اور باقی ارکان کو خاموش تماشائی بنا دیا گیا ہے۔ جنید اکبر نے اس رویے کو غیر جمہوری اور توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شرافت اور خاموشی کو کمزوری سمجھا جا رہا ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے پارلیمانی پارٹی کی قیادت، خصوصاً چیف وہپ کے کردار پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔ جنید اکبر کا کہنا تھا کہ یہ کون سا طریقہ ہے کہ ایک فرد یہ طے کرے کہ روزانہ کون بولے گا اور کون نہیں۔ انہوں نے اس طرزِ عمل کو غیر انسانی اور آمرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں دہشت گردی جیسے سنگین معاملات پر سوال اٹھانے کی کسی میں ہمت نہیں رہی، جنید اکبر نے پارلیمانی پارٹی کو درباری ماحول سے تشبیہ دیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سچ بولنے کے بجائے محض چہرے دکھانے کی سیاست کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسائل پر بات کرنے کے بجائے چند مخصوص افراد کو نمایاں کیا جا رہا ہے جبکہ اختلافی آوازوں کو دبایا جا رہا ہے۔
سہیل آفریدی 8 فروری کی احتجاجی ریلی سے غائب کیوں تھے؟
اپنی ناراضی کے عروج پر پہنچتے ہوئے جنید اکبر نے اعلان کیا کہ ان کی برداشت ختم ہو چکی ہے اور وہ آج کے بعد نہ کسی پارلیمانی کمیٹی کا حصہ رہیں گے، نہ پارلیمانی لیڈر اور نہ ہی چیف وہپ کو تسلیم کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ سپیکر سے بات کر کے آزاد حیثیت سے اسمبلی میں بیٹھیں گے اور اب پارلیمانی پارٹی کے ساتھ نہیں بیٹھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی ہے کہ ان کے اپنے لوگ ہی انہیں بولنے نہیں دیتے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق جنید اکبر کی بغاوت دراصل تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں جاری اندرونی اختلافات کی ایک کڑی ہے۔ پارٹی کے اندر طویل عرصے سے نظریاتی کارکنوں اور مفاہمتی سیاست کے حامی گروپس کے درمیان خلیج موجود ہے، جو اب کھل کر سامنے آ رہی ہے۔ کئی رہنما خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں جبکہ کچھ رہنما جنید اکبر کی طرح اب کھلے عام قیادت کے فیصلوں پر سوال اٹھانے لگے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا، جو کبھی تحریک انصاف کا مضبوط سیاسی قلعہ سمجھا جاتا تھا، اب وہاں پارٹی کی تنظیمی گرفت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ ضلعی سطح پر تنظیمیں غیر فعال ہیں، عوامی رابطہ مہم تقریباً ختم ہو چکی ہے اور اسمبلی میں پی ٹی آئی ایک مؤثر اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ جنید اکبر جیسے سینئر رہنما کی ناراضی کو پارٹی زوال کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ خدشہ بھی زیرِ بحث ہے کہ اگر جنید اکبر نے واقعی پارٹی سے علیحدگی اختیار کی تو اس کے اثرات محض ایک فرد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے دیگر ناراض رہنماؤں کو بھی حوصلہ مل سکتا ہے، جو تحریک انصاف خیبرپختونخوا کے لیے ایک اور بڑے سیاسی بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
