خیبرپختونخواسینیٹ انتخاب،پی ٹی آئی کے6،اپوزیشن کے5امیدوارکامیاب قرار

خیبرپختونخوا اسمبلی میں سینیٹ انتخابات کے تمام نشستوں کے سرکاری نتائج موصول ہو گئے، جن کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے 6 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ اپوزیشن اتحاد کو 5 نشستیں ملیں۔
الیکشن کمیشن نے نتائج کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے، اور ریٹرننگ افسر کی جانب سے کامیاب امیدواروں کو فارم 58 کے تحت سرٹیفکیٹ آف الیکشن جاری کر دیے گئے۔
سرکاری نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے مراد سعید نے 26 ووٹ، فیصل جاوید نے 22، نورالحق قادری اور مرزا گل آفریدی نے 21،21 ووٹ حاصل کیے۔ ٹیکنوکریٹ کی نشست پر اعظم سواتی اور خواتین کی نشست پر روبینہ ناز نے 89،89 ووٹ حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔
دوسری جانب اپوزیشن کے امیدواروں میں پیپلز پارٹی کے طلحہ محمود نے 17، مسلم لیگ (ن) کے نیاز احمد خان نے 18، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے عطا الحق درویش نے 18، اور ٹیکنوکریٹ نشست پر دلاور خان نے 54 ووٹ حاصل کیے۔ خواتین کی نشست پر پیپلز پارٹی کی روبینہ خالد کامیاب ہوئیں۔
سینیٹ الیکشن میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان طے پانے والے "چھ پانچ” کے فارمولے پر مکمل عمل کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور اپوزیشن لیڈر نے اس معاہدے کی نگرانی کی، اور اراکین اسمبلی کو ووٹنگ میں مخصوص ترجیحات کا خیال رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
ابتدائی طور پر پی ٹی آئی کے ناراض ارکان کی وجہ سے بلامقابلہ انتخاب ممکن نہیں تھا، تاہم پارٹی قیادت نے رات گئے چار ناراض اراکین کو منالیا، تاہم خرم ذیشان کے دستبردار نہ ہونے پر پولنگ کرانا ناگزیر ہو گیا۔
الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق، ایوان بالا کی 11 نشستوں کے لیے 145 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیا۔ جنرل نشستوں پر حکومت نے 4 اور اپوزیشن نے 3 امیدوار کھڑے کیے، جبکہ خواتین اور ٹیکنوکریٹ نشستوں پر دونوں جانب سے دو، دو امیدوار میدان میں تھے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جنرل نشستوں پر مراد سعید، فیصل جاوید، مرزا آفریدی اور پیر نورالحق قادری، خواتین نشست پر روبینہ ناز اور ٹیکنوکریٹ پر اعظم سواتی امیدوار تھے۔
اپوزیشن کی طرف سے جنرل نشستوں پر مسلم لیگ (ن) کے نیاز احمد، پیپلز پارٹی کے طلحہٰ محمود، اور جے یو آئی (ف) کے عطا الحق درویش جبکہ خواتین نشست پر روبینہ خالد اور ٹیکنوکریٹ نشست پر دلاور خان میدان میں تھے۔
خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی اتحاد کو 92 اور اپوزیشن کو 53 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے قبل ازیں 2 اپریل 2024 کو یہ انتخابات اس وقت ملتوی کر دیے تھے جب مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین اسمبلی نے اسپیکر کے سامنے حلف نہیں اٹھایا تھا، جس سے الیکٹورل کالج نامکمل رہ گیا تھا۔
سینیٹ الیکشن کے موقع پر میڈیا کو اسمبلی کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سرکاری و نجی ٹی وی نمائندوں کو اسمبلی کے اندر جانے سے روکا گیا، جس کے بارے میں اسمبلی سیکیورٹی انچارج نے بتایا کہ یہ پابندی الیکشن کمیشن کی ہدایت پر عائد کی گئی۔
