سپیکر خیبرپختونخوا کا چیف جسٹس پاکستان کو خط، مخصوص نشستوں پر حلف برداری کو غیر آئینی قرار دے دیا

سپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے مخصوص نشستوں پر حلف برداری کے معاملے پر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط ارسال کردیا ہے۔
خط میں سپیکر بابر سلیم سواتی نے گورنر خیبرپختونخوا کی جانب سے نو منتخب ارکان اسمبلی سے حلف لینے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور اسے آئین سے متصادم قرار دیا۔
بابر سلیم سواتی نے اپنے خط میں مؤقف اپنایا کہ مخصوص نشستوں پر حلف برداری سے متعلق چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے احکامات آئینی دائرہ کار سے تجاوز ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے، اور کورم پورا نہ ہونے پر اجلاس ملتوی کرنا ایک آئینی و قانونی عمل تھا۔
بابر سلیم سواتی نے مزید کہا کہ اجلاس ملتوی کرنے کو غیر حاضری یا آئینی فریضے سے انکار تصور نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے گورنر کو ارکان سے حلف لینے کی ہدایت دے کر آئینی اختیارات سے تجاوز کیا، جو کہ ادارہ جاتی توازن کو نقصان پہنچاتا ہے۔
بابر سلیم سواتی نے شکایت کی کہ انہیں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، اور بغیر عدالتی کارروائی یا باقاعدہ درخواست کے احکامات جاری کیے گئے، جو کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی مثال ہے۔
یاد رہے کہ اتوار کو خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں مخصوص نشستوں پر کامیاب 25 ارکان حلف نہ اٹھا سکے کیونکہ کورم کی نشاندہی پر بابر سلیم سواتی نے اجلاس 24 جولائی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا تھا۔
اس صورت حال پر اپوزیشن جماعتوں نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، جس پر چیف جسٹس نے گورنر کو ارکان سے حلف لینے کی ہدایت کی۔ بعد ازاں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے گورنر ہاؤس میں نو منتخب ارکان سے حلف لیا۔
