فیض حمید تحریک طالبان کو قبائلی علاقوں کا قبضہ دینا چاہتا تھا

ڈی جی آئی ایس پی آر کے پی ٹی آئی کو خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کا سیاسی سہولتکار قرار دینے کے بعد اب عوامی نیشنل پارٹی نے بھی عمران فیض گٹھ جوڑ کو صوبے میں بڑھتی دہشتگردی، خونریزی اور بدامنی کا اصل ذمہ دارقرار دے دیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیئر سیاست دان میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ عمران خان دور میں فیض حمید نے قبائلی علاقوں کو طالبان کے حوالے کرنے کا منصوبہ بنارکھا تھا لیکن اس وقت کی اپوزیشن جماعتوں کی سخت مخالفت کی وجہ سے یہ منصوبہ ناکام رہا تاہم پی ٹی آئی کے دور اقتدار میں خیبرپختونخوا میں کھلے عام طالبان کی سرپرستی کی جاتی رہی۔ عمران خان کے دور میں جو کچھ ہوا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، سب جانتے ہیں کہ قبائلی علاقہ جات میں کون دہشت گردوں کو لا کر کیوں آباد کر رہا تھا اور اس کا اصل مقصد کیا تھا۔ افتخار حیسن کے مطابق آج اسی عمران فیض سہولتکاری کا نتیجہ خیبرپختونخوا کے عوام کو بڑھتی ہوئی دہشتگردی کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔
خیال رہے کہ حالیہ دنوں ڈی جی آئی ایس پی آرلیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا بھی اپنی پریس کانفرنس خیبرپختونخوا حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہنا تھا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے کہا جاتا ہےکہ خیبرپختونخوامیں آپریشن نہیں کرنےدیں گے،ایسے بیانات دے کر یہ ان دہشتگردوں کے منظورنظر بننا چاہتے ہیں،بتایا جائے اگر شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن نہیں کرناتوکیادہشتگردوں کی بیعت کرلیں؟ انہوں نے واضح کیا کہ دہشتگردی کی سہولتکاری برداشت نہیں کی جائے گی۔ ترجمان پاک فوج کا مزید کہنا تھا کہ دہشتگردی کے 80 فیصد واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں سیاسی اور دہشت گردانہ گٹھ جوڑ نشونما پا رہا ہے۔ خیبرپختونخوا میں دہشتگردوں کو سازگار سیاسی ماحول فراہم کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے صوبے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے ترجمان پاک فوج کے الزامات کی سخت تردید کی گئی ہے تاہم اب عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میاں افتخار حسین نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے دعوے کی تصدیق کر دی ہے،
عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور سینیئر سیاست دان میاں افتخار حسین کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تین بار مسلسل برسراقتدار رہنے کے باوجود پاکستان تحریک انصاف امن و امان بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے کیونکہ اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے اس کے پاس کوئی واضح یا مؤثر منصوبہ موجود نہیں۔ اے این پی کے مرکزی رہنما کا پی ٹی آئی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے مزید کہنا تھا کہ یہ تیسری بار ہے کہ صوبے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے مگر امن و امان کی صورتحال بدترین ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی اضلاع میں حکومت خود سرکاری اہلکاروں کو رات کے وقت باہر نہ نکلنے کی ہدایات دے رہی ہے، اگر سرکاری لوگ ہی محفوظ نہیں تو حکومت کس کی ہے؟
میاں افتخار حسین کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وقتی بیانات نہیں بلکہ ٹھوس اور فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہے، اس ناسور کو جڑ سے ختم کیے بغیر امن ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 2014 میں آرمی پبلک سکول کے سانحے کے بعد نیشنل ایکشن پلان کے تحت آپریشنز کی اجازت دی گئی تھی مگر آج تمام فیصلے فائلوں میں دفن ہو چکے ہیں، اجازت بھی ہے مگر عمل درآمد کہیں نظر نہیں آتا۔ میاں افتخار حسین نے کہا کہ فیصلے موجود ہیں لیکن کوئی باہر آنے کو تیار نہیں، مسئلے کے حل کے لیے جہاں ضرورت ہو مذاکرات کیے جائیں اور جہاں ریاستی رٹ چیلنج ہو وہاں بلاامتیاز آپریشن ہونا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی حکومت اونرشپ لینے کو تیار نہیں، جبکہ اے این پی نے اپنے دورِ حکومت میں مالاکنڈ میں مذاکرات بھی کیے اور آپریشن بھی، جس کے نتیجے میں آج بھی وہاں امن قائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فیض حمید نے بہت کوشش کی مگر وہاں بدامنی پیدا نہیں کر سکے۔
میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ آج بھی پنجاب میں کالعدم تنظیمیں سرگرم ہیں، دہشت گردی کے خلاف آپریشن کا آغاز وہاں سے ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی دہشت گردی ختم کرنی ہے تو سب کے خلاف بلا تفریق کارروائی ناگزیر ہے، اس کے بغیر جڑ سے خاتمہ ممکن نہیں۔میاں افتخار حسین کے مطابق دہشت گردی کوئی آج یا کل کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پچھلے 45 برسوں سے مسلط ہے، جو بنیادی طور پر ضیاء الحق کے دور کی پیداوار ہے، اس جنگ میں اسلام اور جہاد کو استعمال کیا گیا، نصاب میں انتہاپسندانہ مواد شامل کیا گیا، اور آج بھی خیبر پختونخوا کے نصاب میں ’ب‘ سے بندوق پڑھائی جاتی ہے جبکہ دیگر صوبوں میں ’ب‘ سے بکری۔ حتیٰ کہ ریاضی کے سوالات میں بھی بندوقوں کو جمع اور تقسیم کیا جا رہا ہے۔
میاں افتخار حسین نے خیبر پختونخوا حکومت کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ہار جائیں اور صرف پی ٹی آئی ہی کامیاب ہو جائے۔ ان کے مطابق یہ حکومت دھاندلی کے نتیجے میں قائم ہوئی ہے اور تصادم کی سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا تیسری بار حکومت کے باوجود پی ٹی آئی نہ عوام کو ریلیف دے سکی اور نہ ہی امن قائم کر سکی، بے روزگاری ہو یا معیشت، ہر شعبہ تباہ ہو چکا ہے لیکن پی ٹی آئی کی تمام تر توجہ اڈیالہ جیل تک محدود ہے، حکومت صرف عمران خان کی رہائی کے لیے سرگرم ہے جبکہ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں۔
