KPK حکومت کا قیدی نمبر 804 پر یوتھیوں کو چونا لگانے کا فیصلہ

 

 

 

پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت نے قیدی نمبر 804 کی مقبولیت سے فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے گاڑیوں کی رجسٹریشن کے لیے ’’عمران خان 804‘‘ کے پرسنلائزڈ نمبر کی فروخت کا اعلان کر دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ میں بعض واقعات اور نشانیاں وقت گزرنے کے ساتھ محض ایک خبر یا واقعہ نہیں رہتیں بلکہ ایک علامت کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں۔ قیدی نمبر 804 بھی ایسا ہی ایک عدد ہے جو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے منسوب ہو کر یوتھیوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ ابتدا میں یہ محض ایک جیل نمبر تھا، مگر رفتہ رفتہ پی ٹی آئی کارکنان کے لیے سیاسی جدوجہد، مزاحمت اور وابستگی کی ایک طاقتور علامت بن گیا ہے۔

 

محکمہ ایکسائز خیبرپختونخوا نے قیدی نمبر 804 سے پی ٹی آئی کارکنان کی اسی وابستگی کو کیش کروانے کیلئے اشتہار جاری کر کے گاڑیوں کے من پسند رجسٹریشن نمبرز یعنی پرسنلائزڈ رجسٹریشن مارکس کی الاٹمنٹ کے لیے بولیاں طلب کر لی ہیں۔اشتہار کے مطابق عمران خان کے نام کے علاوہ خیبرپختونخوا کے مختلف قبائل کے ناموں پر مشتمل نمبر پلیٹس بھی نیلامی کے لیے دستیاب ہوں گی۔ ان میں گنڈاپور، کنڈی، درانی، آفریدی، یوسفزئی، سواتی، وزیر، محسود، خٹک، مہمند، خلیل، ارباب اور خان شامل ہیں۔اسی طرح شہریوں کو مختلف شہروں اور علاقوں کے ناموں پر بھی اپنی مرضی کی نمبر پلیٹ حاصل کرنے کا موقع دیا جا رہا ہے، جن میں پشاور، ملاکنڈ، ایبٹ آباد، ہری پور، کوہاٹ، بنوں، ڈی آئی خان، ہزارہ، مردان اور صوابی شامل ہیں۔محکمہ ایکسائز کے مطابق نیلامی کے لیے دستیاب پرسنلائزڈ نمبرز میں عمران خان 1 اور عمران خان 804 بھی شامل ہیں۔ ان نمبرز کی نیلامی 27 جنوری کو پشاور میں منعقد کی جائے گی۔پی ٹی آئی حلقوں کے مطابق خیبرپختونخوا میں عمران خان اور پی ٹی آئی کی مقبولیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ عمران خان، عمران خان 1 اور عمران خان 804 کی نمبر پلیٹس کی بولی لاکھوں روپے تک جا سکتی ہے۔

 

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ 804 کا نمبر عمران خان سے منسوب کیسے ہوا اور پی ٹی آئی کارکنان میں اس کی مقبولیت کی وجہ کیا ہے؟ مبصرین کے مطابق جب عمران خان کو مختلف قانونی مقدمات کے سلسلے میں گرفتار کر کے جیل منتقل کیا گیا تو جیل کے قواعد و ضوابط کے مطابق انتظامی ریکارڈ کے لیے انہیں ایک قیدی نمبر الاٹ کیا گیا، اسی عمل کے تحت عمران خان کو قیدی نمبر 804 دیا گیا۔ اس نمبر کے انتخاب کے پیچھے نہ کوئی خاص منصوبہ بندی تھی اور نہ ہی اس کا کوئی خفیہ یا علامتی مطلب تھا، بلکہ یہ محض جیل ریکارڈ کا ایک حصہ تھا جو اتفاقاً عمران خان کے نام کے ساتھ درج ہو گیا۔

 

مبصرین کے مطابق عدد 804 بذاتِ خود کسی تاریخی، مذہبی یا عددی فلسفے کی نمائندگی نہیں کرتا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ عمران خان جیل کے ریکارڈ میں اس نمبر کے تحت درج تھے۔ تاہم سیاست میں اعداد اور الفاظ اکثر اپنے لغوی یا سرکاری مطلب سے آگے بڑھ کر عوامی جذبات کے ساتھ جُڑ جاتے ہیں۔ عمران خان کی قید کو ان کے حامیوں نے سیاسی انتقام اور ناانصافی سے تعبیر کیا، جس کے نتیجے میں قیدی نمبر 804 ایک عام عدد کے بجائے ایک جذباتی اور سیاسی علامت میں تبدیل ہو گیا۔یہ نمبر عمران خان سے اس لیے منسوب ہو گیا کیونکہ یوتھیے انہیں ایک اصولی، بے خوف اور طاقتور حلقوں کے سامنے ڈٹ جانے والا رہنما سمجھتے ہیں۔ ایسے میں ان کی گرفتاری اور قید نے ان کے ہر حوالے کو غیر معمولی بنا دیا۔

علی امین گنڈاپور کا عمران خان کے خلاف اعلان بغاوت

جیل میں قیدی نمبر 804 عمران خان کی قید کی سرکاری شناخت ہونے کے باعث آہستہ آہستہ ان کی سیاسی جدوجہد کا ایک استعارہ بن گیا۔ جس کے بعد عمران خان کے حامیوں میں یہ نمبر تیزی سے مقبول ہوا اور پی ٹی آئی کارکنان نے قیدی نمبر 804 کو سوشل میڈیا پروفائلز، ہیش ٹیگز، نعروں، پوسٹروں اور گرافکس میں دھڑا دھڑ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ قیدی نمبر 804 ایک خاموش احتجاج اور اجتماعی شناخت کی علامت بن گیا۔ مبصرین کے مطابق قیدی نمبر 804 کی کہانی اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ سیاست میں بعض اوقات ایک عام سا عدد بھی غیر معمولی طاقت اختیار کر لیتا ہے۔ جیل میں شناخت کے لیے دیا گیا 804 کا یہ عدد اب عمران خان کے چاہنے والوں کے لیے عزم، وفاداری اور جدوجہد کی علامت بن چکا ہے۔اسی وابستگی کو کیش کروانے کے لیے خیبرپختونخوا حکومت نے ’’عمران خان 804‘‘ کی نمبر پلیٹ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ پی ٹی آئی کے حامیوں سے من چاہی رقم حاصل کی جا سکے۔

 

Back to top button