لاہور ہائی کورٹ : پنجاب پراپرٹی اونر شپ ایکٹ، درخواستیں فل بینچ کو منتقل

لاہور ہائی کورٹ نے پنجاب پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت کارروائیوں کے خلاف دائر مزید 18 درخواستیں اعتراضات دور ہونے کےبعد فل بینچ کو بھجوا دیں اور کمیٹیوں کی کارروائیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرتےہوئے حکم امتناعی جاری کردیا۔
لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے پراپرٹی اونر شپ ایکٹ کے تحت کارروائیوں کےخلاف سماعت کے دوران سرکاری وکیل سے استفسار کیاکہ بغیر کسی آرڈر کے زبانی طور پر قبضے کیسے دلوائے جارہے ہیں؟بغیر آرڈر کے کوئی آپ کو کچھ کہے تو کیا آپ مان لیں گے؟آپ تو کہیں گےکہ پہلے آرڈر دکھائیں پھر آگے بات کریں گے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے سرکاری وکیل سے مزید سوال کیا کہ سول کورٹ پابند ہوگی کہ کیس ٹربیونل کو بھجوائے،کیا ٹربیونلز کی جانب سے زبانی احکامات جاری کیے گئے؟تقریباً ڈھائی ماہ بعد آپ نے ٹربیونلز کا نوٹیفکیشن کیا،ابھی تک آپ کے ٹربیونلز نے کام نہیں شروع کیا،نہ عملہ ہےنا یہ معلوم ہے کہ ٹربیونلز کہاں بیٹھیں گے۔
دوران سماعت ایک اور درخواست میں بتایا گیاکہ ہائی کورٹ میں کیس زیر سماعت ہونےکے باوجود ڈپٹی کمشنر نے قبضہ کروادیا جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ یہ ہائی کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی ہے۔
سرکاری وکیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیاگیا کہ قواعد (رولز) ابھی آنا باقی ہیں اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ بغیر قواعد کے کارروائیاں کیسے ہوسکتی ہیں؟جب ڈی سی تحریری آرڈر نہیں دےگا تو متاثرہ فریق اسے چیلنج کیسے کرےگا؟ عدالت نے قراردیا کہ قانون نامکمل نہیں ہوتا،یا مکمل ہوتا ہے یا نہیں۔
پراپرٹی مافیا پر مریم نواز کا موقف درست ہے یا جسٹس عالیہ کا؟
بعد ازاں لاہور ہائی کورٹ نے کمیٹیوں کی تمام کارروائیوں کا ریکارڈ طلب کرتےہوئے تمام کیسز فل بینچ کو بھجوادیے۔
