لاہور قلندرز کی ملکیت پرانے مالک رانا فواد کو دینے کا حکم

 

 

 

پاکستان سپر لیگ کی معروف ٹیم لاہور قلندرز کی ملکیت پر تین بھائیوں میں 2023 سے چلنے والے تنازع کا فیصلہ موجودہ مالکان عاطف رانا اور سمین رانا کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہوا ہے۔ ثالثی عدالت کے سربراہ اور سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے اپنے تفصیلی فیصلے میں حکم دیا ہے کہ دونوں چھوٹے بھائی یا تو اپنے بڑے بھائی رانا فواد کو لاہور قلندرز کی ملکیتی کمپنی کے اکثریتی شیئر واپس کریں یا رانا فواد کے شئیرز کے بدلے میں انہیں دو ارب 30 کروڑ روپے ادا کریں۔ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے اس حکم پر 45 دن کے اندر عمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

 

یاد رہے کہ دسمبر 2015 میں جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے HBL PSL کی فرنچائزز کی نیلامی کا اعلان کیا تھا تو رانا فواد نے لاہور کی فرنچائز کے لیے بولی لگا کر اسے حاصل کیا اور اپنی ٹیم کا نام لاہور قلندرز رکھا تھا۔ انہوں نے یہ خریداری قطر کی کمپنی کالکو QALCO کے ذریعے کی، جس کے وہ مینجنگ ڈائریکٹر ہیں۔ بعد میں انہوں نے اپنے دو چھوٹے بھائیوں عاطف رانا اور سمین رانا کو بھی کمپنی میں شامل کر لیا تھا۔ اس دوران نوکیلی مونچھوں والے رانا فواد کی کرکٹ سے محبت اور PSL میں دلچسپی نے انہیں فرنچائز کے عوامی چہرے کے طور پر شہرت دی۔ ان کی انوکھے انداز میں گراؤنڈ میں موجودگی انہیں مداحوں میں مقبول بناتی رہی۔

 

پی ایس ایل کے ابتدائی سالوں میں لاہور قلندرز کے میچز میں ٹیم کے کارکردگی کے ساتھ ساتھ کاروباری پہلو بھی پیچیدہ رہا کیونکہ PSL کی آمدنی کا بڑا حصہ PCB کے پاس چلا جاتا تھا۔ جنوری 2016 میں تینوں بھائیوں نے پاکستان میں کوثر رانا ریسورس یعنی KRR کے نام سے ایک خصوصی کمپنی قائم کی، کمپنی کا نام دراصل رانا برادران کی والدہ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ کمپنی میں کالکو کے پاس 51 فیصد شیئرز تھے، جو رانا فواد کو فرنچائز پر اکثریتی کنٹرول دیتے تھے، جبکہ عاطف اور سمین کے نام 48 فیصد شیئرز تھے، یوں رانا فواد کے پاس ذاتی طور پر صرف ایک فیصد شیئرز باقی رہ گئے۔ اس ترتیب کا مقصد یہ تھا کہ رانا فواد زیادہ تر وقت قطر میں گزارنے کے باوجود کمپنی کے اہم فیصلوں کو کنٹرول کریں اور ان کے بھائی روزمرہ کے انتظامات سنبھالیں۔

 

پی ایس ایل کے ابتدائی چند سال کمپنی کے لیے مثبت رہے، لیکن 2018 میں پہلی بار رانا برادران کے اختلافات سامنے آئے۔ اس برس کالکو کے 4 فیصد شیئرز عاطف رانا کو منتقل کیے گئے، جس کے نتیجے میں رانا فواد اکثریتی مالک نہیں رہے، حالانکہ وہ 47 فیصد شیئرز کے ساتھ سب سے بڑے حصہ دار کے طور پر کمپنی میں موجود تھے۔ عاطف اور سمین رانا نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ یہ منتقلی ضروری تھی کیونکہ فرنچائز مالی دباؤ میں تھی اور اس وقت PSL کی فرنچائز فیسیں بہت زیادہ تھیں، جبکہ PCB آمدنی کا بڑا حصہ اپنے پاس رکھتا تھا۔ اس منتقلی سے کالکو کمپنی لاہور قلندر کی مکمل ملکیت سے ہٹ کر اس سے وابستہ ایک کمپنی کی حیثیت اختیار کر گئی۔ 2020 میں رانا فواد سے باقی 47 فیصد شیئرز بھی عاطف اور سمین کو منتقل کروا دیے گئے۔

 

قانونی دستاویزات کے مطابق دونوں چھوٹے بھائیوں نے رانا فواد کو بتایا کہ کسی خریدار نے لاہور قلندر خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، اور وہ صرف اس صورت میں سودے پر بات کریں گے جب ملکیت مکمل طور پر ان کے پاس ہو۔ چنانچہ رانا فواد کے شئیرز مفت میں دونوں چھوٹے بھائیوں کو منتقل کر دیے گئے اور لاہور قلندر کی بنیاد رکھنے والے بڑے بھائی محض ایک فیصد شیئر کے مالک رہ گئے۔

 

رانا فواد کے وکلاء نے عدالت میں دلائل دیے کہ یہ منتقلی دھوکہ دہی پر مبنی تھی کیونکہ کوئی حقیقی خریدار موجود نہیں تھا اور اصل میں سارا منصوبہ بڑے بھائی سے لاہور قلندر ہتھیانے کا تھا۔ مزید پیچیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب 2021 میں KRR نامی کمپنی نے اپنے 30 فیصد شیئرز نیازی نامی کسی نامعلوم شخص کو فروخت کر دیے۔ رانا فواد کے وکلاء نے دلائل دیے کہ یہ فروخت خفیہ طریقے سے کی گئی اور ان سے چھپائی گئی تھی جس کی وجہ سے کمپنی کے مالی اور انتظامی معاملات میں شفافیت کا فقدان پیدا ہوا۔

 

اس دوران کالکو کمپنی کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ پہلے 4 فیصد شیئر کی منتقلی غیر قانونی تھی، اور 2020 میں باقی 47 فیصد کی منتقلی دھوکہ دہی کے ذریعے ہوئی کیونکہ اس وقت کوئی حقیقی خریدار موجود نہیں تھا۔ چنانچہ عدالت نے دونوں اطراف کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ دیا کہ KRR نامی کمپنی یا تو رانا فواد کو 2 ارب 30 کروڑ روپے ادا کرے یا پھر فوری طور پر کالکو نامی کمپنی کے 51 فیصد شیئرز انہیں واپس کرے۔ عدالت نے KRR کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ مبہم طریقے سے نیازی نامی شخص کو فروخت کردہ 30 فیصد شیئرز کے منافع کا حساب کریں اور اسے رانا فواد کے شئیرز میں شامل کریں۔ یہ فیصلہ نہ صرف تین بھائیوں کے درمیان موجودہ مالکانہ تقسیم پر اثر انداز ہوگا بلکہ مستقبل میں اس فرنچائز کے انتظامی اور مالیاتی ڈھانچے پر بھی اہم اثرات ڈالے گا۔

 

ادھر عاطف رانا نے عدالتی فیصلے کے بعد کہا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کریں گے اور وقتی طور پر لاہور قلندرز کے انتظامی معاملات سمیر رانا کے کنٹرول میں رہیں گے۔ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کے حوالے سے کہا کہ وہ میرے بڑے بھائی ہیں، میں اسکے علاوہ اور کیا کہہ سکتا ہوں؟

بنگلادیش کے بائیکاٹ کی صورت میں پاکستان کا بھی ورلڈ کپ بائیکاٹ متوقع

دوسری جانب رانا فواد کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑی قانونی فتح ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے فرنچائز کی ملکیت اور کنٹرول واپس حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف تھے۔ ان کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ رانا فواد نے ابتدائی سالوں میں ٹیم کے انتظام کے لیے چھوٹے بھائیوں پر اعتماد کیا، لیکن انہوں نے ان کے اعتماد کا خون کر دیا۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد یا تو رانا فواد کو لاہور قلندر کی ملکیت واپس مل جائے گی یا چھوٹے بھائی انہیں دو ارب 30 کروڑ روپے ادا کریں گے۔ مستقبل میں یہ تنازعہ کہاں تک جائے گا، یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

Back to top button