پاکستان ٹرمپ کی نئی معشوقہ بن گیا ، مودی کی طلاق یقینی ہو گئی

مئی میں ہونے والی پاک بھارت جنگ کے بعد سے امریکی صدر ٹرمپ واضح طور پر بھارت سے دور اور پاکستان کے قریب آتے جا رہے ہیں اوردونوں ممالک کے مابین تعلقات تیزی سے بہتری کی جانب گامزن ہے۔ دونوں ممالک کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات میں یہ تبدیلی محض روایتی سفارتی بیانات تک محدود نہیں بلکہ اب کھلے عام عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔اس کی تازہ ترین مثال صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ اہم تجارتی معاہدے اور بھارت کے خلاف سخت تجارتی و اقتصادی اقدامات ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جہاں ایک طرف پاکستان سے تجارتی معاہدہ طے پانے کا اعلان کر دیا ہے وہیں دوسری جانب بھارت پر 25 فیصد ٹیرف اور جرمانہ عائد کرنے کے علاوہ 7 بھارتی کمپنیوں پر پابندی بھی عائد کر دی ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تجارتی معاہدے کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر بھارت کو طنز کا نشانہ بناڈالا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے بتایا کہ امریکہ اور پاکستان کا تجارتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت پاکستان اور امریکا مل کر پاکستان میں تیل کے وسیع ذخائر کو ترقی دیں گے، ہم اس وقت اُس آئل کمپنی کا انتخاب کرنے کے عمل میں ہیں جو اس شراکت داری کی قیادت کرے گی‘۔صدر ٹرمپ اس موقع پر بھی بھارت کو نہیں بھولے، انہوں نے کہاکہ ’کون جانتا ہے، شاید پاکستانی ایک دن بھارت کو تیل فروخت کر رہے ہوں‘۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف جبکہ روس سے مسلسل فوجی ساز و سامان اور تیل کی خریداری پرجرمانہ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔امریکی صدر کا ٹروتھ سوشل پر جاری اپنی ایک پوسٹ میں کہنا تھا کہ اگرچہ بھارت ہمارا دوست ہے، لیکن ہم نے برسوں میں اس کے ساتھ بہت کم تجارتی لین دین کیا، کیونکہ اس کے ٹیرف بہت زیادہ ہیں۔امریکی صدر نے کہا کہ بھارت ہمیشہ سے اپنے فوجی ساز و سامان کی بڑی مقدار روس سے خریدتا آیا ہے، اور توانائی کے معاملے میں بھی روس کا سب سے بڑا خریدار ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا روس سے مطالبہ کر رہی ہے کہ یوکرین میں قتل و غارت کو روکے، یہ سب چیزیں اچھی نہیں ہیں!ٹرمپ نے کہا کہ لہٰذا، بھارت پر یکم اگست سے 25 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا جبکہ روس سے تجارت پراضافی جرمانہ بھی لگایا جائے گا۔
مبصرین کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے اٹھائے جانے والے یہ تمام اقدامات مل کر نہ صرف خطے میں ایک نئے جیو اکنامک بلاک کی تشکیل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں بلکہ عالمی سیاست میں پاکستان کے ابھرتے ہوئے کردار کی نشاندہی بھی کرتے ہیں۔ امریکا کی اس نئی حکمت عملی سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا کہ اب طاقت کا توازن تیزی سے پاکستان کے حق میں تبدیل ہو رہا ہے جس نے پاکستان کو توازن کے مرکز میں لاکھڑا کیا ہے، تجزیہ کاروں کے بقول پاکستان اور امریکہ کے مابین "یہ محض ایک تجارتی معاہدہ نہیں بلکہ واشنگٹن کی اس نئی سوچ کا مظہر ہے جس میں بھارت کو اب غیر مشروط دوست نہیں سمجھا جا رہا، اور پاکستان کو دوبارہ خطے میں ایک کلیدی کردار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
انڈیا کی پہلگام حملہ پاکستان پر ڈالنے کی ایک اور مضحکہ خیز کوشش
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سے معاہدے اور بھارت پر ٹیرف عائد کرنے کے بعد لگتا ہے کہ ٹرمپ بھارت کے ساتھ ایک ‘مشروط دوستی’ کی طرف جا رہے ہیں۔ ان کا یہ پیغام واضح ہے کہ اگر بھارت امریکی معاشی مفادات کو نظرانداز کرتا رہا، تو اسے اس کی قیمت چکانی ہو گی۔”اسی ضمن میں امریکی محکمہ خارجہ نے ایران سے تیل خریدنے والی بھارت کی سات کمپنیوں پر اقتصادی پابندیاں بھی لگا دیں۔ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا جب ایک روز قبل ہی بھارت پر درآمدی ٹیرف اور جرمانے عائد کیے گئے تھے۔امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام پھیلانے اور اپنے عوام کے استحصال کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ان سرگرمیوں میں سہولت کاری کرنے والی دنیا بھر کی 20 کمپنیوں پر سخت اقتصادی پابندیاں لگائی جا رہی ہیں، جن میں سے 7 کمپنیاں بھارت میں قائم ہیں۔امریکی حکام کے مطابق ان کمپنیوں کے علاوہ 10 بحری جہازوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے جو ایرانی پیٹرولیم اور پیٹرو کیمیکل مصنوعات کی نقل و حمل میں ملوث پائے گئے ہیں۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین اس پورے منظرنامے کو ایک بڑی جیو اسٹریٹجک صف بندی کے طور پر دیکھتے ہیں: بعض ماہرین کے مطابق امریکا کا بھارت سے فاصلہ اور پاکستان کی طرف جھکاؤ دراصل چین کے خلاف ایک توازن قائم کرنے کی کوشش بھی نظر آتی ہے۔ پاکستان کے ذریعے وسط ایشیائی توانائی کے ذخائر تک رسائی اور افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار نے واشنگٹن کو یہ باور کرایا ہے کہ اسلام آباد کو نظرانداز کرنا اب مزید ممکن نہیں۔” ان کا مزید کہنا ہے کہ "ٹرمپ کی بھارت پالیسی میں سختی کا ایک پہلو چین کو خوش کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے، تاکہ امریکا چینی اثر و رسوخ کو جنوبی ایشیا میں محدود رکھنے کے لیے مزید لچکدار حکمت عملی اپنائے۔” ماہرین کے بقول ان تمام پیش رفتوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ امریکا اب خطے میں اپنے پرانے اتحادوں پر ازسرِنو غور کر رہا ہے۔ پاکستان کے ساتھ توانائی کا اشتراک، بھارت پر معاشی دباؤ، اور ایران سے تجارت کرنے والی بھارتی کمپنیوں پر پابندیاں — یہ سب اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ واشنگٹن اب صرف نظریاتی دوستی نہیں بلکہ مفادات پر مبنی توازن کو ترجیح دے رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان اس موقع کسے نہ صرف امریکا کے ساتھ ایک طویل المدتی شراکت قائم کر سکتا ہے بلکہ خطے میں اپنی ساکھ کو بھی بہتر بنا سکتا ہے۔
