جنرل فیض نے امریکی جنرل کو کونسا مہنگا تحفہ دیا؟

پاکستان میں حالیہ دنوں میں توشہ خانے کے بارے میں خبریں گرم ہیں اور اس سلسلے میں جہاں ایک طرف عدالتوں میں کیسز چل رہے ہیں ادھر ہی دوسری طرف عمران خان مرشد سمیت توشہ خانے کے سستے گفٹ مہنگے داموں فروخت کرنے کے جرم کی پاداش میں زیر عتاب بھی ہیں جہاں ایک طرف عمران خان کے توشہ خانہ سے مہنگے تحائف سستے داموں لینے کی بازگشت ہے وہیں دوسری طرف سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کی جانب امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیداران کو بیش قیمت تحفے دینے کا انکشاف ہوا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان کی طرح ایک توشہ خانہ امریکہ میں بھی ہے جہاں امریکی صدر اور دوسرے اعلیٰ حکام کو دوسرے ملکوں کے رہنماؤں اور عہدے داروں کی جانب سے دیئے جائے والے تحفے رکھے جاتے ہیں، امریکی فیڈرل رجسٹر کی ویب سائٹ پر24 فروری کو ان تحفوں کی تفصیلات شائع کی گئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ کس ملک نے 2021 کے دوران امریکی حکام کو کون سے تحفے دیئے اور ان کی مالیت کیا تھی۔
اس میں یہ بھی لکھا ہے کہ تحفہ کیوں وصول کیا گیا اور اگر نہ وصول کیا گیا تو کیا نقصان ہوتا۔ ان تحفوں کا ریکارڈ امریکہ میں چیف آف پروٹوکول کا دفتر رکھتا ہے اور انہیں عوامی طور پر شائع کیا جاتا ہے۔ امریکہ کی شائع کردہ فہرست میں ایک دلچسپ انکشاف یہ سامنے آیا ہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید نے امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی کو 30 جولائی 2021 کو ایک قالین، ایک پشمینہ کا سکارف اور ایک پیتل کا گلدان دیا جن کی مالیت 715 ڈالر درج ہے۔ فیض حمید اس وقت پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ تھے۔
اس فہرست کے مطابق حیرت انگیز طور پر امریکی صدر جو بائیڈن کو سب سے مہنگا تحفہ ایک ایسے ملک کے سربراہ نے دیا جس کا شمار دنیا کے غریب ترین ملکوں میں ہوتا ہے۔ریکارڈ کے مطابق افغانستان کی سابق خاتونِ اول اور سابق صدر اشرف غنی کی اہلیہ مسز رولا غنی نے اپنی امریکی ہم منصب ڈاکٹر جل بائیڈن کو 19 ہزار 200 ڈالر مالیت کا ریشمی قالین بطور تحفہ پیش کیا۔البتہ یہ تحفہ جل بائیڈن نے خود نہیں رکھا بلکہ اسے نیشنل آرکائیوز اینڈ ریکارڈز ایڈمنسٹریشن کو منتقل کر دیا گیا۔بیگم نے تحفہ دیا تو اشرف غنی کیوں پیچھے رہتے، انہوں نے بائیڈن کو ایک اور ریشمی قالین بطور تحفہ عطا کیا، البتہ اس کی مالیت ذرا کم، یعنی نو ہزار 600 ڈالر تھی۔افغانستان ہی سے ایک اور دلچسپ تحفہ سابق آرمی ڈائریکٹر ریجنل ٹارگٹنگ ٹیم احمد شیخ سلطانی نے امریکی سٹاف سارجنٹ کرسٹوفر گیونگ کو تین کلاشنکوفوں کی شکل میں دیا، جن کی مالیت 2230 ڈالر بنتی ہے۔
انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف بپن راوت نے 2021 ہی میں مارک ملی کو ایک مجسمہ، ایک شال، ایک ٹائی اور دوسرے تحفے دیے جن کی مالیت 470 ڈالر ہے۔ایک اور مہنگا تحفہ روسی صدر ولادی میر پوتن نے سابق صدر ٹرمپ کو دیا جس کی مالیت 12 ہزار ڈالر تھی اور لیکر کی ڈیسک اور لکھنے کا سامان تھا۔بیرونی تحائف اور ڈیکوریشنز ایکٹ 1966 کے مطابق امریکی حکام کو ملنے والے تحفے وہ رکھ سکتے ہیں بشرطیکہ ان کی مالیت 415 ڈالر سے زیادہ نہ ہو۔اس مالیت سے اوپر کے تحائف امریکی عوام کی ملکیت سمجھے جاتے ہیں اور انہیں خرید کر ہی اپنے پاس رکھا جا سکتا ہے۔ البتہ وہ تحفے جو بیرونی حکومت یا بیرونی حکام کی طرف سے نہ آئے ہوں، یعنی امریکی شہریوں کی طرف سے وصول ہوئے ہوں، انہیں صدر اپنے پاس رکھنے کا مجاز ہوتا ہے۔امریکی صدر نے صرف ایک ہی تحفہ اپنے پاس رکھا، جو ملکہ برطانیہ الزبیتھ کی جانب سے اپنی فریم شدہ تصویر تھی، جس کی مالیت کا تخمینہ 2200 ڈالر لگایا گیا ہے۔ یہ فریم ڈسپلے پر رکھا گیا ہے۔وائٹ ہاؤس میں بھی ایک ’گفٹ یونٹ‘ ہوتا ہے جو ان تحائف کی دیکھ بھال اور انہیں متعلقہ اداروں تک پہنچانے کا بندوبست کرتا ہے۔
