شاران بلوچ، مرحومہ کریمہ بلوچ سے متاثر نکلی

26 اپریل کو بطور خود کش بمبار کراچی یونیورسٹی میں چینی باشندوں کی وین کو نشانہ بنانے والی 30 سالہ خاتون شاران عرف شاری بلوچ دو بچوں کی ماں اور خود سکول ٹیچر تھی۔ ان کا شوہر ہیبتان بشیر ڈاکٹر یے۔
خودکش حملے میں تین چینی باشندوں کی جان لینے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی یا بی ایل اے کے مجید بریگیڈ نے قبول کی ہے اور شاری بلوچ کو اپنی تنظیم کی بہادر بمبار قرار دیا یے۔ یاد رہے کہ اس حملے سے پہلے کراچی میں بی ایل اے نے جتنے بھی حملے کیے ہیں وہ فدائین حملے تھے لیکن یہ پہلا حملہ ہے جس میں ایک خود کش بمبار کا استعمال کیا گیا۔ بلوچستان لبریشن آرمی کی جانب سے کراچی میں ہونے والے اب تک کے تمام حملوں کا بنیادی ہدف چینی باشندے رہے ہیں۔ یاد رہے کہ بی ایل اے چین کی مدد سے تعمیر کیے جانے والے سی پیک پراجیکٹ اور گوادر پراجیکٹ کی مخالف ہے۔
انڈیپینڈنٹ اردو کے مطابق شاری بلوچستان کے ایک سرکاری سکول میں استانی تھی اور دو بچوں کی ماں تھیں۔ محکمہ انسداد دہشت گردی کے افسر راجہ عمر خطاب نے تصدیق کی ہے کہ خود کش حملہ سیاہ برقعے میں ملبوس خاتون نے کیا جس کی شناخت شاری بلوچ کے نام سے ہوئی ہے۔ راجہ عمر خطاب کے مطابق دھماکے کے لیے آر ڈی ایکس یا سی فور کا استعمال کیا گیا تھا۔
دھماکے کے بعد پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک خاتون سڑک کنارے کھڑی انتظار کر رہی ہیں اور جیسے ہی چائینیز کی وین نزدیک آتی ہے تو ایک دھماکہ ہو جاتا ہے۔ حملے کے بعد بلوچ علیحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ نے ٹوئٹر پر اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’ایک خاتون کی مدد سے یہ خودکش دھماکہ کیا گیا۔‘ بعد میں خودکش حملہ کرنے والی خاتون کا نام شاری بلوچ بتایا گیا اور اس کی دو تصاویر بھی جاری کی گئیں۔ ان میں سے ایک تصویر میں شاری کو دو معصوم بچوں کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔
شاری کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ اس کی عمر تقریباً 30 سال تھی، اس نے 2014 میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ایم ایڈ کیا اور 2015 میں بلوچستان یونیورسٹی کوئٹہ سے زوالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری لی۔ 2019 میں شاری کو محکمہ تعلیم بلوچستان میں سرکاری ملازمت مل گئی اور وہ تربت سے 20 کلومیٹر دور واقع کلاتک یونین کونسل کے ایک سرکاری گرلز مڈل سکول میں استاد کی حیثیت سے فرائض سرانجام دے رہی تھیں۔ شاری بلوچ دو بچوں کی ماں تھیں، جن میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی شامل ہیں۔
شاری بلوچ کے رشتہ دار کے مطابق: ’سوشل میڈیا پر کہا جا رہا ہے کہ شاری بلوچ کے خاندان میں کچھ افراد لاپتہ ہو گئے تھے اس لیے انہوں نے انتقام لینے کے لیے ایسا قدم اٹھایا لیکن ان کے خاندان میں آج تک کوئی ایک فرد بھی لاپتہ نہیں ہوا، وہ اپنی تنظیم کے ساتھ نظریاتی طور پر کمیٹڈ تھیں، اس لیے شاید ایسا قدم اٹھایا۔ وہ بتاتے ہیں کہ شاری کے خاندان میں سب پڑھے لکھے اور بیورکرسی کا حصہ ہیں جبکہ ان کے شوہر ڈاکٹر ہیبتان بشیر ڈینٹسٹ ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ شاری بلوچ کالج دور سے بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن یا بی ایس او کے ساتھ وابستہ رہیں۔ بعد میں انہوں نے بلوچ لبریشن آرمی کو جوائن کر لیا ہو گا لیکن یہ ایک خفیہ عمل تھا جس کا انکے گھر والوں کو بھی پتہ نہیں تھا۔
جامعہ کراچی کی خودکش بمبار خاتون ایم فل کی طالبہ نکلی
دوسری جانب کراچی دھماکے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ٹویٹ وائرل ہوئی، جس میں شاران بلوچ نامی صارف کی جانب سے براہوی زبان میں لکھا تھا: ’رخصت اف اوران سنگت‘۔ جس کا مطب ہے کہ ’وہ جا رہی ہیں ہیں، مگر یہ سنگت چلتی رہے گی۔‘ یاد رہے کہ بلوچ لبریشن آرمی کے مجید بریگیڈ کی جانب سے حملہ کرنے والوں کا آخری بیان ضرور جارہ ہوتا ہے۔ شاری بلوچ کے رشتہ دار نے تصدیق کی کہ یہ ان ہی کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے۔ اس اکاؤنٹ کے تعارف میں لکھا ہوا ہے کہ شاری نے ایم ایس سی زوالوجی میں اور ایم ایڈ اور ایم فل ایجوکیشن میں کر رکھا تھا۔
