ادارے بند گلی سے نکلنے کا فارمولا بنانے میں بھی ناکام

کہ ایک معروف اینکر پرسن اور لکھاری عاصمہ شیرازی نے کہا ہے طرف موجودہ حکومت بغیر کسی لائحہ عمل کے ملک چلا رہی ہے اور دوسری جانب اپوزیشن لائحہ بنانے کے باوجود بھی بے عمل ہے۔ اس دلچسپ صورتحال میں وہ ادارے جو اس وقت چپ چاپ بیٹھے ہیں، دراصل بند گلی میں پھنس کر کسی فارمولے کی تلاش میں ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تمام تر فارمولے پاکستان کی ناکام معیشت کے سامنے بے بس ہیں۔

بی بی سی اردو کیلئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں عاصمہ شیرازی کہتی ہیں کہ مری کے المناک سانحے نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا کہ پورا ملک ہی بغیر کسی سسٹم کے چل رہا یے۔ انکا کہنا یے کہ اگر گذشتہ 70 برسوں میں اس ملک میں کوئی سسٹم نہیں بن پایا تو آئیندہ کیسے بنے گا؟ ایسے میں سانحے ہوتے رہیں گے اور ہم شاید سسٹم بننے کی آس برف کی ڈھیری میں رکھ کر رخصت ہو جائیں گے۔ نتیجہ یہ یے کہ ہر طرف بے حسی کا ماتم ہے، اور نا اہلی کا نوحہ ہے۔ تبدیلی کا جو خواب ساڑھے تین سال قبل دکھایا گیا اُس میں سب سے ضروری ایک جوابدہ حکومت، ایک ذمہ دار نظام اور ایک حساس معاشرہ تھا۔ لہکن گذشتہ ساڑھے تین سال میں ہر طرح کی تنزلی کا شکار معاشرہ معاشرتی بے حسی کا نشان بن چکا ہے۔ مری کے عوام کے رویے کا کیا شکوہ۔۔۔ یہ بے حسی ہمارا قومی تمغہ بنتی جا رہی ہے۔ طرز حکمرانی کس چڑیا کا نام ہے اور بے عملی کیا ہوتی ہے اس کا عملی ثبوت اس سانحے میں ایک بار پھر دیکھنے کو مل چکا لیکن ظلم یہ ہے کہ سانحے کی ذمہ داری بھی مرنے والوں پر ڈالی جا رہی ہے۔

عاصمہ شیرازی کہتی ہے کہ حکومت نے سانحے کی تحقیقات کے لیے حسب روایت ایک کمیٹی تو بنا ڈالی لیکن کاش کوئی کمیٹی بے حسی پر بھی بیٹھ جائے تاکہ حکومتیں محض نوٹس نہ لیں بلکہ احساس کر لیں۔ مذاق نہ اُڑائیں کہ عوام تفریح کے لیے وہاں گئے ہی کیوں؟ کوئی کمیشن یہ جانچ کر لے کہ عوام کے لیے تفریح کے مواقع ہیں یا عوام ہی حکمرانوں کے لیے تفریح کا سامان بن چکے ہیں۔ ملکِ عزیز میں بسنے والوں کے شب و روز جس تکلیف میں ہیں اُس کا احساس تو شاید کسی کے پاس نہیں لیکن اب جب معاشی اُفتاد ٹوٹ پڑی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے ہر چیز برف تلے دب گئی ہے۔ معیشت، سیاست اور ان سے جُڑی ریاست بھی۔ ریاست کو کن حالات سے گُزرنا پڑے گا اس کا اندازہ ہے مگر احساس نہیں۔ ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط کے معاشی طوفان کا سامنا تو دوسری جانب سیاسی راستے مسدود ہو رہے ہیں۔ معاشی حالت ملک کو سیاسی بند گلی میں داخل کر چکی ہے۔

عاصمہ کہتی ہیں کہ حزب اختلاف خالی لفظوں سے خود کو اُمید دلا رہی ہے جبکہ حکومت خود اپنے معنی کھو رہی ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر سوشل میڈیا اور میڈیا سکرینوں کو کنٹرول کر کے بے معنی بحثوں میں الجھا کر نہ جانے کس طرح کا رعب حکمرانی ہے جو دکھایا جا رہا ہے۔ سیاست کے طالبعلم کے طور پر یہ جاننے کی کوشش ہے کہ پیش منظر کیا ہو گا مگر یہی وہ نکتہ ہے جو ہر بار وہیں واپس لا کھڑا کرتا ہے جہاں راستے نہیں محض گول چکر ہے۔ ملک کو سخت معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ مالیاتی بل یا منی بجٹ پارلیمنٹ میں ہے۔ آئی ایم ایف اگلا پیکج موخر کر چکی ہے، یہ پہلی دفعہ ہے کہ اپوزیشن بل منظور کروانا چاہتی ہے جبکہ حکومت بل لٹکانا چاہتی ہے۔ اپوزیشن اس بل کو حکومت کے گلے کا پھندا بنانا چاہتی ہے جبکہ حکومت اسے کسی اور کے گلے ڈالنا چاہ رہی ہے۔ کیا عجب ہے کہ حکومت بغیر لائحہ عمل حکمرانی کا خواب لیے بیٹھی ہے اور اپوزیشن لائحہ کے ساتھ بھی بے عمل ہے۔ اس دلچسپ صورتحال میں وہ جو چپ چاپ بیٹھے ہیں، دراصل بند گلی میں ہیں۔ فارمولے کی تلاش ہے جبکہ سب فارمولے ناکام معیشت کے سامنے بے بس ہیں۔

پی آئی اے کا بچت کیلئے ملازمین کی تعداد میں کمی کا فیصلہ

بقول عاصمہ شیرازی اس وقت پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے بغیر گھر نہیں چلتا اور اُن کی شرائط پر ملک کی نام نہاد خود مختاری نہیں بچتی۔ اس بند گلی سے نکلنے کے دو ہی راستے ہیں، ایک بجٹ خسارہ کم ہو۔۔۔ جو ہو نہیں سکتا جب تک کہ غیر ترقیاتی بجٹ کم نہ کیا جائے جس کا براہ راست اثر دفاعی بجٹ پر پڑ سکتا ہے یا دوسری صورت تجارتی خسارے کو کم کرنے کی ہے جس پر پاکستان کی اشرافیہ تیار نہیں ہو گی۔ سو ہر دو صورتوں میں پاکستان کو کمپرومائز کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئی ایم ایف شرائط مزید سخت ہونے کی صورت ماہرین اس کا اشارہ نیوکلئیر پروگرام پر ممکنہ کمپرومائز کی جانب بھی کرتے ہیں۔

عاصمہ کہتی ہیں کہ پیپلز پارٹی 27 فروری کو لانگ مارچ کا اعلان کر چکی ہے، لیکن کیوں؟ اسکی وجہ تاحال نامعلوم ہے۔ امکان ہے کہ مسلم لیگ ن بھی کوئی اشتراک کرے تاہم اپوزیشن کی لابی میں دبے لفظوں یہی کہتے سُنا ہے کہ لانگ مارچ کے بعد حکومت کون بنائے گا؟ یہ بھی دلچسپ ہے کہ دونوں جماعتیں حکومت کا گیند بھی ایک دوسرے کی جانب اُچھال رہی ہیں جبکہ اس بند گلی میں پہلے کون داخل ہو گا اس کا علم کسی کو بھی نہیں۔

بابا بلھے شاہ فرما گئے ہیں کہ ہم تو تب سے پھنسے ہوئے ہیں جب سے آدم اور حوا نے گندم کھائی تھی، کرتا کوئی ہے اور بھرتا کوئی یے، لیکن اماں باوا کے کیے اب ہمارے آگے آ رہے ہیں۔ یہاں بھی جس کے بھی کام ہیں اب قوم کے آگے آ رہے ہیں۔ لہذا اہم ترین سوال یہ یے کہ اس بند گلی سے ملک کو کون نکالے گا تا کہ سسٹم چل پڑے۔

https://youtu.be/lt1NXDd_UxI

Back to top button