دیوار چین سے متعلق پانچ غلط مفروضے کونسے ہیں؟

’’دیوار چین‘‘ برصغیر میں موجود اہم عجوبوں میں سے ایک تصور کی جاتی ہے، جس کو 500 سال قبل تعمیر کیا گیا، اس کی لمبائی کے اندازے تقریباً 2400 کلومیٹر سے 8000 کلومیٹر کے درمیان لگائے جاتے رہے ہیں مگر سنہ 2012 میں چین کی وزارت برائے ثقافتی ورثہ نے ایک تحقیق میں انکشاف کیا کہ دیوارِ چین کی کُل لمبائی تقریباً 21 ہزار کلومیٹر ہے۔امریکی خاکہ نویس رابرٹ رپلے نے سب سے پہلے اس مفروضے کو عام کیا تھا کہ دیوارِ چین چاند سے بھی نظر آتی ہے۔ اپنی ایک فلم ’بیلیو اٹ اور ناٹ!‘ میں انھوں نے دیوار چین کو ’انسان کا سب سے طاقتور کام‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ اسے چاند سے بھی انسانی آنکھ کی مدد سے دیکھا جا سکتا ہے البتہ ان کے اس دعوے کو خلا بازوں نے مسترد کر دیا تھا مگر پھر بھی چاند سے دیوار چین نظر آنے والی بات کو ایک حقیقت ہی مانا گیا۔2003 میں چین کی پہلی خلائی پرواز کے دوران خلا باز یانگ لیوائی نے اس مفروضےکو ہمیشہ کے لیے دفن کرتے ہوئے کہا کہ انھیں خلا سے زمین پر کچھ دکھائی نہیں دیا تھا۔ایک مفروضہ یہ ہے کہ یہ ایک ہی طویل دیوار ہے جبکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ اس کے بہت سے حصے ہیں۔ اور ان میں سے بہت کم اس شاندار تخلیق سے مشابہت رکھتے ہیں جس کا سیاح دورہ کرتے ہیں، اس کے وہ حصے جن کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کی گئی ہے ان حصوں سے جا ملتے ہیں جو جنگلوں اور بیابانوں سے گزرتا ہے اور جہاں پیدل چلنے والوں کو جانے کی ممانعت ہے۔دیوار چین کا جو حصہ آپ بیجنگ کے اِرد گرد دیکھتے ہیں وہاں آثار قدیمہ کی نشانیاں ہیں جن میں سے کچھ اسی دیوار کے بالکل نیچے موجود ہیں اور یہ منقسم حصے دیگر مٹی سے بنی دیواروں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں، جو مغربی چین کی طرف متوازی اور بکھرے ہوئے حصوں میں بنی ہیں۔دیوار چین کی تعمیر کا سب سے پہلے حکم چین کے اُس بادشاہ نے دیا تھا جن کی وفات تقریباً 210 قبل از مسیح میں ہوئی تھی، یعنی منگولوں کے منظرعام پر آنے سے قبل، کیونکہ منگول قریباً 800 عیسوی کے قریب آئے تھے۔دیوار چین کے متعلق کئی ایسی افواہیں گردش کرتی ہیں کہ دیوار چین میں اسے تعمیر کرنے والے مزدوروں کی لاشیں دفن ہیں، ان کہانیوں نے غالباً ہان بادشاہت کے دور کے ایک اہم مؤرخ سیما کیان سے جنم لیا ہے جنھوں نے اپنے ہی شہنشاہ کو اپنے پیشرو سلطنت قن کی توہین کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تاہم اس دیوار سے کبھی کوئی انسانی ڈھانچے یا ہڈیاں برآمد نہیں ہوئیں اور نہ ہی اس کے کوئی شواہد ملے ہیں۔یہ سچ ہے کہ مارکو پولو نے کبھی دیوار چین کا ذکر نہیں کیا، اور دیوار چین کا تذکرہ صرف ایک دلیل کے طور پر استعمال کیا کہ وہ کبھی چین نہیں گیا تھا، اس وقت (13 ویں صدی کے آخر میں) تمام چین پر منگولوں کی حکومت تھی، اس لیے دیوار بے کار ہو چکی ہوگی کیونکہ حملہ آوروں نے 50 سال پہلے چنگیز خان کے دور میں شمالی چین کو تباہ کر دیا تھا۔منگول جنھوں نے جنگ کے دوران دیوار چین کو نظر انداز کیا تھا، انھیں امن کے دور میں اس کا ذکر کرنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں تھی، مارکوپولو نے یقیناً اسے بیجنگ سے شانگڈو میں قبلائی خان کے محل جانے کے دوران متعدد مرتبہ عبور کیا ہوگا لیکن ان کے پاس
اس کی جانب توجہ مرکوز کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔
