ن لیگ کے رہنما چوہدری تنویر خان کا 7 روزہ ریمانڈ منظور

ن لیگی رہنما اور سابق سینیٹر چوہدری تنویر خان کو 7 روزہ ریمانڈ پر اےسی ای نے تحویل میں لے لیا ہے۔اے سی ای نے چوہدری تنویر خان کو سخت سیکیورٹی کے حصار میں سینئر سول جج محمد قذافی بن سیر کی عدالت میں پیش کیا، انہیں 21 مارچ کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائیگا۔
لیگی رہنما نے اے سی ای کو بیان قلمبند کرایا ہے کہ وہ عارضہ قلب میں مبتلا ہے اور ان کا دل صرف 20 فیصد کام کر رہا ہے، جس پر عدالت نے راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (آر آئی سی) سے ملزم کا چیک اپ کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے انہیں ضروری طبی سہولیات اور ادویات فراہم کرنے کی ہدایت دی۔
واضح رے کہ اتوار کے روز ڈیوٹی مجسٹریٹ نے تنویر خان کی ایک روز کی ریمانڈ منظور کی تھی جس کے بعد سینے میں درد کے سبب انہیں آر آئی سی منتقل کیا گیا تاہم عدالت نے ملزم کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، ن لیگی رہنما رہنما کو کینٹ پولیس سٹیشن اور اس کے بعد آر آئی سی لایا گیا، ذرائع کے مطابق پہلے طبی معائنے کے بعد مسلم لیگ ن کے رہنما کو سخت سیکیورٹی میں ہسپتال لے جایا گیا تھا۔
یاد رہے کورونری انجیوگرام دل کی بند یا تنگ خون کی نالیوں کو دکھا سکتا ہے، ذرائع نے بتایا کہ تنویر خان آر آئی سی میں کورونری انجیوگرام کے لیے جانے کو تیار نہیں تھے اور وہ اس سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہتے تھے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما علالت کے باعث بیرون ملک مقیم تھے اور اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے واپس آئے تھے۔
