کراچی کی 11یوسیزپرانتخابات 18اپریل کو ہوں گے

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے عدالت کو یہ بتانے پر کہ کراچی کی بقیہ 11 یونین کمیٹیوں کے انتخابات 18 اپریل کو ہوں گے، سندھ ہائی کورٹ نے جماعت اسلامی کی جانب سے دائر درخواست کو نمٹا دیا۔
جے آئی کراچی کے سربراہ حافظ نعیم الرحمٰن نے شہر کی باقی 11 یوسیز میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر پر وفاقی اور صوبائی الیکشن حکام کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت کی جس کے دوران وکیل عبداللہ ہنجرا نے ای سی پی کی جانب سے بیان جمع کرایا۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق کراچی کے 11 سمیت مجموعی طور پر 26 اضلاع کی 93 یو سیز میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے ضمنی انتخابات 18 اپریل ہوں گے۔
الیکشن کمیشن عہدیدار کے دائر کردہ بیان کے پیش نظر ڈویژن بینچ نے فریقین کی رضامندی سے درخواست نمٹا دی۔
یاد رہے کہ 8 مارچ کو حافظ نعیم الرحمٰن نے سندھ ہائی کورٹ کو درخواست دی تھی کہ 50 روز گزر جانے کے باوجود صوبائی حکومت نے ان یوسیز میں چیئرمین اور وائس چیئرمین کےعہدوں کے لیے پولنگ نہیں کروائی جہاں امیدواروں کی موت کی وجہ سے انتخابات ملتوی کیے گئے تھے۔
ان کے وکیل عثمان فاروق نے کہا تھا کہ صورتحال نے لوگوں کو یہ تاثر دیا کہ ای سی پی پاکستان پیپلز پارٹی کی مدد کررہا ہے۔
وکیل نے کہا کہ تاخیری حربوں کا مقصد بظاہر سٹی کونسل اور ٹاؤن کونسلز کے چیئرمینوں اور وائس چیئرمینوں کو میئر اور ٹاؤن چیئرمینوں کے انتخابات میں ووٹ
ڈالنے سے روکنا تھا۔
8ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 68فیصد کمی
