بنچ ٹوٹنے سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اعتماد کا فقدان ہے

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سپریم کورٹ کا بینچ دوبارہ ٹوٹنے سے اعتماد کا فقدان ظاہر ہو رہا ہے، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی ہے کہ انصاف کی متلاشی پوری پاکستانی قوم کے لیے آخری منزل یہی ہے اور اس منزل میں اس وقت ہیجانی کیفیت پیدا ہو چکی ہے جس کے بعد عام سائل کی توقعات پر مایوسی چھا گئی ہے۔

انہوں نے یہ بات انتخابات التوا کیس میں ایک روز قبل جسٹس امین الدین کے اور آج جسٹس جمال خان مندوخیل کے کیس سننے سےمعذرت کے تناظر میں کہی جس کے بعد 5 رکنی بینچ صرف 3 اراکین تک محدود رہ گیا ہے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہم سیاستدانوں میں پارٹی بازی، مخاصمت اور لڑائی جھگڑے بھی ہوتے ہیں یہ سب سیاست کے کلچر کا حصہ ہیں لیکن ان کے کلچر کا حصہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ سپریم کورٹ کا کلچر بہت اعلیٰ و ارفع مطالبات کرتا ہے جس سے کسی بھی حکومت،سیاسی پارٹی، کسی بھی طبقے کا اعتماد متزلزل نہ ہو لیکن آج اعتماد متزلزل ہورہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم پہلے دن سے مطالبہ کررہے ہیں فل کورٹ بنادیں کیوں کہ کم ہوتے ہوتے اب بینچ میں صرف 3 ججز رہ گئے ہیں اور اگر اعتماد بحال کرنا ہے تو فل کورٹ ہو، تا کہ اس عمارت میں بیٹھے لوگوں پر جو اعتماد ہے وہ متزلزل نہ ہو۔

دوسری جانب وفاقی وزیرداخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے اختلافی نوٹ میں جو باتیں لکھی ہیں وہ اس لیے انتہائی افسوس ناک ہیں کہ اعلیٰ ترین منصب پر بیٹھے لوگ ایسے رویوں کا اظہار کریں گے جس کا ذکر انہوں نے کیا مثلاً مشاورت نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بات سامنے آنا قانونی برادری کے لیے المیہ ہے اور دوسرا المیہ یہ ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے از خود نوٹس پر دیے گئے فیصلے کو سرکلر کے ذریعے مسترد کردیا گیا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک فرد واحد جو فتنہ ہے وہ 10 سال کی محنت کے بعد ملک کو اس نہج پر لے آیا ہے کہ یہاں سیاسی طور پر بحران، انتظامی طور پر بحران اور اب عدلیہ کو بھی اس نے بحران میں مبتلا کردیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر قاضی فائز عیسٰی کے خلاف ریفرنس نہ دائر کیا جاتا ان کے اہلِخانہ کو انہیں عدالتوں،ایف بی آر کی عمارتوں میں رلایا نہ جاتا تو ملک میں یہ بحرانی کیفیت نہیں پیدا ہوتی جو اس وقت موجود ہے۔

انہوں نے کہاکہ میں چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتا ہوں کہ اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ یہ فتنہ کس طرح ملک میں متعارف ہوا اور کس طرح ملک اور اس کے اداروں کو بحران در بحران کا شکار کررہا ہے۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ یہ چاہتا ہے کہ اس ملک میں افراتفری و انارکی ہو، اس بات کا جائزہ لیں کہ اس نے جو کچھ 10 سال میں کیا بالخصوص اسمبلیاں توڑنے کے پیچھے کون ہے،یہ اسمبلیاں آئینی طور پر نہیں توڑی گئیں، دونوں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور اراکین کہتے رہے کہ ہم نے نہیں توڑنی لیکن یہ اس کا تکبر اس کی ضد تھی کہ اسمبلیاں توڑی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب 9 رکنی بینچ بیٹھا تھا تو ایک معزز جج نے یہ معاملہ اٹھایا بھی تھا اس لیے میں تمام ججز سے بالعموم اور بالخصوص چیف جسٹس سے اپیل کروں گا کہ انصاف ہونا نہیں بلکہ انصاف ہوتے ہوئے نظر آنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں اگر فل کورٹ بیٹھ کر اس معاملے کا فیصلہ نہیں کرے گا تو اس صورت میں انصاف تو شاید ہو لیکن انصاف ہوتا ہوا نظر نہیں آئے گا اور قوم کو اگر اس مرحلے پر انصاف ہوتا نظر نہیں آیا تو ملک میں افراتفری پھیلے گی۔

افغانستان میں چھوڑا گیا امریکہ کا اسلحہ ٹی ٹی پی کو مل گیا

Back to top button