ایم کیوایم کا سپریم کورٹ سے متعلق حکومتی موقف سے اظہار لاتعلقی

انتخابات کے التوا کے خلاف سپریم کورٹ کی جانب سے آج سماعت کے دوبارہ آغاز کے پیشِ نظر  حکومت بھی اپنی حکمت عملی تیار کررہی ہے تاہم حکومتی اتحاد میں اس وقت واضح دراڑیں نظر آئیں جب متحدہ قومی موومنٹ-پاکستان (ایم کیو ایم-پی) نے اسے ’دو جماعتوں کا مسئلہ‘ قرار دیتے ہوئے اس معاملے سے لاتعلقی کا اظہار کردیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے یکم اپریل کو لاہور میں حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں کے اجلاس میں کراچی سے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی تاہم وہ کراچی پریس کلب میں ’میٹ دی پریس پروگرام‘ میں شرکت کے لیے جلد ہی اجلاس چھوڑ کر چلے گئے تھے۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اس اجلاس میں سربراہ مسلم لیگ (ن) نواز شریف اور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی آصف علی زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، اجلاس میں سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمٰن، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، رہنما مسلم لیگ (ن) مریم نواز اور حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے دیگر نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ان فیصلوں کا حصہ نہیں ہیں جو مبینہ طور پر لاہور میں یکم اپریل کے اجلاس میں کیے گئے کیونکہ وہ اپنی مصروفیات کے سبب اجلاس کے اختتام سے پہلے ہی چلے گئے تھے۔

ایم کیو ایم-پاکستان کا تازہ ترین مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ قیاس آرائیوں جاری ہیں کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو ایم کیو ایم-پاکستان سے رابطے بحال کرنے کے لیے کراچی بھیجا ہے۔

’ثالثوں‘ کی مخالف سیاسی جماعتوں کو  مذاکرات کی دعوت

Back to top button