پی ٹی آئی کا منحرف اراکین کوآئین کے تحت شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ منحرف ارکان واپس نہیں آتے تو آئین کے تحت شوکاز نوٹس ہوگا، 63 اے کے تحت اراکین اسمبلی کو شوکاز نوٹس جاری کردیں گے. انہوں نے کہا کہ جو منحرف ارکان واپس نہیں آنا چاہتے وہ اپنی رائے کا اظہار شوکاز نوٹس کے جواب میں کریں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت اجلاس کے بعد وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی اور فواد چودھری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ اجلاس میں اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد سے متعلق تبادلہ خیال ہوا اور وزیراعظم کو اپنے مشورے بھی دیے.
وفاقی وزیر نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ عدم اعتماد کو آئینی قانونی دائرے میں رہتے ہوئے جمہوری اور سیاسی طریقے سے شکست دیں گے. اسد عمر نے بتایا کہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ ہم تحریک عدم اعتماد کے روز راستے کی رکاوٹ بنیں گے، ارکان کو جانے نہیں دیں گے، یہ ہمارے خلاف ایک منفی پروپیگنڈا ہے ایسی کوئی بات نہیں ہوگی.
ہمت ہے تو گورنر راج لگا کر دکھاؤ، بلاول بھٹو کا چیلنج
انہوں نے سندھ میں گورنر راج کے حوالے سے کہا کہ سب کی رائے ہے کہ گورنر راج کی ضرورت نہیں ہے، ماضی کے تجربات سامنے ہیں، گورنر راج کا ہمارا ایسا کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ہے. اتحادیوں سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ قیاس آرائیاں ہورہی ہیں کہ وہ چھوڑ جائیں گے، میں تسلسل کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ وہ نہیں جائیں گے، میں ایک سیاسی کارکن ہوں، میں ان کے مزاج کو سمجھتا ہوں، وہ سیاسی گھرانہ ہے، وہ سیاسی فیصلے کرتے ہیں جذباتی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں ن لیگ نے ان کے راستے میں کانٹے بچھائے تحریک انصاف نے نہیں بچھائے. کہا جا رہا ہے کہ ق لیگ کو وزارت اعلیٰ دی جارہی ہے جبکہ ن لیگ کی اکثریت ہے، وہ جب چاہیں قالین کھینچ لیں گے. اسی طرح ایم کیوایم کے چھوڑنے کی بھی غیرمنطقی سی بات ہے، جبکہ ایم کیوایم کراچی میں پیپلزپارٹی کی نفی ہے.
