پاکستانی ماڈل کیلئے مس یونیورس مقابلے میں شرکت چیلنج کیسے بنی؟

پاکستانی ماڈل ایریکا رابن کے لیے مس یونیورس کے مقابلے میں شرکت چیلنج بن گئی ہے، عوام اور سیاستدانوں کی جانب سے ماڈل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، تو وہیں نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا ہے۔پاکستان میں مذہبی رجحان کی حامل سمجھے جانے والی سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کے سینیٹرمشتاق احمد نے انھیں ’شرمناک‘ قرار دیا، یہی نہیں بلکہ ان کے ’بے باک‘ اقدام پر خصوصاً پاکستانی مردوں کے بیچ آن لائن ہونے والی چہ میگوئیاں بھی بہت خطرناک رہی ہیں۔کراچی شہر کی ایریکا رابن پاکستان جیسے قدامت پسند معاشرے سے تعلق رکھنے کے باوجود ’مِس یونیورس‘ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے جا رہی ہیں۔ مس یونیورس کا فائنل سینٹرل امریکہ کے ملک ایل سلواڈور میں آئندہ ماہ 18 نومبر کو منعقد ہوگا۔ ایریکا رابن جہاں اس انتخاب کو اپنے لیے اعزاز سمجھ رہی ہیں وہیں وہ اس پر پاکستان میں اٹھنے والے شدید ردعمل پر بہت حیران بھی ہیں۔ایریکا رابن کے مطابق ’میرے خیال میں لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں مردوں سے بھرے ایک کمرے میں سوئمنگ سوٹ میں پریڈ کر رہی ہوں گی، دوسری جانب ایریکا رابن کی نامزدگی پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کی نمائندگی کر رہی ہیں جو مقابلہ حُسن میں نمائندگی نہیں چاہتا۔ خاص طور پر مسلم اکثریت رکھنے والے ملک پاکستان میں جہاں خوبصورتی کے مقابلے شاذ ہی ہوتے ہیں تاہم اِن مقابلوں کی 72 سالہ تاریخ میں پاکستان نے کبھی بھی مس یونیورس کے لیے نمائندہ نامزد نہیں کیا۔ان تمام مخالفتوں کے درمیان ماڈلز، مصنفین اور صحافیوں نے یکساں طور پر ایریکا رابن کو مبارکباد دی ہے، صحافی ماریانا بابر نے ایکس (ٹویٹر) پر ان کی خوبصورتی اور ذہانت کی کُھل کر تعریف کی۔ کراچی میں مقیم مصنف اور تبصرہ نگار رافع محمود نے بی بی سی کو بتایا ’ہم تضادات کا شکار قوم ہیں اور خواتین اور پسے ہوئے طبقات سے متعلق معاملات ہمارے ان تضادات کو مزید سامنے لاتے ہیں۔پاکستان بنیادی طور پر آمرانہ ذہنیت کی حامل ریاست ہے جو سخت پدرانہ اقدار کی عکاسی کرتی ہے اور ایریکا رابن نے جس شدید رویے کا سامنا کیا ہے وہ اس کا عکاس ہے۔1973 میں پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایک ایسا آئین تشکیل دیا جس نے ملک کو اسلامی جمہوریہ اور اسلام کو ریاستی مذہب قرار دے دیا، 1980 کی دہائی کے وسط تک جنرل ضیا الحق نے اسلامی قانون سے اپنی وابستگی ظاہر کرنے کے لیے سرعام کوڑے مارنے کی سزا کو بھی بحال کر دیا۔ آج پاکستان میں نائٹ کلبز اور بارز ختم ہو چکے ہیں اور ہوٹل میٹروپول کی عمارت کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے جیسے یہ گرنے کے دہانے پر ہیں۔کراچی کے سینٹ پیٹرک ہائی سکول اور گورنمنٹ کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس کی گریجویٹ ایریکا اس بات پر قائم ہیں کہ انھوں نے کچھ غلط نہیں کیا، میں عالمی پلیٹ فارم پر پاکستان کی نمائندگی کر کے کوئی قانون نہیں توڑ رہی۔ میں اپنے ملک کے بارے میں موجود دقیانوسی تصورات کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہوں۔

Back to top button