سماجی مسائل پر مبنی فیملی فلم ’’ذرا ہٹ کے ذرا بچ کے‘‘

متوسط فیملی پر جب بھی کوئی فلم بنی ہے، مالی مشکلات میں گھرے رشتوں کو نبھانے کا چیلنج ہمیشہ نمایاں طور پر سامنے آیا ہے، ایسا ہی کچھ سارہ علی خان اور وکی کوشل کی فلم ’’ذرا ہٹ کے ذرا بچ کے‘‘ میں بھی دکھایا گیا ہے۔
کنجوسی اور کفایت شعاری کی باہمی سرحد بالکل ایک باریک سی لکیر ہوتی ہے جو مڈل کلاس لوگوں سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ یہ اتنی باریک ہوتی ہے کہ کبھی کبھی تو نظر بھی نہیں آتی اور مڈل کلاسیے اپنے ارمانوں کی سمگلنگ کرتے اس کے آر پار ہوتے رہتے ہیں، بعض اوقات یہ ارمان پورے تو ہو جاتے ہیں لیکن اسی دوران رشتے، دوستیاں اور محبتیں برباد کر جاتے ہیں۔
فلم کے مرکزی کرداروں کے لیے وکی کوشل اور سارہ علی خان کا انتخاب کیا ہے جنہوں نے اداکاری کے معاملے میں بالکل مایوس نہیں کیا، ایسا لگتا ہے کہ سارہ کی شکل میں بالی وڈ انڈسڑی کو کرینہ کپور کا نعم البدل مل گیا۔ اس فلم میں سارہ کی بے ساختہ اداکاری، مزاحیہ اور طنزیہ مکالموں کی ادائیگی (کامیڈی ٹائمنگ) اور خاص کر پنجابی لڑکی کے کردار میں غصے میں بولے جانے والے مکالمے سننے کے لائق ہیں۔
وکی کوشل نے اندور، مدھیہ پردیش میں رہنے والے ایک لڑکے کا کردار ادا کیا ہے جس کے لیے انہوں نے اندوری لہجہ سیکھنے کے لیے بھی خاصا وقت لگایا، ان کے مکالموں کی بے ساختگی بھی سارہ کے مکالموں سے کم نہیں ہے۔ میری رائے کے مطابق وکی کوشل مستقبل میں کارتک آریان اور شاہد کپور کو ٹف ٹائم دے سکتے ہیں۔
فلم کی کہانی ایسے میاں بیوی کی ہے جو اپنے الگ گھر کا خواب دیکھتے ہوئے کسی حد کو بھی پار کر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کپل چاولہ ( وکی کوشل) اور سومیا ( سارہ علی خان) نیا مکان حاصل کرنے کے چکر میں طلاق تک لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں لیکن اگر طلاق ہو گئی تو گھر کس کام کا؟ الگ گھر کا خواب دونوں اسی لیے دیکھتے ہیں کہ سارا خاندان جو سر پر سوار رہتا ہے اس سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔
فلم کا سکرین پلے لکھنے والوں میں مائترے باجپائی اور رمیض خان کے ساتھ ڈائریکٹر لکشمن اوتیکر کا نام بھی شامل ہے جنہوں نے تمام مکالموں کے ساتھ مکمل انصاف کیا ہے۔مڈل کلاس کے وہ تمام گھرانے جو ( جوائنٹ فیملی سسٹم میں) اکٹھے رہتے ہیں، ان کے پاس اپنی محرومیوں کے متبادل طنز کے تیر وافر مقدار میں ہوتے ہیں جو وہ آپس میں ایک دوسرے پر چلا کر اپنی ذہنی کوفت کا ازالہ ممکن بناتے ہیں۔
فلم میں معاون اداکاروں نے بھی اتنی ہی جاندار اداکاری کی ہے جتنی مرکزی کرداروں نے، یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ فلم کی کاسٹنگ پیشہ ورانہ انداز سے کی گئی، یہ فلم اگرچہ کوئی شاہ کار نہیں اور شاید کسی ایوارڈ کی دوڑ میں بھی شامل نہ ہو سکے لیکن ایک سماجی موضوع پر بات کرتی فیملی انٹرٹینمنٹ فلم ہے، اس فلم کے گانے بھی سامعین پسند کر رہے ہیں جبکہ پھر اور کیا چاہئے‘‘ نامی گانے کی ویڈیو یو ٹیوب پر 84 ملین سے زائد مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔
فلم ریٹنگ کے لحاظ سے آئی ایم ڈی بی پر 10 میں سے پچھلے ایک ہفتے کے اندر 7 سے 8 کا ہندسہ عبور کر چکی ہے جبکہ ٹائمز آف انڈیا اسے 5 میں سے 1۔3 کی ریٹنگ دیتا ہے۔ فلم کی کہانی تو پرانی ہی ہے لیکن مکالموں اور گانوں کی بنیاد پر فلم ناظرین کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

Back to top button