کیا اسامہ مخالف CIA آپریشن کیانی اور پاشا کی مرضی سے ہوا؟

معروف امریکی صحافی سیمور ہرش نے 2 مئی 2011ء کو القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف ایبٹ آباد میں کیے جانے والے امریکی آپریشن کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کی زیر قیادت پاک فوج اور جنرل احمد شجاع پاشا کی زیر قیادت آئی ایس آئی کے بھرپور تعاون سے اس کی منصوبہ بندی کی تھی اور دونوں پاکستانی جرنیلوں کو اس کا مکمل علم تھا۔
سیمور ہرش کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس کا یہ دعوی بالکل بے بنیاد تھا کہ اسامہ کے خلاف کیا جانے والا آپریشن مکمل طور پر امریکی کارروائی تھا، اور یہ کہ پاک فوج کے سینئر جرنیلوں اور آئی ایس آئی کو پیشگی طور پر اس کے متعلق نہیں بتایا گیا تھا، سیمور کہتے ہیں کہ یہ سب جھوٹ ہے اور اوباما انتظامیہ کی جانب سے اس سلسلے میں جو کچھ بھی بتایا گیا وہ بھی غلط تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے بڑا جھوٹ یہ تھا کہ پاکستان کے دو انتہائی سینئر فوجی جرنیلوں، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی چیف جنرل احمد شجاع پاشا، کو امریکی کارروائی کے متعلق علم نہیں تھا۔
سیمور اپنی ایک تفصیلی تحریر میں لکھتے ہیں کہ اسامہ کے مرنے کے بعد امریکہ نے کیانی اور پاشا کے ساتھ کیا گیا وعدہ توڑ دیا جو یہ تھا کہ اسامہ کی ہلاکت کے متعلق 10 روز تک کوئی اعلان نہیں کیا جائے گا اور بعد میں یہ دعویٰ کیا جائے گا کہ وہ امریکی ڈرون حملے میں مر گیا۔ سیمور ہرش نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسامہ بن لادن 2006ء سے ایبٹ آباد میں پاک فوج کی حراست میں تھا؛ یہ بھی کہ کیانی اور پاشا کو امریکی فوجی کارروائی کے متعلق پیشگی اطلاع تھی اور انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ دو امریکی ہیلی کاپٹرز نیوی سیلز کو لے کر افغانستان سے پاکستانی فضائی حدود میں ایبٹ آباد تک بغیر کسی الارم بجائے پہنچ جائیں۔
ان کے مطابق امریکی سی آئی اے کو اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے متعلق کسی بھی طرح کے خطوط یا کوریئر سے علم نہیں ہوا بلکہ پاک فوج کے ایک سینئر انٹیلی جنس افسر نے یہ بھانڈا امریکہ کی جانب سے اعلانیہ 25 ملین ڈالرز کے انعام کے عوض پھوڑا۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ امریکی صدر بارک اوباما نے اس کارروائی کا حکم دیا اور نیوی سیلز کی ٹیم نے یہ کارروائی کی لیکن اوباما انتظامیہ کی جانب سے سامنے آنے والے موقف کے کئی پہلو درست نہیں ہیں۔
ہرش نے دعویٰ کیا کہ انکی امریکی سطح پر معلومات کا سب سے بڑا ذریعہ ایک ریٹائرڈ سینئر انٹیلی جنس افسر ہے جس کے پاس اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کے حوالے سے ابتدائی معلومات تھیں۔ اسے کارروائی کیلئے نیوی سیلز کی تربیت کے کئی پہلوؤں کا بھی علم تھا، اور کارروائی کے بعد کی رپورٹس کے حوالے سے بھی علم تھا۔ اس حوالے سے دو مزید امریکی ذرائع وہ افراد ہیں جو طویل عرصہ سے اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے کنسلٹنٹ کے طور پر کام کر رہے ہیں اور ان کے پاس معلومات اور ان کے تبادلے کے حوالے سے علم تھا۔
سیمور ہرش کے مطابق، ’’مجھے پاکستان سے بھی اطلاعات ملی تھیں کہ پاکستان میں آئی ایس آئی اور فوجی قیادت کی جانب سے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے بن لادن کی موت کے فوراً بعد یہ خبر جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ سیمور ہرش کی رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اسامہ کی لاش کو سمندر برد نہیں کیا گیا اور جو لوگ بھی امریکی بحری جہاز پر موجود تھے انہوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے کسی کی لاش کو بھی سمندر برد کرتے نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ کا جنازہ پڑھانے کیلئے بھی امام موجود نہیں تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کی کہانی بعد میں گھڑی گئی اور جنرل کیانی نے کسی اور شخص کو اسامہ بن لادن کا ڈی این اے حاصل کرنے کیلئے مقرر کیا تھا۔ ہرش نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کا ایک افسر اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے میں آیا اور اسامہ کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا انکشاف کیا اور انعام کے 25 ملین ڈالرز طلب کیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کے بعد مخبر اور اس کے اہل خانہ کو پاکستان سے بحفاظت نکال کر امریکا لے جایا گیا اور اسے واشنگٹن کے قریبی علاقے میں رہائش دے دی گئی۔ اب یہ افسر سی آئی اے کیلئے بطور کنسلٹنٹ کام کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ بن لادن ناکارہ ہو چکا تھا لیکن ہم یہ بات نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ بات کیسے کہی جا سکتی ہے کہ آپ نے ایک معذور یا ناکارہ شخص کو گولی مار کر ہلاک کردیا، وہ شخص کس طرح کلاشنکوف اٹھا سکتا تھا؟
انہوں نے کہا کہ ہمیں جس طرح کے تعاون کی ضرورت تھی وہ پاکستان سے حاصل کرنے کیلئے زیادہ محنت نہیں کرنا پڑی کیونکہ پاکستان کو مستقل امریکی فوجی امداد چاہئے تھی۔ اس رقم کا زیادہ تر حصہ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں پر خرچ ہوتا تھا۔ سیمور ہرش نے کہا کہ ایک مرتبہ جنرل پاشا نے دو ٹوک انداز میں انہیں یہ واضح کیا کہ وہ کیا وجہ تھی جسکے تحت بن لادن کی گرفتاری کو خفیہ رکھا گیا اور آئی ایس آئی کیلئے یہ کیوں ضروری تھا کہ یہ بات راز رہے۔ پاشا کا کہنا تھا کہ ’’القاعدہ اور طالبان پر گہری نظر رکھنے کیلئے ہمیں ایک مغوی کی ضرورت ہے۔
آئی ایس آئی بن لادن کو طالبان اور القاعدہ کے خلاف ایک آلہ کار کے طور پر استعمال کر رہی ہے اور طالبان اور القاعدہ قیادت کو یہ بتانا چاہتی ہے کہ اگر ان کی کارروائیوں کی وجہ سے آئی ایس آئی کے مفادات کو نقصان ہوا تو بن لادن کو امریکا کے حوالے کردیا جائے گا۔ لہٰذا اگر ان کو یہ پتہ چل جاتا کہ پاکستانیوں نے امریکا کے ساتھ مل کر بن لادن کو ایبٹ آباد میں مار دیا ہے تو اس کے نتائج بہت بھیانک ہوتے۔
سیمور کے مطابق سی آئی اے کے ایک ذریعے کا کہنا تھا کہ ’’لیون پنیٹا کے ساتھ ملاقات میں پاشا سے ایک سینئر سی آئی اے عہدیدار نے سوال کیا کہ کیا وہ خود کو القاعدہ یا طالبان کے ایجنٹ کے طور پر دیکھتے ہیں یا نہیں, جس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ نہیں، لیکن آئی ایس آئی کو کچھ کنٹرول چاہئے۔ جس طرح سی آئی اے کو یہ سب نظر آ رہا تھا اس سے یہ پیغام مل رہا تھا کہ کیانی اور پاشا بن لادن کو ’’ایک سرمایہ‘‘ سمجھتے ہیں اور انہیں امریکا سے زیادہ اپنی بقاء میں دلچسپی تھی۔
سیمور ہرش کے مطابق، پاشا اور کیانی کی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا تھی کہ امریکی کارروائی کے وقت پاک فوج اور اس کا فضائی دفاع نظام حرکت میں نہ آئیں۔ تربیلا غازی میں قائم امریکی ٹھکانے کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ آئی ایس آئی، سینئر امریکی حکام اور افغانستان میں اپنی کمان پوسٹ اور دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹرز کے ساتھ رابطے میں رہے تاکہ کارروائی کے ٹھکانے کی درست جگہ معلوم ہو سکیں؛ ہدف یہ تھا کہ مبادا امریکی کارروائی کے دوران سرحدی گشت پر مامور کوئی پاکستانی لڑاکا طیارہ مداخلت نہ کر دے۔
سیمور کے مطابق ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ اسامہ کے خلاف کارروائی کی خبر فوراً جاری نہیں کی جائے گی۔ جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کے تمام یونٹ انتہائی رازداری کے ساتھ کام کر رہے تھے اور جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کو کیانی اور پاشا کی طرح یقین تھا کہ بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں عوامی سطح پر کم از کم سات روز تک رازداری برتی جائے گی، بلکہ ہوسکتا ہے اس بھی زیادہ دن تک۔ اور پھر اس کے بعد بہت دیکھ بھال کے ساتھ گھڑی گئی ایک کہانی جاری کردی جائے گی۔
صدر اوباما یہ اعلان کریں گے کہ ڈی این اے کے تجزیہ سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ افغانستان کی سرحد کے اندر کوہِ ہندوکش پر ایک ڈرون حملے میں اسامہ بن لادن مارے جا چکے ہیں۔ وہ امریکی جنہوں نے اس مشن کی منصوبہ بندی کی تھی، کیانی اور پاشا کو یقین دلایا تھا کہ ان کے تعاون کا راز کبھی فاش نہیں کیا جائے گا۔
جہانگیر ترین کی لندن سے وطن واپسی
تمام لوگ یہ بات سمجھتے تھے کہ اگر اس آپریشن میں پاکستان کے کردار کا علم ہو گیا تو پرتشدد احتجاج ہوگا۔ بہت سے پاکستانی بن لادن کو ہیرو تصور کرتے تھے اور اس صورت میں کیانی اور پاشا اور ان کے اہل خانہ خطرات میں گھِر جاتے اور پاک فوج کی سرعام بے توقیری ہوتی۔ لہٰذا وائٹ ہاؤس نے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد یہ موقف اپنایا کہ پاکستانی فوجی اور انٹیلیجنس قیادت کو اس آپریشن کا علم نہیں تھا۔
