یو اے ای کے لیے ڈیڑھ پیسہ فی مرلہ پر لاکھوں ایکڑ زمین کی لیز

وفاقی حکومت کی جانب سے ریکوڈک کے گیم چینجر منصوبے کے شئیرز سعودی عرب کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچنے کے بعد پنجاب حکومت نے لاکھوں مرلے اراضی چند ہزار روپے کے عوض متحدہ عرب امارات کو لیز پر دیدی ہے تاہم یہ جان کر پاکستانیوں کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی کہ اس لاکھوں مرلے اراضی کا کرایہ محض ڈیڑھ پیسہ فی مرلہ رکھا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب  سے متحدہ عرب امارات کو لیز پر دی گئی اراضی کے حوالے سے سامنے آنے والے حقائق کے مطابق پنجاب حکومت لاکھوں ایکڑ اراضی کے بدلے سالانہ صرف 54 ہزار 536 روپے وصول کرے گی۔ جس کے مطابق لیز پر دی گئی زمین کا کرایہ محض ڈیڑھ پیسہ فی مرلہ بنتا ہے۔ذرائع کے مطابق سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پنجاب کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو 2 لاکھ 91 ہزار 392 مرلے اراضی بعوض 54 ہزار 636 روپے سالانہ لیز پر دینے کی درخواست کی گئی تھی جس کی اب پنجاب حکومت نے باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔

صوبائی حکومت کی طرف سے اتنے کم کرائے پر زمین دینے کے سوال کے جواب میں حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں انٹرنیشنل ریلیشنز اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو جواز بنایا گیا ہے جس کے تحت پنجاب حکومت کی جانب سے شیخ زید بن سلطان النہیان کو یہ لیز دی گئی ہے ، جس کے تحت رحیم یارخان اور بہاولپور میں واقع متحدہ عرب امارات کو صرف ڈیڑھ پیسے فی مرلہ ماہانہ پر تقریباً 3 لاکھ مرلے اراضی دی گئی ہے۔

مبصرین کے مطابق چین اور سعودی عرب کے بعد اب پنجاب حکومت نے متحدہ عرب امارات کو بھی نواز دیا ہے۔متحدہ عرب امارات کو دی گئی اراضی کی لیز کی شرح صرف ڈیڑھ پیسہ ماہانہ فی مرلہ مقررکی گئی ہے۔ اس اراضی کا کل حجم 3 لاکھ مرلہ بنتا ہے۔رحیم یار خان اور بہاولپور کے علاقے میں لیز پر 14569کنال اراضی متحدہ عرب امارات کو30سال کے لیے سالانہ 54536 روپے کرائے کے عوض دی گئی ہے”۔غیر جانبدار تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سیاسی جماعتیں آپس میں دست و گریبان ہیں۔ جس کی وجہ سے ملکی وسائل کی طرف کسی کی توجہ نہیں رہی اور حکومتیں ملکی وسائل کی بند بانٹ میں مصروف ہیں۔

خیال۔رہے کہ تین سال پہلے پنجاب حکومت نے چولستان کے علاقے میں ایک لاکھ35ہزار ایکڑ اراضی چین کو بھی لیز پردی تھی جبکہ کچھ روز قبل وفاق کی جانب سے گولڈ کے ذخائرسعودی عرب کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچنے پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے ریکوڈک کے گیم چینجر منصوبے سے پاکستانی عوام کی قسمت بدلنے کی بجائےریکوڈک گولڈ منصوبے کے 15 فیصد شئیرز بغیر کسی پیشگی بڈنگ کے صرف 540ملین ڈالرز کے عوض سعودی عرب کو فروخت کر دئیے تھے۔حکومتِ پاکستان نے سعودی عرب کو 540 ملین ڈالر میں ریکوڈک منصوبے کے پندرہ فیصد شیئرز فروخت کی منظوری ایک بین الحکومتی معاہدے کے تحت دی تھی۔وفاقی حکومت کے پاس اس منصوبے کا کل 25 فیصد حصہ تھا جبکہ 25 فیصد حصہ بلوچستان کی صوبائی حکومت کا ہے۔ باقی پچاس فیصد شیئرز اس منصوبے کی آپریٹنگ کمپنی بیرک گولڈ کی ملکیت ہے۔وفاقی کابینہ کی طرف سے اپنے پندرہ فیصد شیئرز کی فروخت کی ڈیل کے تحت سعودی عرب دو قسطوں میں رقوم ادا کرنے کا پابند ہے۔ پہلے مرحلے میں سعودی عرب 10 فیصد حصص خریدے گا، جس کے لیے پاکستان کو 330 ملین ڈالرز منتقل کیے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں بقیہ 5 فیصد شیئرز 210 ملین ڈالرز میں خریدے جائیں گے۔

Back to top button