جنرل اختر عبدالرحمن کا افسانوی امیج کیسے تباہ ہوا؟

پاکستانی تاریخ کے انتہائی کامیاب جرنیل قرار دیے جانے والے سابق آئی ایس آئی چیف جنرل اختر عبد الرحمن کا نام سوئس بینک لیکس میں آنے کے بعد ان کی شخصیت کا یکسر منفی پہلو سامنے آیا ہے اور اب انہیں ایک بدعنوان منی لانڈرر قرار دیا جا رہا ہے۔
فاتح سوویت یونین کے لقب سے مشہور سابق آئی ایس آئی چیف جنرل اختر عبد الرحمن کو پاک فوج کی تاریخ میں ایک افسانوی کردار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے تاہم سوئس بینک لیکس نے ان کی شخصیت کا بھرم کھول کے رکھ دیا ہے۔ ناقدین یاد دلاتے ہیں کہ جید صحافی ہارون الرشید اور بریگیڈیئر یوسف نے اپنی تصانیف میں جنرل اختر مرحوم کو ایک دیو مالائی کردار کی طرح افغان جنگ میں فاتح سوویت یونین ثابت کیا تھا لیکن سوئس بینک سکینڈل میں انہیں "سپائیز ہوو لوٹڈ ویلتھ” کے خھاتے میں رکھا گیا ہے جس سے جنرل اختر کے کردار پر پر ایک داغ لگ گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق جرنیل اور آئی ایس آئی چیف جنرل اختر عبد الرحمن پر الزام ہے کہ انھوں نے غیر قانونی طور پر سوئٹزر لینڈ کے بینک میں ناجائز طریقوں سے حاصل کی گئی لاکھوں ڈالرز دولت اکٹھی کی۔ یہ الزامات بین الاقوامی نجی بینک ’کریڈٹ سوئز‘ کے صارفین کے اکاؤنٹس کی خفیہ معلومات پر مشتمل ’دی سوئز سیکرٹس‘ کا حصہ ہیں جن میں دنیا بھر سے سیاست دانوں، فوجی آمروں، جرائم پیشہ افراد سمیت کئی دیگر افراد کا نام بھی شامل ہے۔
انٹر سروسز انٹیلیجنس یا آئی ایس آئی کے سربراہ اور بعد میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تعینات رہنے والے جنرل اختر کا خاکہ کھینچتے ہوئے بریگیڈیئر محمد یوسف انہیں ایک قابل فخر فوجی جرنیل قرار دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جنرل اختر قیام پاکستان سے قبل 1946 میں رائل برٹش آرمی میں شامل ہوئے اور تین جنگوں میں شریک رہے۔
اس کے باوجود اُن کی عسکری زندگی کا سب سے اہم معرکہ جہاد افغانستان ہے جسے سرد جنگ کا نکتہ عروج بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور اس کے خاتمے کا سبب بھی۔ ’جہاد افغانستان‘ میں اُن کی شرکت اور دلچسپی سے متعلق بریگیڈیئر یوسف نے اپنی کتاب ’خاموش مجاہد‘ میں تفصیل سے ذکر کیا ہے اور انہیں ایک بہادر اور دیانت دار افسانوی کردار ثابت کیا ہے۔
دوسری جانب ممتاز کالم نگار اور جنرل اختر عبدالرحمن کی سوانح حیات ’فاتح‘ کے مصنف ہارون رشید بھی انہیں ایک افسانوی کردار قرار دیتے ہوئے لیے فاتح افغانستان گردانتے ہیں جن کی زیر قیادت دنیا کی ایک بڑی سپر پاور روس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ہارون رشید کہتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل ضیاء الحق اور آئی ایس آئی چیف جنرل اختر عبد الرحمن کی غیر معمولی قربت کی وجہ دونوں جرنیلوں کے خاندانوں کی مشرقی پنجاب سے نقل مکانی تھی۔ ہارون رشید بتاتے ہیں کہ جنرل ضیا اور جنرل اختر کے گھروں کی دیواریں ملتی تھیں۔ چنانچہ دیوار میں ایک دروازہ بنا دیا گیا تھا تاکہ دونوں جرنیل جب چاہیں ایک دوسرے کے گھر جا کر افغان جنگ کے بارے میں خفیہ مشاورت کر سکیں۔
فضل الرحمن، نواز شریف کا حکومت مخالف تحریک کو تیز کرنے پر اتفاق
عبدالرحمان کی دیانت کا ایک قصہ بیان کرتے ہوئے ہارون رشید کہتے ہیں کہ وہ اپنی تنخواہ مساکین اور غرباء میں تقسیم کر دیا کرتے تھے اور پھر مہینے کے آخری دنوں میں دوستوں سے ادھار لے کر گھر کا خرچہ چلاتے تھے۔
بریگیڈیئر یوسف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ افغان جنگ میں جنرل اختر کی صلاحیتوں کو امریکہ نے بھی تسلیم کیا تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب سی آئی اے کے سربراہ ولیم کیسی پاکستان آئے تو جنرل اختر کی تربیت اور منصوبہ بندی کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔
افغان جنگ کے دوران فوج اور سول انتظامیہ کے درمیان اکثر بدمزگی رہا کرتی تھی۔ جنرل اختر کے سامنے اکثر شکایت کی جاتی کہ افغان کمشنریٹ بدعنوانی کی آماجگاہ ہے اور مہاجرین کا کوئی کام رشوت کے بغیر نہیں ہوتا۔ بریگیڈیئر یوسف کے مطابق جنرل اختر ایسی خبروں پر کچھ کر نہیں پاتے تھے اور دکھی ہو جاتے تھے۔ بریگیڈیئر یوسف نے لکھا ہے کہ جنرل اختر بے داغ شخصیت کے مالک فوجی افسر تھے جن کے دامن پر بدعنوانی کا کوئی داغ نہیں تھا۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک واقعے کا ذکر بھی کیا ہے۔
ان کے مطابق ایک بار آئی ایس آئی کے لیے گاڑیاں خریدی گئیں تو متعلقہ شخص نے کمیشن کے طور پر انھیں 20 لاکھ روپے پیش کیے۔ جنرل اختر نے قبول کرنے سے انکار کیا تو پیشکش کرنے والے نے کہا کہ یہ رقم اُن کا حق ہے اور حکومت کا کوئی افسر فوجی ہو یا غیر فوجی، وہ ایسے کمیشن کو قبول کرنے سے انکار نہیں کرتا۔ جنرل اختر نے یہ دلیل بھی مسترد کر دی اور کہا کہ اگر وہ بہرصورت یہ رقم دینا ہی چاہتا ہے تو وہ چند گاڑیاں مزید فراہم کر دے جنھیں وہ ’افغان جہاد‘ میں استعمال کر سکیں۔
بریگیڈیئر یوسف کے مطابق یہ جنرل اختر ہی کی حکمت عملی تھی جس کے نتیجے میں افغان جنگ کی کامیابی انہی کے دور میں یقینی تھی لیکن عین فیصلہ کن مرحلے پر جنرل اختر کو آئی ایس آئی سے ہٹا کر چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی بنا دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اس فیصلے سے جنرل اختر کو بھی صدمہ پہنچا اور خود افغان جنگ کو بھی۔ لہٰذا اس زمانے کے حالات کو انھوں نے عہد زوال کے عنوان سے قلم بند کیا ہے۔ جنرل اختر کو اس منصب سے کیوں ہٹایا گیا، بریگیڈیئر یوسف کے خیال میں یہ فتح کے کریڈٹ کا معاملہ تھا۔
افغان جنگ سے جنرل اختر کی وابستگی کتنی گہری تھی۔ اس سلسلے میں ہارون رشید ایک واقعہ بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک بار مجاہدین کے لیے چینی ساختہ توپیں حاصل کی گئیں۔ یہ توپیں 60 گولے لگاتار فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔ جنرل اختر کی دلچسپی ان توپوں میں غیر معمولی تھی لہٰذا ان کی کارکردگی میں مزید اضافے میں انھوں نے خصوصی دلچسپی لی جس کے نتیجے میں یہ توپیں 120 گولے برسانے کے قابل ہو گئیں۔ ہارون رشید کہتے ہیں کہ جنرل اختر کو سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑا لیکن یہ تمام الزامات بے بنیاد تھے۔
وہ اپنی ذاتی معلومات کی بنیاد پر کہتے ہیں کہ اس خاندان کی تمام دولت جنرل اختر کے بیٹوں کی محنت کی مرہون منت ہے۔ وہ جنرل اختر کے سب سے بڑے بیٹے اکبر کا ذکر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاندان میں انھیں دولت بنانے کی مشین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق وہ فیکٹری لگا کر چلانے کا غیر معمولی تجربہ رکھتے تھے۔
اکبر اب امریکا میں کام کرتے ہیں جب کہ جنرل اختر کے تین دیگر بیٹے اختر، ہارون اور غازی بھی کاروبار کی غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں۔ ہارون الرشید کے مطابق جنرل اختر عبد الرحمن اپنی تنخواہ بھی افغان مہاجرین کے بچوں کے لئے کھلونے خریدنے پر خرچ کر دیتے تھے اور ایک بار تو انہیں مہینہ شروع ہوتے ہی مجھ سے دو سو روپے قرض لینا پڑ گیا تھا۔
یاد رہے کہ جنرل ضیا کے دور میں راولپنڈی، اسلام آباد کے سنگم پر واقع اوجھڑی کیمپ میں اسلحے کے ذخیرے میں خوفناک آتشزدگی کا الزام جنرل اختر عبد الرحمن کو دیا جاتا ہے۔ تاہم ہارون رشید کہتے ہیں کہ اس واقعہ کا جنرل اختر سے کوئی تعلق ہو ہی نہیں سکتا کیوںکہ اس وقت آئی ایس آئی سے ان کا کوئی تعلق نہ تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ اسلحے کے اس ذخیرے کے تباہی میں امریکا ملوث تھا جو نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان ’مجاہدین‘ کو مزید اسلحہ فراہم کرے۔ جنرل اختر اور افغان جنگ سے متعلقہ کہانیاں تاریخ کے اوراق پر محفوظ ہو چکی ہیں۔ بہت سی کہانیاں سینہ بہ سینہ آج بھی منتقل ہوتی رہیں۔ تاہم اب سوئس بینک اکاؤنٹس کے انکشاف نے جنرل اختر عبدالرحمن کے افسانوی کردار کو دھندلا کر دیا ہے۔
