لیبیا: صدارتی الیکشن سے پہلے کرنل قذافی کے بیٹے سیف قتل

 

 

 

لیبیا کے سابق حکمران کرنل معمر قذافی کے قتل کے 15 برس بعد انکے بڑے بیٹے اور سیاسی جانشین سیف الاسلام قذافی کو بھی قتل کر دیا گیا ہے، یوں قذافی خاندان کے لیبیا میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے امکانات بالکل ختم ہو گئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ سیف الاسلام کا قتل لیبیا میں اسی برس ہونے والے صدارتی انتخابات سے پہلے کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ  کرنل قذافی کو 20 اکتوبر 2011 کو لیبیا کے شہر سرت میں تب قتل کیا گیا تھا جب وہ نیٹو کی حمایت یافتہ باغی افواج سے بچ کر فرار ہو رہے تھے۔ قذافی کو زندہ پکڑا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں انہیں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

 

لیبیا کی سیاسی تاریخ 2011 کے بعد ایک مسلسل بحران کی داستان ہے، 3 فروری 2026 کو تب اس بحران میں اور بھی ذیادہ اضافہ ہو گیا جب معمر قذافی کے سیاسی جانشین اور بڑے بیٹے سیف الاسلام قذافی کو ان کے گھر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ ان کے وکیل خالد زیدی نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا ہے کہ چار نقاب پوش افراد نے زنتان میں ان کے گھر پر حملہ کیا، سیکیورٹی کیمروں کو بند کیا اور سیف کو قتل کر دیا۔ شواہد بتاتے ہیں کہ قذافی کے بیٹے نے مرنے سے پہلے حملہ آوروں کا مقابلہ کیا۔ لیکن ابھی تک یہ واضح نہیں کہ حملہ آور کون تھے یا اس قتل کے پیچھے کون سی طاقتیں تھیں۔

 

جہاں تک سیف الاسلام قذافی کا تعلق ہے، وہ 25 جون 1972 کو پیدا ہوئے تھے۔ اس حساب سے جب ان کے والد قذافی 20 اکتوبر 2011 کو قتل ہوئے تو سیف الاسلام قذافی کی عمر 39 سال تھی۔ اپنے والد کے قتل کے بعد سیف الاسلام روپوش ہو گئے تھے لیکن نومبر 2011 میں زنتان کے علاقے سے گرفتار کر لیے گئے تھے، اس کے بعد وہ کئی برس تک لیبیا کی سیاست کا ایک متنازع مگر اہم کردار بنے رہے۔ سیف قذافی ایک زمانے میں اپنے والد معمر قذافی کے جانشین تصور کیے جاتے تھے۔ 2000ء کی دہائی میں مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا، لیکن سال 2011 میں قذافی کے خلاف نیٹو کے ایما پر ہونے والی بغاوت کے دوران انہوں نے اپوزیشن کے ساتھ سخت موقف اختیار کیا اور ان پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات بھی لگے، چنانچہ انہیں فوجداری عدالت کے وارنٹوں کا سامنا رہا۔

 

سیف الاسلام قذافی نے 2021 میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کی تھی، مگر نااہلی اور آئینی و سیاسی تنازع کی وجہ سے وہ انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔ اس الیکشن میں انتخابی مشینری کی ناکامی نے لیبیا کو مزید تقسیم کی طرف دھکیل دیا تھا۔  ان کے قتل کے جن ممکنہ محرکات پر غور کیا جا رہا ہے ان میں اہم بات یہ ہے کہ سیف قذافی سیاسی منظرنامے میں واپس آنے کے راستے پر گامزن تھے جس سے ان کے مختلف سیاسی اور مسلح فریقین کو خطرہ محسوس ہو رہا تھا۔ ویسے بھی اپنے آباؤ اجداد کی وجہ سے سیف کے مخالفین میں ان کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی تھی اور ان کے ممکنہ سیاسی عروج سے وہ اپنے اقتدار یا اثر و رسوخ کھونے کا خدشہ محسوس کرتے تھے۔

اقتدار کے نشے میں ڈوبے حکمران مصیبت کیوں بن جاتے ہیں ؟

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سیف کے قاتل لیبیا کے طاقتور ملیشیا گروپس یا سیاسی حریفوں کے ساتھ منسلک ہو سکتے ہیں جنہوں نے اپنے اثر و رسوخ اور علاقائی طاقت کو برقرار رکھنے کی خاطر سیف الاسلام جیسے طاقتور امیدوار کو ہٹانا ضروری سمجھا ہو۔ سوشل میڈیا پر قتل کے ذما دوروں میں بریگیڈ 444 اور کئی دیگر گروہوں کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔

 

یاد رہے کہ لیبیا کی موجودہ سیاسی صورتحال ایک عرصے سے غیر مستحکم ہے اور سیف کے قتل کے بعد یہ انتشار مزید گہرا ہو گیا ہے۔ ملک دو متوازی حکومتوں میں تقسیم ہے جن کے درمیان طاقت کی کشمکش جاری ہے۔ ایک حکومت قومی اتحاد کی ہے جو تریپولی میں قائم ہے اور اسے عالمی برادری کی طرف سے تسلیم کیا جاتا ہے، اس کے سربراہ عبدالحمید دبیبہ ہیں جو عالمی سطح پر لیبیا کے عبوری وزیر اعظم کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

 

دوسری جانب مشرقی لیبیا میں ایک متوازی انتظامیہ قائم ہے جسے قومی استحکام کی حکومت کہا جاتا ہے، جس کے زیرِ کنٹرول علاقے بنگھازی اور مشرقی و جنوبی شہر شامل ہیں۔ اس حکومت کو لیبیا کے قومی اسمبلی تسلیم کرتی ہے۔ اس کا سیاسی سربراہ اسامہ حماد ہے جبکہ اس کے پیچھے فوجی قوت میں خلیفہ حفتار جیسی شخصیات کا اثر و رسوخ ہے۔

 

لیبیا کی یہ دو حکومتیں ایک دوسرے کی موجودگی کو قبول نہیں کرتیں اور دونوں اپنے اپنے علاقوں میں اقتدار قائم رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس سے ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہتا ہے۔ اسی لیے لیبیا میں انتخابی عمل ملتوی ہوتا آیا ہے، 2026 کی ممکنہ صدارتی دوڑ جس میں سیف الاسلام ایک اہم امیدوار کے طور پر سامنے آئے تھے۔

 

بہت سے سیاسی مبصرین سمجھتے ہیں کہ سیف الاسلام جیسے مضبوط امیدوار کا وجود دونوں ہی حکومتوں اور ان کے مسلح گروہوں کے لیے خطرہ تھا، کیونکہ وہ لیبیا کے تقسیم شدہ منظرنامے میں ایک نسبتاً متحد کردار ادا کر سکتا تھا، خصوصاً اگر وہ امن یا قومی مفاہمت کی بات کرتا۔ لہٰذا ان کے قتل نے کچھ حلقوں کو فائدہ پہنچایا ہے جو موجودہ تقسیم اور سیاسی طاقت کی کشمکش کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اب جبکہ لیبیا اپنے سب سے زیادہ متنازع سیاسی دور سے گزر رہا ہے، سیف الاسلام قذافی کا قتل نہ صرف ایک فرد کی موت ہے بلکہ وہ ایک ملک کے مستقبل، اس کے انتخابات، اور طاقت کی تقسیم کے سوالات کا علامتی نقطہ بھی بن گیا ہے۔ داخلی طاقتوں کی کشمکش، ملیشیاؤں کی آزادانہ کارروائیاں، اور دو متوازی حکومتوں کا وجود اس بات کا ثبوت ہیں کہ لیبیا آج بھی اپنی سیاسی شناخت کے لیے ایک طویل جدوجہد کے بیچ کھڑا ہے جس کے نتیجے میں امن اور استحکام کے امکانات نہ صرف غیر یقینی ہیں بلکہ خونریز سیاسی لڑائیاں مستقبل میں بھی جاری رہ سکتی ہیں۔

Back to top button