میرا گھر میرا آشیانہ سکیم کے تحت قرض کی حد بڑھاکرایک کروڑ کردی گئی

وفاقی حکومت نے سستے گھروں کے حصول کو آسان بنانے کیلئے “میرا گھر میرا آشیانہ” سکیم کے تحت قرض کی زیادہ سے زیادہ حد بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دی۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس سکیم کے تحت قابلِ قبول رہائشی یونٹ کا سائز بھی بڑھا دیا گیا ہے، جس کے بعد اب شہری 10 مرلہ تک کے گھر یا 1500 مربع فٹ کے فلیٹ کیلئے قرض حاصل کر سکیں گے۔
اس سے قبل یہ حد 5 مرلہ یا 1360 مربع فٹ تک محدود تھی، تاہم نئی ترامیم کے بعد اس میں نمایاں توسیع کر دی گئی ہے۔
حکام کے مطابق قرض کی حد میں تقریباً 180 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت اب 35 لاکھ روپے کے بجائے ایک کروڑ روپے تک قرض حاصل کیا جا سکے گا، جبکہ صارفین کیلئے 5 فیصد مقررہ شرح سود رکھی گئی ہے۔
اس سکیم کے تحت گھر کی خریداری، فلیٹ لینے، پلاٹ خریدنے اور اپنی زمین پر تعمیرات کیلئے بھی قرض فراہم کیا جائے گا۔ قرض کی مدت 20 سال تک ہو گی جبکہ ابتدائی 10 سال کیلئے حکومت مارک اپ سبسڈی فراہم کرے گی۔
اس کے علاوہ صارفین کو قرض کے حصول کیلئے صرف 10 فیصد رقم اپنی جانب سے دینا ہو گی، جبکہ حکومت سکیم کے تحت بینکوں کو بھی جزوی رسک کوریج فراہم کرے گی۔
سٹیٹ بینک نے تمام کمرشل اور اسلامی بینکوں، مائیکروفنانس بینکوں اور ہاؤس بلڈنگ فنانس کمپنی لمیٹڈ کو ہدایت کی ہے کہ وہ سکیم کی نئی تفصیلات عوام تک مؤثر انداز میں پہنچائیں اور اس پر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
