لندن ہائی کورٹ سے بھگوڑے میجر عادل راجہ کے خلاف فیصلہ آنے کا امکان

پاکستان سے فرار ہو کر لندن میں پناہ حاصل کرنے والے بھگوڑے میجر ریٹائرڈ عادل راجہ نے لندن ہائی کورٹ میں اپنے خلاف دائر ہتک عزت کیس کی سماعت کے دوران اعتراف کر لیا ہے کہ اس کے پاس اپنے دفاع کے لیے سچائی پر مبنی کوئی مواد موجود نہیں ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ عادل راجہ نے آئی ایس آئی پنجاب کے سابق سیکٹر کمانڈر بریگیڈیئر ریٹائرڈ راشد نصیر پر الیکشن میں دھاندلی اور لوگوں کے اغوا اور تشدد کے جو الزامات عائد کیے تھے وہ جھوٹ پر مبنی تھے۔

 سابق سینئر فوجی افسر بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر نے برطانوی ہائی کورٹ میں بھگوڑے میجر ریٹائیرڈ عادل راجہ کے خلاف دائر ہتک عزت کیس کی سماعت کے دوران اپنا کیس پیش کرتے ہوئے کہا کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس اور فوج کا شہریوں کے اغوا اور تشدد کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں، اور یہ الزامات جھوٹ پر مبنی ہیں۔

عدالت میں میجر (ر) عادل راجہ کے خلاف گواہی دیتے ہوئے ریٹائرڈ برگیڈیئر راشد نصیر نے کہا کہ آئی ایس آئی پر سینیئر صحافی ارشد شریف کے قتل کا الزام بھی سراسر جھوٹ پر مبنی ہے اور اس حوالے سے کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ارشد شریف فائرنگ کے دوران کینیا میں مارے گئے لیکن اس کا الزام بھی عادل راجہ نے آئی ایس آئی پر دھر دیا۔ ٹرائل کے دوسرے روز عادل راجہ کے وکیل، بیرسٹر سائمن اور بریگیڈیر راشد نصیر کے وکیل ڈیوڈ لیمر دونوں نے جرح کی۔ بھگوڑے میجر (ر) عادل راجہ نے بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کیخلاف سوشل میڈیا پر جھوٹے الزامات عائد کرنے کی تردید کی لیکن دوسری جانب اس بارے ثبوت پیش کیے گئے۔ ان الزامات میں صحافی ارشد شریف کے کینیا میں قتل اور سابق وزیر اعظم عمران خان پر قاتلانہ حملے سے متعلق دعوے بھی شامل ہیں۔

بریگیڈیر راشد نصیر کے وکیل ڈیوڈ لیمَر نے ویڈیو لنک پر موجود عادل راجہ سے جرح کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوج میں صرف میجر رہے اور ان کے پاس وہ حساس معلومات نہیں ہو سکتیں جو اعلیٰ فوجی افسران کو دستیاب ہوتی ہیں۔ لہذا اگر وہ ایک سابق میجر ہونے کی بنیاد پر جھوٹے دعوے کرتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اس پر عادل راجہ نے کہا کہ وہ دراصل فیلڈ کمانڈر رہے اور کئی فوجی آپریشنز میں شریک بھی رہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے میڈیا وِنگ کا سربراہ بھی رہا ہوں لہذا میرے پاس حساس معلومات کا خزانہ موجود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اب بھی پاکستانی فوج کے خاموش سپاہیوں سے رابطے میں ہوں جو ملک میں جمہوریت کی جنگ لڑ رہے ہیں اور فسطائیت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ میرے ذرائع اب بھی پاکستانی اداروں میں موجود ہیں۔

9 مئی کی سزاؤں کے بعد تحریک : PTI کا دھڑن تختہ ہونے کا امکان

تاہم بریگیڈیر راشد نصیر کے وکیل نے عادل راجہ کے دعووں کو بچگانا اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عادل راجہ اب یوٹیوبر بن چکے ہیں۔ وہ دن میں اپنے وی لاگ میں جو دعوے کرتے ہیں وہ اسی شام جھوٹے ثابت ہو جاتے ہیں لہذا ان کی ساکھ صفر ہے لیکن وہ پھر بھی جھوٹے الزامات لگانے سے باز نہیں آتے۔ لندن ہائی کورٹ کے جج رچرڈ سپیئرمین نے ریمارکس دیے کہ وہ بریگیڈیئر (ر) راشد نصیر کے عادل راجہ کے خلاف ہتک عزت کیس کو پاکستانی سیاست کے ٹرائل میں بدلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جج نے کہا کہ یہ ایک فرد کی ہتک عزت کا کیس ہے اور اس کا پاکستان کی مجموعی سیاسی صورتحال یا فوج یا آئی ایس آئی کے کردار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جج نے عادل راجہ کے وکیل سے اعتراف کروایا کہ اس کے پاس اپنے دفاع کے لیے سچائی پر مبنی کوئی مواد موجود نہیں ہے۔ اس کے فوراً بعد عادل راجہ نے ’’سچائی پر مبنی دفاع‘‘ کا دعوی واپس لے لیا، جس کا مطلب ہے کہ وہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتے کہ راشد نصیر کے خلاف لگائے گئے الزامات درست ہیں۔ ایسے میں راشد نصیر کی جانب سے دائر کردہ ہتک عزت کیس کا فیصلہ میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کے خلاف آتا دکھائی دیتا ہے۔

Back to top button