عزیر بلوچ رینجرز اہلکار قتل کیس میں بری

کراچی میں گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ اور شیر محمد عرف شیرو کو عدم شواہد کی وجہ سے رینجرز اہلکار قتل کیس میں بری کر دیا گیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کی عدالت میں دو رینجرز اہلکاروں کے قتل کیس کی سماعت ہوئی، عدالت نے قتل کا فیصلہ سناتے ہوئے عدم شواہد کی بنا پر گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ اور شیر محمد عرف شیرو کو بری کر دیا۔عذیر بلوچ کے وکیل عابد زمان نے عدالت میں موقف اپنایا کہ ملزموں کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کئے جا سکے ہیں۔
پراسیکیوشن جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا جس کے بعد عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر گینگ وار کے سرغنہ عزیر جان بلوچ اور شیر محمد عرف شیرو کو بری کر دیا ہے۔
کرونا سے مزید 630 افراد متاثر، 2 اموات
پولیس کی جانب سے موقف اپنایا گیا کہ ملزموں نے دو اہلکاروں اعجاز اور ناصر کو اغوا کے بعد قتل کیا اور مقتولین کی مسخ شدہ نعشیں میوہ شاہ قبرستان میں پھینک کر فرار ہوگئے۔
دونوں ملزموں کیخلاف پاک کالونی تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا، استغاثہ کی جانب سے شواہد پیش نہ کیا جانے پر عدالت نے دونوں ملزموں کو بری کر دیا۔
