محمود اچکزئی نےحکومت کو اصولی بنیادوں پر تعاون کی پیشکش کردی

قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف کا منصب سنبھالنے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں محمود خان اچکزئی نے پارلیمان کو بااختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے حکومت کو اصولی بنیادوں پر تعاون کی پیشکش کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ میں کسی کو بلاوجہ تنگ نہیں کروں گا۔
ایوان میں خطاب کرتے ہوئے محموداچکزئی نے کہاکہ قومی اسمبلی کو اصل طاقت کا مرکز بننا چاہیے۔ جب بھی حکومت عوامی مفاد میں قانون سازی کرے گی، اپوزیشن اس کا ساتھ دے گی، تاہم غلط کاموں میں کسی کی حمایت نہیں کی جائے گی۔
محمود خان اچکزئی نے کہاکہ پارلیمان میں گفتگو کا معیار بلند ہونا چاہیے اور ایسی باتوں سے گریز کرنا ہوگا جو معاشرتی اقدار کے منافی ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایوان کی حرمت اور وقار کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے حکومت کو پیشکش کی کہ اچھے اور تعمیری اقدامات کے لیے اپوزیشن کے ووٹ بھی شامل کیے جائیں اور داخلہ، خارجہ اور معاشی پالیسیاں پارلیمان کے اندر مشاورت سے ترتیب دی جائیں۔
اپوزیشن لیڈر نے کہاکہ انہوں نے ماضی میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کا مشکل وقت میں ساتھ دیا اور کبھی اپنے ووٹ کے بدلے کسی جماعت سے مالی فائدہ نہیں اٹھایا۔ ان کے مطابق وہ ہمیشہ اصولوں پر قائم رہے اور اپنے حلف کی پاسداری کی۔
محمود خان اچکزئی نے کہاکہ وہ ایوان میں غیر ضروری کسی کو تنگ نہیں کریں گے اور سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے مشاورت جاری رکھیں گے۔
انہوں نے بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ مضبوط پارلیمان نے اسے آگے بڑھایا، جبکہ جمہوریت کو کمزور کرنے کا نتیجہ ہمیں پیچھے لے گیا۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں وینزویلا کے حالات سے سبق سیکھنا چاہیے، کیونکہ بیرونی مداخلت نے وہاں خودمختاری کو نقصان پہنچایا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی بعض عالمی طاقتیں ممالک کو آپس میں لڑانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کے مطابق پاکستان اس وقت مشکلات کا شکار ہے جبکہ دیگر ممالک ترقی کی دوڑ میں آگے نکل چکے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج اور پولیس اتنی مضبوط ہیں کہ ملک کو عدم استحکام کا شکار نہیں ہونے دیں گی۔
