محمود خان اچکزئی اور پی ٹی آئی قیادت ایک بار پھر آمنے سامنے

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی قیادت ایک بار پھر کھل کر آمنے سامنے آ گئی۔ اپوزیشن لیڈر کی جانب سے عمران خان کی صحت، طبی سہولیات اور جیل سے ممکنہ منتقلی کے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی نے خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر جاری دھرنا اچانک ختم کرنے کا اعلان کر دیا ۔ اس متضاد اور دوغلی حکمتِ عملی نے نہ صرف پارٹی کی داخلی یکجہتی اور فیصلہ سازی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ بانی پی ٹی آئی، عمران خان، کے صحت کے حساس معاملے پر قیادت کے اختلافات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے پس منظر میں صرف سکیورٹی یا انتظامی وجوہات نہیں، بلکہ پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی دراڑیں اور قیادت کے مختلف دھڑوں کے متضاد موقف بھی کارفرما ہیں۔ ایک گروہ سڑکوں پر عوامی دباؤ کو زیادہ مؤثر سمجھتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ پارلیمنٹ کے اندر آئینی اور سیاسی دباؤ کو ترجیح دیتا ہے۔ اس کشمکش نے ظاہر کر دیا ہے کہ اپوزیشن جماعتیں بانی پی ٹی آئی کی صحت اور سیاسی مستقبل کے حساس معاملات پر بھی ایک پیج پر نہیں ہیں، اور داخلی اختلافات اس وقت کے احتجاجی منظرنامے پر بھی گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔
ناقدین کے مطابق سکیورٹی کی سخت صورتحال، بند راستوں اور بڑھتے دباؤ کے باوجود پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں اس بات پر مکمل اتفاق رائے موجود نہیں تھا کہ احتجاج کو سڑکوں تک رکھا جائے یا اسے پارلیمنٹ کے اندر منتقل کر دیا جائے۔ ایک گروہ کا مؤقف تھا کہ عوامی دباؤ برقرار رکھنا ہی مؤثر حکمتِ عملی ہے، جبکہ دوسرا حلقہ سمجھتا تھا کہ پارلیمانی دائرے میں رہ کر آئینی اور سیاسی دباؤ زیادہ نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی قیادت میں احتجاج کے حوالے سے اختیار کی گئی حکمت عملی پر اختلافات پارٹی کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں تک بھی پہنچ گئے ہیں، خیبرپختونخوا ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں نہ صرف احتجاج کی نوعیت بلکہ فیصلوں کے طریقہ کار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ بعض رہنماؤں نے شکوہ کیا کہ اہم فیصلے محدود مشاورت سے کیے جا رہے ہیں، جبکہ دیگر نے قیادت کے اندر رابطے کے فقدان کو موجودہ صورتحال کا سبب قرار دیا۔ پارٹی کے اندر یہ بحث بھی جاری رہی کہ احتجاجی حکمتِ عملی کو جذباتی بیانیے کی بجائے منظم سیاسی منصوبہ بندی کے تحت آگے بڑھایا جانا چاہیے۔ اسی تناظر میں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے کردار پر بھی پارٹی کے اندر بحث جاری ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ پیشکش کی گئی تھی کہ جب عمران خان کا جیل میں طبی معائنہ ہو تو تحریک انصاف اپنی طرف سے کسی ایک نمائندے کو نامزد کر دے جو اس عمل کے دوران موجود ہو تاہم علیمہ خان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔پارٹی کے بعض حلقے اس فیصلے کو غیر ضروری سخت موقف قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات میں لچک نہ دکھانے سے پارٹی اور عمران خان دونوں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ خیبرپختونخوا ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں اس معاملے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور بعض رہنماؤں نے کھل کر رائے دی کہ فیصلوں کے اس انداز پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن اتحاد کے اندر بھی احتجاج بارے اختیار کی گئی حکمتِ عملی پر اختلافات کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ کچھ رہنماؤں پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ احتجاج کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر تک محدود رکھنے کے حق میں ہیں جس سے سڑکوں پر موجود دباؤ کمزور پڑا۔ تاہم اتحاد کے قریبی حلقے اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے اندر جاری دھرنا زیادہ باوقار اور آئینی نوعیت کا ہے اور اس سے سیاسی پیغام زیادہ واضح انداز میں دیا جا سکتا ہے۔
عمران خان کے اندھے پن کے ڈرامے کا ڈراپ سین کیسے ہوا؟
سیاسی مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر دھرنا ختم کرنے کا فیصلہ محض انتظامی یا سکیورٹی وجوہات کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ تحریک انصاف کے اندر ابھرتی داخلی کشمکش کی علامت بھی ہے۔ اگر قیادت اختلافات کو بروقت سنبھالنے میں کامیاب نہ ہوئی تو یہ دراڑیں مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ مبصرین کے مطابق خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر دھرنے کے اچانک خاتمے نے تحریک انصاف کے اندر جاری نظریاتی اور تنظیمی مباحث کو مزید نمایاں کر دیا ہےاور یہی اختلافات آنے والے دنوں میں پارٹی میں مزید داخلی انتشار اور کشیدگی کا سبب بن سکتے ہیں،
