محمود اچکزئی نے عمران خان کی صحت پر پی ٹی آئی کا پراپیگنڈا بے نقاب کر دیا

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی نےصحت پر پی ٹی آئی کا پراپیگنڈا بے نقاب کر تے ہوئے کہا ہے کہ وہ یہ بات دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ عمران خان کی صحت اتنی خراب نہیں جتنا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پاکستان تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی کے مشترکہ اجلاس کے بعد محمود اچکزئی نے کہا کہ ہم نے احتجاج کا اعلان کیااور اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بیماری کارکنوں کے ذہنوں میں ڈال دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کسی سے دشمنی نہیں لیکن اصل میں ہمیں ہمارے مقصد سے ہٹایا جارہا ہے۔ہم آزاد الیکشن کمیشن اور عام انتخابات چاہتے ہیں۔ ۔ادارے آئینی حدود میں رہیں اور پاکستان کی تشکیل نو کریں۔
واضح رہے کہ دو روز قبل عمران خان کےاڈیالہ جیل سے منتقل کرکے پمز ہسپتال میں علاج کی خبریں گردش کر رہی تھیں ۔ بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بیان کہ عمران خان مکمل طور پر صحت مند ہیں۔

پمز اسپتال کی انتظامیہ نے عمران خان کے معائنے کی تصدیق کر دی

جبکہ گزشتہ روزپمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران سکندر نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی دائیں آنکھ کے طبی معائنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ چند روز قبل عمران خان نے دائیں آنکھ کی بینائی کم ہونے کی شکایت کی تھی۔ اس شکایت پر پمز کے سینئر ماہرِ امراضِ چشم نے ان کا معائنہ کیا۔

ڈاکٹر عمران سکندر کے مطابق ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات عمران خان کو تجویز کردہ علاج کے لیے پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ مریض کو بیماری اور علاج کی نوعیت سے مکمل طور پر آگاہ کیا گیا اور علاج سے قبل تحریری اجازت بھی لی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ علاج آپریشن تھیٹر میں مسلسل نگرانی کے ساتھ کیا گیا، جو تقریباً 20 منٹ میں کامیابی سے مکمل ہوا۔ علاج کے دوران عمران خان کی تمام وائٹل علامات معمول کے مطابق رہیں۔

ڈاکٹر کے مطابق دائیں آنکھ کی رگوں میں دباؤ کے باعث بینائی متاثر ہوئی تھی۔ علاج کے بعد مریض کو ضروری ہدایات، فالو اپ پلان اور دستاویزات فراہم کر کے ڈسچارج کر دیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان تحریکِ انصاف نے عمران خان کی اسپتال منتقلی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے اور انہیں ہفتے کی شام خفیہ طور پر جیل سے پمز اسپتال لے جا کر آنکھ کی سرجری کی گئی۔

Back to top button