100 روزہ نظربندی کے بعد ماہ رنگ بلوچ پولیس کے حوالے

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ساڑھے تین ماہ تک جیل میں نظر بند رکھنے کے بعد 8 جولائی کو سخت سکیورٹی میں کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا جس نے انہیں 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج سعادت بازئی نے ماہ رنگ بلوچ کے علاوہ ان کے پانچ ساتھی رہنماؤں بیبو بلوچ، گل زادی بلوچ، صبغت اللہ شاہ، بیبرگ بلوچ اور غفار بلوچ کو بھی 10 روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کرنے کا حکم دے دیا۔
کوئٹہ پولیس نے موقف اپنایا کہ تھانہ سول لائن اور تھانہ بروری میں درج مقدمات کی تفتیش کے لیے ان ملزمان کا ریمانڈ درکار ہے۔ تاہم عجیب بات یہ ہے کہ ساڑھے تین ماہ تک انہوں نے ان ملزمان کو عدالت میں پیش نہیں کیا۔ انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ تب کیا گیا جب بلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماؤں نے اپنی نظر بندی ختم کروانے کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ چنانچہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دلائل سننے کے بعد گرفتار شدگان کے 10 روزہ پولیس ریمانڈ کی منظور ی دے دی۔
پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ماہ رنگ بلوچ اور اُن کے دیگر ساتھیوں پر جعفر ایکسپریس پر حملے میں ملوث دہشت گردوں کی لاشیں ہسپتال سے زبردستی لے جانے، ہسپتال میں توڑ پھوڑ، دہشت گردوں کی حمایت، اشتعال انگیزی، قتل اور اقدامِ قتل سمیت سات مقدمات درج کیے گئے تھے۔ تاہم پولیس نہیں یہ نہیں بتایا کہ اگر ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج تھے تو پھر انہیں اتنا لمبا عرصہ جیلوں میں نظربند کیوں رکھا گیا۔ ماہ رنگ بلوچ اور دیگر پانچ افراد کو مارچ میں مینٹینس آف پبلک آرڈرکے سیکشن تھری ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا تھا جس میں بار بار توسیع کی جاتی رہی۔
ساڑھے تین ماہ تک ڈسٹرکٹ جیل کوئٹہ میں قید رکھنے کے بعد ہائی کورٹ کے ججز پر مشتمل بورڈ نے ایم پی او آرڈر ختم کر دیا تھا، چنانچہ پولیس نے انہیں قید میں رکھنے کے لیے پہلے سے درج کیسز میں اُن کی گرفتاری ظاہر کردی۔ 10 روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیے جانے کے بعد ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کی مستقبل قریب میں رہائی کا امکان نظر نہیں آتا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بلوچستان ہائی کورٹ نے ماہ رنگ بلوچ کی نظربندی ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد نادیہ بلوچ نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اپیل کی تھی کہ وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے 15 اپریل 2025 کے اُس حکم کو کالعدم قرار دے جس میں امن برقرار رکھنے کے قانون کے تحت ماہ رنگ بلوچ کی نظر بندی کی دائر درخواست کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے ابھی اس درخواست پر کوئی کاروائی نہیں کی۔
یاد رہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اس وقت کوئٹہ کی ہُدا ڈسٹرکٹ جیل میں قید ہیں، اُن کی گرفتاری 22 مارچ 2025 کو ڈپٹی کمشنر کے حکم نامے کے تحت عمل میں آئی تھی، جو امن عامہ کے قانون کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ ماہ رنگ بلوچ کے ساتھیوں کا موقف ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف جاری تحریک کا نوجوان چہرہ بن چکی ہیں۔ انہوں نے یہ راستہ اس وقت اختیار کیا، جب انہیں نوعمری میں اپنے والد کی تشدد زدہ لاش ملی تھی۔ ماہ رنگ کے اغوا ہونے والے والد کی گولیوں سے چھلنی لاش جولائی 2011 میں ملی تھی۔ ماہ رنگ نے 2018 میں اپنے بھائی کی گمشدگی کے بعد بلوچ یونٹی کمیٹی کی بنیاد رکھی تاکہ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور گرفتاریوں کے متاثرین کے خلاف بکوچ نوجوانوں کو متحرک کیا جاسکے۔
ماہ رنگ نے ایک بلوچ نوجوان کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے خلاف بلوچستان سے اسلام آباد تک 1600 کلومیٹر سے زیادہ کے ”بلوچ لانگ مارچ‘‘ کی قیادت کر کے بین الاقوامی توجہ حاصل کی تھی۔ ان کی اس جدوجہد کے سبب انہیں ٹائم میگزین کے 2024 کے 100 سب سے زیادہ امید افزا لوگوں میں شامل کیا گیا۔ تاہم وہ یہ ایوارڈ وصول کرنے کے لیے نہ جا سکیں کیونکہ انہیں ملک چھوڑنے سے روک دیا گیا تھا۔ ان کے لانگ مارچ میں ہزاروں خواتین شرکت کرتی ہیں، جو کئی دنوں تک دھرنے دیتی ہیں۔
کیا عمران کے بیٹے پاکستان پہنچ کر احتجاجی تحریک کی قیادت کریں گے ؟
تاہم دوسری جانب ریاستی ادارے انہیں ملک دشمن قوم پرستوں کی ساتھی قرار دیتے ہیں جو ملک توڑنے کے در پے ہیں اور جنہوں نے بلوچ لبریشن آرمی جیسے مسلح جتھے بنا رکھے ہیں۔
