افغان طالبان رجیم کو بڑا جھٹکا: نوجوانوں کا نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کے قیام کا اعلان

افغانستان کے شمالی اور مشرقی صوبوں کے نوجوانوں نے نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے افغان طالبان رجیم کی انتہا پسندی اور جارحیت کے خلاف محاذ قائم کر دیا ہے۔
نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام طالبان کی جابرانہ پالیسیوں، دہشت گردی کی سرپرستی اور رجعت پسندانہ اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔ فرنٹ کے مطابق افغانستان کے عوام کے پاس طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں، کیونکہ ملک کی بڑی آبادی سیاسی، معاشی، ثقافتی اور سماجی مسائل سے شدید متاثر ہے۔
فرنٹ نے واضح کیا کہ اگر سابقہ سوویت یونین کے خلاف جہاد فرض تھا تو آج طالبان کے خلاف یہ فرض اس سے بھی زیادہ اہم ہو چکا ہے۔ نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کے مطابق افغان طالبان عوام کے نمائندے نہیں بلکہ غاصب ہیں، جنہوں نے زوراً افغانستان پر قبضہ کیا ہوا ہے۔
اس محاذ کے ذریعے افغان نوجوان اپنے ملک کو طالبان کے کنٹرول سے آزاد کرانے کے لیے تیار ہیں۔ فرنٹ کا کہنا ہے کہ طالبان مکالمے کے قائل نہیں اور نہ ہی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں، بلکہ یہ ایک تاریکی اور جہالت پر مبنی گروہ ہے۔
ماہرین کے مطابق نیشنل موبلائزیشن فرنٹ کی تشکیل طالبان کی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف عوامی ردعمل کی نمائندگی کرتی ہے۔ فرنٹ نے خواتین، اقلیتوں اور تعلیم سمیت بنیادی حقوق کے لیے مضبوط عوامی بیانیہ تشکیل دے دیا ہے۔
