وہ بڑے جرائم جو ناولوں اور فلموں سے متاثر ہو کر کیے گئے

حالیہ برسوں کے دوران دنیا بھر میں ان گنت ایسے جرائم رونما ہوئے جن کو صرف خیالی طور پر فلموں اور ناولوں کی سنسنی خیز کہانیوں کا موضوع بنایا گیا تھا لیکن جرائم پیشہ افراد نے ان کہانیوں کو کامیابی سے حقیقت کی شکل دے دی۔
امریکی ٹائم میگزین کے مطابق ایسی ہی ایک کہانی معروف امریکی مصنف ٹام لیو کلینسی نے اپنے ناول ‘ڈیٹ آف آنر’ میں 1994 میں بیان کی تھی جسے حقیقت کا روپ دیتے ہوئے دہشت گردوں نے امریکہ میں نائن الیون حملے کر دیے۔
امریکہ اور جاپان میں فوجی اور معاشی کشیدگی کے تناظر میں لکھے گئے اس ناول میں ایسا افسانوی منظر دکھایا گیا تھا جس میں جاپانی ایئر لائینز کا پائلٹ اپنے بھائی اور بیٹے کی موت کا بدلہ لینے کے لیے اپنا جہاز کیپٹل ہل کے اوپر گرا دیتا ہے۔ نائن الیون حملوں کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ حملوں کا خیال اسی ناول سے لیا گیا اور اس کے منصنف کو ایف بی آئی کی تفتیش کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ تاہم ان کا اصرار رہا کہ وہ محض ایک افسانوی کہانی تھی۔
27 جولائی 2023 کو انڈیا کے شہر حیدرآباد میں ایک ایسے گینگ کو پکڑا گیا جو گانجے کی سمگلنگ کے لیے نئے طریقے اختیار کر رہا تھا، تفتیش کے دوران بتایا گیا کہ اس گینگ نے انڈین فلم ’پشپا‘ سے متاثر ہو کر سمگلنگ شروع کی تھی اور ٹرک کے نیچے ایک الگ خانہ بنا کر سینکڑوں کلوگرام گانجا روزانہ کامیابی سے سمگل کیا جاتا رہا۔
30 ستمبر 2007 کو انڈیا کی سب سے بڑی ڈکیتی ریاست کیرالہ میں ہوئی، جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔
اس واردات میں ڈکیت دیہاتی علاقے میں بنے ایک بینک سے 80 کلو سونا اور 50 لاکھ روپے اڑانے میں کامیاب رہے۔ دو مہینے کی تحقیقات کے بعد جب ملزموں کو پکڑا گیا تو انہوں نے ایک حیران کن بات بتائی۔ ڈکیتوں کے سرغنہ نے بتایا کہ اسے ڈکیتی کا خیال فلم ’دھوم‘ دیکھ کر آیا تھا۔
اس وقت تک جان ابراہم کی فلم ’دھوم‘ اور ہریتک روشن کی ’دھوم ٹو‘ ریلیز ہو چکی تھیں۔ دونوں فلموں کا موضوع ہی چوری تھا اور چوری کے لیے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ویسا ہی فلم میں دکھایا گیا تھا۔ نقب زن ایک بینک کے گراؤنڈ فلور میں سوراخ کرتے ہیں اور نئے سال کی تقریب کے دوران قیمتی سامان سامان لے کر فرار ہو جاتے ہیں۔
اس طرح بھارت میں ایک اور بڑی واردات فلم بنٹی اور ببلی سے متاثر ہو کر کی گئی۔ اس فلم کے ہیرو اور ہیروئن ٹھگ ہوتے ہیں، جس میں امیتابھ بچن، ابھشیک بچن اور ایشوریا رائے بچن نے کا کام کیا۔ اس فلم سے دہلی کا ایک جوڑا کچھ زیادہ ہی متاثر ہوا اور لوگوں کو لوٹنا شروع کیا۔ ایک بار اسی انداز میں ایک شہری کو نشانہ بنایا جیسا فلم میں دکھایا گیا تھا، جوڑے نے ایک شخص سے لفٹ لی اور ایک جگہ وہ کچھ خریدنے کے لیے اترا تو گاڑی دوڑا لی جس میں اس کا لیپ ٹاپ بھی تھا۔
بعدازاں گرفتار ہونے والے سندیپ منا اور رینا نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کو لوگوں کو لوٹنے کا خیال فلم بنٹی اور ببلی دیکھ کر آیا تھا۔
ایسا نہیں کہ جرائم کے آئیڈیاز صرف بالی وڈ فلموں سے ہی لیے گئے بلکہ اس کی نسبت زیادہ انسپیریشن ہالی وڈ فلموں سے دکھائی دیتی ہے۔جب 1996 میں فلم ’سکریم‘ ریلیز ہوئی تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ کوئی نقاب پوش قاتل حقیقی زندگی میں بھی کسی کو چھرا گھونپنے سے قبل خوفناک انداز میں طنزیہ جملے بھی کس سکتا ہے، مگر بعدازاں ایسے کئی واقعات ہوئے۔
1998 میں ایک 16 سالہ لڑکا اپنے ایک دوست کو ویران علاقے میں لے گیا اور اچانک ویسا ہی ماسک پہن لیا جیسا کہ فلم میں دکھایا گیا تھا۔ اس کے بعد اسی انداز میں چُھرے سے 40 وار کیے جیسا فلم میں دکھایا گیا تھا جبکہ اسی انداز میں ہنسنے اور طنز کے شواہد بھی ملے۔ اسی طرح ’سکریم‘ سے متاثر ہونے والے کیلیفورنیا کے دو ٹین ایجر کزن ماریو اور سیموئل نے اسی فلم جیسا قاتل بننے کا ارادہ ظاہر کیا۔ جب ایک کزن کی والدہ نے اسے ایسا کرنے سے روکا تو اس نے انہیں چھری کے 45 وار کر کے قتل کر دیا، جب اسے گرفتار کیا گیا تو اس نے وہی فلمی ماسک پہن رکھا تھا۔
اسی طرح 2006 میں دو ٹین ایجرز نے ایک۔لڑکی کو قتل کرنے سے قبل فلمی ماحول بنایا اور لائٹ بند کر کے ہارر موویز کی طرح لڑکی کو 30 بار چھرا گھونپا۔ واردات کے بعد جب پولیس کو ان کی ایک ٹیپ ملی تو اس میں وہ کہتے سنے گے کہ فلم ’سکریم‘ کی طرح قتل کرنے کا بہت مزہ آیق۔
1999 میں بننے والی ہالی ووڈ کی فلم فائٹ کلب ایک ناول پر مبنی تھی، جس میں انارکی، تباہی اور کارپوریٹ دنیا کے خلاف بغاوت دکھائی گئی، تاہم بعض لوگوں نے اس کا ظاہری مطلب لیا اور جرائم اور دہشت گردی کی زندگی کی طرف گئے۔
اس کے بعد سامنے آنے والے واقعات میں سے ایک17 سالہ لڑکے نے نیویارک سٹی میں سٹار بکس پر حملے کی کوشش کی، لڑکے نے فلم میں دکھائے گئے واقعات کی طرح اپنا خفیہ فائٹ کلب بنایا، اگرچہ اس کا نصب کردہ بم بڑا نقصان نہ کر سکا تاہم جب اسے پکڑا گیا تو اس کا اصرار تھا کہ وہ فلم کے کردار ٹائلر کی طرح کارپوریٹ کلچر کے خلاف بغاوت کرنا چاہتا ہے۔
اس برس پاکستانی ایکسپورٹ کوالٹی کا کینو کیوں کھا رہے ہیں؟
منشیات بارے بنائی گئی ‘بریکنگ بیڈ’ نامی ٹی وی سیریز میں ایک کیمسٹری کے ٹیچر کو دکھایا گیا جو لیبارٹری میں ایک ممنوعہ اور نشہ آور کیمیکل بناتا ہے اور اسے بیچ کر بہت بڑا ڈرگ لارڈ بن جاتا ہے۔
2013 میں مونٹانا میں ایک ایسے سکول ٹیچر کو پکڑا گیا جس نے اپنے گھر میں لیبارٹری بنا رکھی تھی اور یہی نشہ آور کیمیکل بنانے کی کوشش کر رہا تھا، اسی طرح نیویارک میں ایک ایسے پروفیسر کو گرفتار کیا گیا جو یونیورسٹی کی لیبارٹری میں یہی نشہ بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔ گرفتاری کے بعد دونوں کا کہنا تھا کہ انہیں یہ خیال بریکنگ بیڈ سے آیا تھا۔
اسی طرح 2012 میں جیمز نامی شخص نے کولاراڈو کے ایک سیمنا میں گھس کر فائرنگ شروع کر دی تھی جس سے 12 افراد ہلاک ہوئے۔ اس نے اپنے بال مشہور فلم ’جوکر‘ کے کردار کی طرح رنگے ہوئے تھے۔ جب پولیس نے اس کا نام پوچھا تو اس کا کہنا تھا کہ وہ ’دی جوکر ہے۔‘
