نواز شریف پر غلط الزامات لگائے، کاوے موسوی کا یوٹرن

نیب کے ایما پر سابق وزیر اعظم نوازشریف کے بیرون ملک مبینہ اثاثوں کا سراغ لگانے میں ناکام رہنے والے براڈ شیٹ کمپنی کے سربراہ کاوے موسوی نے اپنے الزامات سے یو ٹرن لیتے ہوئے نواز لیگ کے قائد نوازشریف سے معافی طلب کرتے ہوئے کہا یے کہ وہ دو دہائیوں تک احتساب کے نام پر نواز شریف کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں کا حصہ بنے رہنے پر شرمسار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ریکارڈ کی درستی کے لئے معافی مانگ رہے ہیں کیونکہ براڈ شیٹ کی فرانزک تحقیقات کے دوران نواز شریف یا ان کی فیملی کے حوالے سے انہیں ’’ایک روپے‘‘ کی کرپشن کا معمولی ثبوت بھی نہیں مل سکا۔
یاد رہے کہ 20 برس تک نواز شریف کی مبینہ کرپشن کے ثبوت ڈھونڈنے میں ناکامی کے باوجود کاوے موسوی نے جنوری 2021 میں یہ الزام عائد کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم سے وابستہ ایک شخص نے ان سے 2012 میں رابطہ کیا اور ان کے خلاف تحقیقات روکنے کے عوض انہیں رقم کی پیش کش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ انجم ڈار نامی ایک آدمی خود کو نواز شریف کا بھانجا بتاتے ہوئے 2012 میں ان سے ملا اور انہیں ڈھائی کروڑ ڈالرز کی پیش کش کی۔
تاہم بعدازاں وہ یہ الزام ثابت کرنے میں بھی ناکام رہے۔
گزشتہ برس کاوے موسوی نے حکومت پاکستان کے خلاف 30 ملین ڈالرز کا کیس تب جیتا جب لندن ہائی کورٹ کی مصالحتی عدالت کے جج سر انتھونی نے کاوے موسوی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ اس کیس پر پاکستان کے 65 ملین ڈالرز سے زائد اخراجات اٹھے تھے۔ اس کیس میں الٹا نواز شریف خاندان کے بیرون ملک اثاثوں کا سراغ لگانے کے لیے حکومت کی مقرر شدہ برطانوی کمپنی براڈ شیٹ ایل ایل سی کو خود شریف خاندان کو 45 لاکھ روپے ادا کرنا پڑ گئے تھے۔ براڈ شیٹ نے شریف فیملی کو 20 ہزار پاؤنڈز کی رقم ایون فیلڈ اپارٹمنٹس منسلک کرنے کی درخواست عدالت سے واپس لینے پر لیگل فیس کی مد میں ادا کی۔
یاد رہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف نے نواز شریف، آصف علی زرداری، بینظیر بھٹو اور کئی دوسرے سیاست دانوں اور کاروباری افراد کی بیرون ملک جائیدادوں کا پتہ چلانے کے لیے 2000 میں براڈ شیٹ کی خدمات حاصل کی تھیں۔
براڈ شیٹ نے برطانوی ہائی کورٹ میں نیب کے خلاف مقدمے میں چار ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو منسلک کیا ہوا تھا، جسے براڈ شیٹ نے واپس لیا اور قانونی اخراجات کی مد میں شریف خاندان کو ہرجانہ ادا کیا۔ اب لندن میں سینئیر صحافی مرتضی علی شاہ سے گفتگو کرتے ہوئے کاوے موسوی نے نواز شریف سے ماضی میں لگائے گئے الزامات پر معافی طلب کی ہے۔ موسوی نے کہا کہ براڈ شیٹ کی تحقیقات کے نتیجہ میں سابق وزیراعظم نواز شریف یاان کے خاندان کے کسی بھی فرد سے کی کسی بدعنوانی، چوری شدہ، یا ایسی دولت کا سراغ نہیں لگایا جا سکا جس کے ذرائع کے متعلق نہ بتایا جاسکے،
سربراہ براڈ شیٹ نے نواز شریف سے معافی مانگ لی
انہوں نے کہا کہ میں 20 سالہ تحقیقات کے بعد کہہ سکتا ہوں کہ بلاشبہ نیب کے ادارے نے سیاسی بنیادوں پر نواز شریف کے خلا ف مقدمات بنائے اور اسی لیے وہ آج نواز شریف سے معافی کے طلب گار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے سابق وزیراعظم کے خلاف نیب کی دھوکہ دہی کاحصہ بننے پر معافی مانگتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ نہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ نواز شریف سے معافی مانگنے کے سیاسی نتائج ہوں گے تو موسوی نے نوازشریف کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے اپنی معذرت دہرائی۔
انہوں نے کہا کہ ’’میں اپنی معافی دہراتا ہوں، مسٹر شریف ہم آپ سے معذرت خواہ ہیں، کیونکہ آپ واضح طور پر ایک بڑے منظم اسیکنڈل کا نشانہ بنے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جب حقائق بدلتے ہیں تو میں نے بھی اپنے خیالات بدلے ہیں۔ موسوی نے نواز شریف کو مخاطب ہو کر کہا کہ 22 برس قبل جب پرویز مشرف نے ہمیں آپکے خلاف تحقیقات کرنے کو کہا تو ہمیں قائل کیا گیا تھا اور ہم نے تحقیقات شروع کیں۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ہرموڑ پر تحقیقات کو سبوتاژ کیاگیا، اس لئے نہیں کہ ہم چیزوں کے قریب جا رہے تھے بلکہ اس لئے کہ ان کی نیت کچھ اور تھی، ان کا مقصد صرف آپ کو نشانہ بنانا تھا۔ کاو ے موسوی نے کہا کہ ’’میں آپ کو واضح طور پر بتا سکتا ہوں کہ ہمیں آپ کے کوئی مسروقہ اثاثے یا ایسا ایک روپیہ بھی نہیں ملا جس کا تعلق شریف خاندان کے ساتھ جوڑا جاسکے”۔
