ملک ریاض حسین پر کون اور کس لیے دباؤ ڈال رہا ہے؟

چیئرمین بحریہ ٹاؤن ملک ریاض حسین نے انکشاف کیا ہے کہ ان پر سیاسی مقاصد کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن وہ اسکا سامنا کریں گے اور کسی کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ یاد ریے کہ اسی سیاسی دباؤ کی وجہ سے کچھ عرصہ پہلے ملک سے باہر چلے گے تھے۔ ملک ریاض کے قریبی ذرائع کے مطابق ان پر القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان اور بشری بی بی کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کے لیے دباؤ ہے جو وہ لینے سے انکاری ہیں۔ ملک ریاض حسین نے ایکس پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’انہیں دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا یے جسکے نتیجے میں انہیں اپنے کاروبار میں مسلسل نقصان کا سامنا ہے‘۔ ایکس پر اپنے پیغام میں ملک ریاض نے کہا کہ ساری زندگی اللہ تعالی نے ہی میری رہنمائی کی ہے اور اسی وجہ سے ہی میں اپنے اصول پر قائم رہا ہوں، میرا اصول ہے کہ میں کسی بھی معاملے میں سیاسی فریق نہ بنوں، اب ایک سال سے زیادہ عرصے سے مجھ پر سمجھوتا کرنے کے لیے بہت دباؤ ہے، لیکن میں کبھی کسی کو اجازت نہیں دوں گا کہ وہ مجھے سیاسی مقاصد کے لیے اپنے پیادے کے طور پر استعمال کرے۔

ملک ریاض حسین نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں جدید ترین تعمیراتی پروجیکٹس متعارف کروانے پر مخالفئن کی جانب سے انہیں اور انکے کاروبار کو ہمیشہ سے نشانہ بنایا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ میں 1996 سے آج تک ملکی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرنے کی سزا بھگت رہا ہوں، انہوں نے کہا کہ میں نے ماضی میں بھی اس طرح کے دباؤ کا پوری ہمت اور طاقت کے ساتھ سامنا کیا ہے، اور آج بھی پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ over my dead body۔ میں دباو میں آ کر اپنے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔

 مسلم لیگ ن کو مقبول جماعت صرف نوازشریف نے بنایا،راناثنااللہ

ملک ریاض حسین کا کہنا تھا کہ اپنی بیماری اور پریشانی کے باوجود میں اللہ کی مدد سے اس مصیبت کا سامنا کرنے کے لیے ثابت قدم ہوں، میں روزانہ کاروبار میں بھاری مالی نقصان برداشت کر رہا ہوں اور پوری طرح سے دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہوں، لیکن واضح رہے کہ میں دباؤ کے کسی ہتھکنڈے کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالوں گا، دعا ہے کہ اللہ تعالی عزت کے ساتھ اس مشکل دور میں میری رہنمائی اور مدد کرے گا۔

حالانکہ ملک ریاض نے اپنے پیغام میں یہ نہیں بتایا کہ ان پر کون اور کس لیے دباؤ ڈال رہا ہے، تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ ملک ریاض القادر ٹرسٹ کیس کا حوالہ دے رہے تھے جو نیب نے سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف دائر کر رکھا یے، اس کیس میں الزام لگایا گیا ہے کہ وزیراعظم اور انکی اہلیہ نے بحریہ ٹاؤن لمیٹڈ سے سینکڑوں کنال پر پھیلی اراضی 50 ارب روپے کو قانونی حیثیت دینے کے لیے حاصل کی، جس کی شناخت برطانیہ کے حکام نے کی تھی اور پیسے کو واپس کر دیا تھا۔

9 جنوری 2024 کو احتساب عدالت نے ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض سمیت کیس کے 5 شریک ملزمان کی جائیدادیں منجمد کر دی تھیں، جنہیں تفتیش میں شامل نہ ہونے پر اشتہاری قرار دیا گیا تھا۔ دوسری جانب ملک ریاض کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ کیس سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا جس کا بنیادی مقصد ان کو بلیک میل کرنا ہے تاکہ وہ عمران خان کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن جائیں۔ ادی لیے انہوں نے اس دباؤ کے خلاف مزاحمت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Back to top button