ملک ریاض پاکستان میں بحریہ ٹاؤن کے آپریشنز بند کرنے کو تیار

بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین اور معروف پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض حسین نے وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران حکومتی اداروں کے دباؤ کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہنچ رہے ہیں کہ وہ پاکستان بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنے سے صرف ایک قدم پیچھے ہیں۔ ملک ریاض حسین نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ اُن کی کمپنی کے اکاؤنٹس منجمد کیے گئے، ان کے ملازمین کو گرفتار کیا گیا اور کمپنی کی گاڑیوں کو تحویل میں لے لیا گیا جس کے  بعد بحریہ ٹاؤن کے آپریشنز مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں اور اب وہ انہیں بند کرنے سے صرف ایک قدم پیچھے ہیں۔

یاد رہے کہ قومی احتساب بیورو نے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض کے تعمیراتی پراجیکٹ بحریہ ٹاؤن کے دو کارپوریٹ دفاتر سمیت اربوں روپے مالیت کی چھ جائیدادوں کی نیلامی کے لیے 7 اگست کی تاریخ مقرر کی ہے۔ نیب کی جانب سے ان جائیدادوں کی نیلامی کی تاریخ کا تعین اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کیا گیا جس میں ملک ریاض اور بحریہ ٹاؤن کی انتظامیہ کی جانب سے احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد نیلامی رکوانے کے لیے دائر کی گئی درخواستیں مسترد کر دی گئیں۔ ان تمام جائیدادوں کی نیلامی کا حکم احتساب عدالت نے تین مختلف مقدمات میں ملک ریاض کو اشتہاری قرار دینے کے بعد کیا تھا۔ ان تینوں مقدمات میں ایک مقدمہ سابق وزیرِاعظم عمران خان کے خلاف 190 ملین پاؤنڈ کا بھی ہے جس میں احتساب عدالت نے عدم پیشی کی بنا پر ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کو اشتہاری قرار دیا تھا اس کے علاوہ ان مقدمات میں فیک بینک اکاؤنٹ کیس بھی شامل ہے۔

عمران خان کے خلاف جب 190 ملین پاؤنڈ کا مقدمہ چل رہا تھا تو تب ملک ریاض کا ایک بیان سوشل میڈیا کی زینت بنا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی کے خلاف وعدہ معاف گواہ نہیں بنیں گے۔ اسکے علاوہ ملک ریاض کے خلاف ایک مقدمہ راولپنڈی کی احتساب عدالت میں زیرِ سماعت تھا۔ اب قومی احتساب بیورو کے مطابق ‘ملک ریاض کی پراپرٹیز کی نیلامی 7 اگست 2025 کو اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس ون میں واقع نیب راولپنڈی کے دفتر میں ہو گی۔ احتساب عدالت کے فیصلے کے بعد نیب نے اس ضمن میں مختلف اخبارات میں اشتہار بھی شائع کروایا تھا جس میں جائیدادوں کی تفصیلات کا بھی ذکر کیا گیا، جو 7 اگست کو نیلام کی جائیں گی۔

ملک ریاض نے نیلامی کی تاریخ مقرر ہونے پر اپنے ردعمل میں ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ حکومتی اقدامات بشمول گرفتاریوں کے باعث بحریہ ٹاؤن کا ملک بھر میں آپریشن شدید طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ ہماری رقوم کی روانی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے، روزمرہ سروسز فراہم کرنا ناممکن ہو گیا ہے، ہم اپنے دسیوں ہزاروں سٹاف کی تنخواہیں ادا کرنے کے قابل نہیں اور حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ ہم پاکستان بھر میں بحریہ ٹاؤن کی تمام سرگرمیاں مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ ہم اس آخری قدم سے ایک قدم پیچھے ضرور ہیں لیکن زمینی حالات لمحہ بہ لمحہ بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔‘

ملک ریاض نے لکھا کہ یہ صورتِ حال اس ادارے کے بنیادی ڈھانچے کو مفلوج کر چکی ہے جو پچاس ہزار محنتی افراد پر مشتمل ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ ہمارے کئی سینیئر ملازمین تاحال لاپتہ ہیں، سروسز معطل ہیں، ترقیاتی منصوبے رک چکے ہیں اور ہماری کمیونٹیز میں معمول کی دیکھ بھال اور سہولیات کی فراہمی شدید متاثر ہو چکی ہے۔ یہ کیفیت ہمارے وطنِ کی معیشت کے لیے بھی کسی شدید بحران سے کم نہیں۔ کراچی سے لاہور اور اسلام آباد تک بحریہ ٹاؤن میں لاکھوں پاکستانیوں کے کھربوں روپوں کی سرمایہ کاری منجمد ہو چکی ہے۔ سیکڑوں ارب روپوں کے کمرشل منصوبے تکمیل سے پہلے ڈھیر ہو چکے ہیں۔ ہزاروں خاندان بے یقینی اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔ ہمیں اپنے لاکھوں رہائشیوں اور سٹیک ہولڈرز سے دلی معذرت ہے، جنھیں ہماری مجبوری کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ میں اپنے تمام مصیبت کے مارے خاندانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ ان بے رحم حالات میں بھی آپ نے صبر کا دامن اور حوصلہ نہیں چھوڑا لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود ہمارا پاکستان سے عشق، وفاداری، اور خدمت کا جذبہ آج بھی ویسا ہی ہے۔‘

ملک ریاض نے اپنے پیغام کے اختتام پر لکھا کہ ’آخر میں دل کی گہرائیوں سے آخری اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں سنجیدہ مکالمے اور باوقار حل کی طرف واپسی کا موقع دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے کسی بھی ثالثی میں شریک ہونے اور اس کے فیصلے پر سو فیصد عملدرآمد کا یقین دلاتے ہیں۔ اس موقع پر میں یہ بھی یقین دلاتا ہوں کہ اگر ثالثی کا فیصلہ ہماری جانب سے رقوم کی ادائیگی چاہے گا تو ہم اس کی ادائیگی یقینی بنائیں گے۔ ہم دل و جان سے پاکستان کے عوام اور ریاست کے مقتدر ترین اداروں کے لیے تن، من، دھن قربان کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں، ہم وطن عزیز کے لیے اپنی خدمات کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں نہ کہ ان حالات میں خاموشی سے رخصت ہو جائیں۔‘

یاد رہے کہ احتساب عدالتوں نے ملک ریاض کی جن جائیدادوں کو نیلام کرنے کا حکم دیا، وہ راولپنڈی اور اسلام آباد کی حدود میں واقع ہیں اور ان تمام جائیدادوں کو تجارتی بنیادوں پر چلایا جا رہا تھا۔ ان جائیدادوں میں بحریہ ٹاؤن کے دو کارپوریٹ دفاتر، ایک تعلیمی ادارے کی عمارت، سفاری کلب اور ایک شادی ہال کے علاوہ سنیما گھر بھی شامل ہے۔ ان میں نیب نے بحریہ ٹاؤن کے کمرشل ایریا میں واقع سنیما گھر کی قیمت ایک ارب دس کروڑ روپے تجویز کی ہے جبکہ ایک انٹرنیشل اکیڈمی کی عمارت کی نیلامی کی بولی ایک ارب سات کروڑ روپے سے شروع ہو گی۔ اس کے علاوہ بحریہ ٹاؤن اسلام آباد میں واقع سفاری کلب کی قیمت ایک ارب چوبیس کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

Back to top button