مانیکا خاندان پاک پتن، اوکاڑہ اور ساہیوال کا نیا حکمران

وزیراعظم عمران خان کی تیسری اہلیہ بشریٰ بی بی کے پہلے شوہر خاور مانیکا بارے نیلی بار کہلانے والے پنجاب کے تین اضلاع پاکپتن، اوکاڑہ، اور ساہیوال کے بلاشرکت غیرے حکمران بن جانے کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ پنجاب کے ان تین اہم ترین اضلاع میں سول اور پولیس افسران کی تمام تقرریاں اور تبادلے مانیکا خاندان کی خواہش پر ہوتے ہیں۔ مبینہ طور پر طریقہ کار یہ ہے کہ خاتون اول بشری بی بی کی سب سے پکی سہیلی فرح اور ان کے شوہر احسن جمیل گجر سرکاری افسران کی ٹرانسفرز اور پوسٹنگز کے حوالے سے خواہشات وزیر اعلی ہاوس تک پہنچاتے ہیں جہاں عثمان بزدار نے انکی فوری تکمیل کے خصوصی احکامات جاری کر رکھے ہیں۔ لہذا مانیکا خاندان کے ساتھ ساتھ احسن جمیل گجر اور انکی اہلیہ فرح کی پانچوں انگلیاں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہیں۔

پاکپتن، ساہیوال اور اوکاڑہ کی سول اور پولیس بیورو کریسی اچھی طرح جانتی ہے کہ اس وقت ان تین اضلاع کے اصل حکمران کون ہیں لہذا انہیں کا سکہ چلتا ہے۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ سرکاری افسران کی ٹرانسفرز اور پوسٹنگز صرف اپنوں کو خوش کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ احسن جمیل گجر اور فرحت عرف فرح پر ٹرانسفرز اور پوسٹنگز کے معاملات میں مال بنانے کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انہوں نے آگے بھی حصہ پہنچانا ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ خاور مانیکا کے قریبی ساتھی احسن جمیل گجر کی دوسری اہلیہ فرح کی خاتون اول بشریٰ بی بی سے بہت اچھی دوستی ہے۔ دونوں کے تعلق کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح بھی احسن جمیل گجر کے گھر ہی ہوا تھا۔

ذرائع نے یاد دلایا کہ کچھ برس پہلے چیف جسٹس ثاقب نثار نے خاور مانیکا اور احسن جمیل گجر کی جانب سے ڈی پی او پاکپتن کو دھمکیاں دینے اور انکی ٹرانسفر کروانے کے الزامات کے بعد عدالت میں طلب کر لیا تھا جس کے بعد سے مانیکا اینڈ کمپنی کچھ محتاط ہو گئی تھی لیکن اب انہوں نے دوبارہ اپنا کام شروع کر دیا ہے۔
روزنامہ جنگ میں شائع ایک رپورٹ میں خاور مانیکا اور ان کے بیٹے کا نام لیے بغیر یہ بتایا گیا ہے کہ پنجاب کے تین بڑے اضلاع میں اپنا حکم چلانے والے باپ اور بیٹے نہ تو تحریک انصاف سمیت کسی سیاسی جماعت کے رکن ہیں اور نہ ہی عہدیدار ہیں لیکن یہ نیلی بار پر راج کر رہے ہیں۔

کیا آرمی چیف عمران خان کے سرپرست ہیں یا ماتحت؟

رپورٹ کے مطابق ساہیوال ڈویژن کے انتظامی امور میں کابینہ کے کسی بھی رکن سے زیادہ اس خاندان کا زور چلتا ہے اور آخری فیصلہ وہی کرتا یے۔ تاہم رابطہ کرنے پر پنجاب حکومت کے ترجمان حسن خاور نے بتایا کہ اوکاڑہ، ساہیوال اور پاکپتن اضلاع میں بیوروکریٹس کی تقرریوں اور تبادلوں میں بیرونی مداخلت کا الزام لگانا غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب کچھ میرٹ کے مطابق اور قانون کے تحت کیا جا رہا ہے۔ وہ افسران جو مطلوبہ معیار کے مطابق ڈیلیور نہیں کرتے انہیں سائیڈ لائن کردیا گیا ہے اور جو اچھی کارکردگی دکھاتے ہیں اانہیں تعریفی اسناد جاری کی جاتی ہیں۔

تاہم وزیراعلیٰ ہاؤس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عثمان بزدار کے ترجمان کا موقف چونکہ سرکاری ہے لہذا ان کا یہی دعویٰ کرنا بنتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ درحقیقت وزیراعلیٰ بزدار اور ان کا دفتر ساہیوال ڈویژن میں تمام پوسٹنگز، تبادلے اور اہم تقرریاں مانیکا خاندان کی خواہش پر کرتے ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ کئی سرکاری افسران کو تو صرف احسن جمیل گجر یا خاور مانیکا کا فون نہ سننے کی پاداش میں ٹرانسفر کر دیا گیا۔ ذرائع نے یاد دلایا کہ اگست 2018 سے گزشتہ تین سالوں میں پاکپتن سے سات ڈسٹرکٹ پولیس افسران یعنی ڈی پی او حضرات کے تبادلے کروائے جا چکے ہیں اور ہر دفعہ نیا ڈی پی او لانے اور بھجوانے کے احکامات مانیکا خاندان کی جانب سے آئے۔

اسی طرح گزشتہ تین سالوں کے دوران ساہیوال کے چھ کمشنرز کے تبادلے کیے گئے۔ یہ بات سامنے آئی کہ آبپاشی کے ایکس ای اینز، ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی، ہائی ویز اینڈ پبلک ہیلتھ، تحصیلدار، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹس آف پولیس، اسٹیشن ہاؤس آفیسرز اور ریونیو حکام اور وفاقی محکموں جیسے سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی اور فیڈرل انویسٹی گیشن کے افسران کو ان کے اعلیٰ افسران مشورہ دیتے ہیں کہ مانیکا خاندان والوں کے ساتھ بے حد احترام سے پیش آئیں ورنہ وہ نیلی بار میں نہیں رہ سکیں گے۔

Back to top button