منموہن سنگھ کس پاکستانی کے اکنامک وژن پر چل کر کامیاب ہوئے ؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چودھری نے کہا ہے کہ من موہن سنگھ نے 2004 میں بطور وزیراعظم خزانہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے ترقیاتی ویژن سے متاثر ہو کر اسے شائننگ انڈیا کے نام سے بھارت کے لیے کاپی کیا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چکوال کے ایک گاؤں میں پیدا ہونے والے من موہن سنگھ کو معاشی جادوگر کا خطاب مل گیا اور بھارت ترقی کے راستے پر چل نکلا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں جاوید چودھری کہتے ہیں کہ جب نرسیما راؤ بھارت کے وزیراعظم تھے تب انڈیا شدید معاشی مسائل کا شکار تھا اور وزیراعظم کو ایک ایسا وزیر خزانہ چاہیے تھا جو ’’آؤٹ آف باکس‘‘ سوچ سکے۔ اس وقت پورے سسٹم میں من موہن سنگھ سے بہتر کوئی شخص دستیاب نہیں تھا لہٰذا نرسیما راؤ نے انھیں وزیر خزانہ بنا دیا۔ من موہن سنگھ نے یہ پیش کش صرف ایک شرط پر قبول کی اور وہ یہ تھی کہ وزیراعظم انھیں ان کی مرضی سے کام کرنے دیں گے۔ چنانچہ یہ شرط مان لی گئی۔ اس زمانے میں نواز شریف پاکستان کے وزیراعظم تھے‘ میاں صاحب نے دو کام شروع کیے تھے۔
ایک تو انہوں نے لاہور اسلام آباد موٹر وے بنانے کا اعلان کیا تھا اور دوسرا پاکستانی معیشت کی لبرلائزیشن شروع کی تھی‘ من موہن سنگھ کو یہ اپروچ اچھی لگی‘ تب جے این ڈکشت پاکستان میں انڈین ہائی کمشنر تھے‘ من موہن سنگھ نے انھیں دہلی بلایا اور پاکستان میں شریف حکومت کی معاشی اصلاحات پر بریفنگ لی‘ اس زمانے میں پاکستان اور بھارت دونوں کے فارن ریزروز دو ارب ڈالر تھے، یعنی بھارت کے خزانے میں بھی دو ارب ڈالر تھے اور پاکستان کے پاس بھی دو ارب ڈالر تھے‘ من موہن سنگھ ایک دن دونوں ملکوں کی بیلنس شیٹ لے کر وزیراعظم کے پاس چلے گئے اور انہیں بتایا کہ ہم سے چھ گنا چھوٹا ملک معیشت میں ہمارا مقابلہ کر رہا ہے اور یہ ہمارے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔
جاوید چوہدری کے بقول وزیراعظم نرسیما راو نے ان سے مسئلے کا حل پوچھا‘ تو من موہن سنگھ کا جواب تھا کہ ’’ہمیں بھارت کا ایک ایسا معاشی آئین بنانا ہوگا جسے کوئی چھیڑ نہ سکے‘‘ ان کا کہنا تھا ہمیں اپوزیشن‘ فوج‘ بیوروکریسی اور چیف جسٹس کو اکٹھا بٹھا کر ایک ایسا فارمولا بنانا چاہیے جس میں اگلے بیس سال تک کوئی تبدیلی نہ کی جا سکے۔ ہم پھر ترقی کر سکیں گے ورنہ ہم ایک ارب لوگوں کی روٹی پوری نہیں کر سکیں گے‘‘۔ نرسیما راؤ کو یہ بات ٹھیک لگی چناں چہ انھوں نے انھیں اجازت دے دی۔ من موہن سنگھ نے اس کے بعد اگلے 20 سال کا معاشی ایجنڈا بنایا‘ وزیراعظم نے اپوزیشن سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو لوک سبھا میں اکٹھا کیا‘ بزنس مینوں‘ صنعت کاروں‘ پروفیسرز‘ بیوروکریٹس اور ججوں کو بھی پارلیمنٹ میں بٹھایا گیا‘ دھواں دھار تقریریں ہوئیں‘ لوگوں نے ایک دوسرے کے گریبان تک پھاڑنے کی کوشش کی لیکن آخر کار تمام لوگ 20 سالہ معاشی ایجنڈے پر رضا مند ہو گئے۔
جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ یہ من موہن سنگھ کی بہت بڑی اچیومنٹ تھی‘ اس ایک فیصلے نے بھارت کا مقدر بدل کر رکھ دیا۔ اٹل بہاری واجپائی اس زمانے میں اپوزیشن لیڈر تھے ‘ وہ بھی من موہن سنگھ کا احترام کرتے تھے اور من موہن سنگھ بھی‘ نرسیما راؤ کے زمانے میں وزارت خزانہ نے کھاد کی قیمت میں چار روپے اضافہ کر دیا‘ بھارت کے کسانوں نے اس پر وبال کھڑا کر دیا‘ اپوزیشن نے یہ معاملہ اٹھا کر پارلیمنٹ کو مچھلی منڈی بنا دیا‘ میڈیا نے بھی وزیر خزانہ کے لتے لینا شروع کر دیے‘ من موہن سنگھ نے قیمتیں کم کرنے سے انکار کر دیا‘ وزیراعظم عوامی دباؤ میں آ گئے اور انھوں نے وزارت خزانہ پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا‘ من موہن سنگھ نے وزیر خزانہ بنتے وقت وزیراعظم سے وعدہ لیا تھا یہ ان کے کام میں مداخلت نہیں کریں گے چناں چہ سردار نے استعفیٰ دے دیا اور جا کر گھر بیٹھ گئے۔
جاوید کہتے ہیں کہ وزیراعظم نرسیما راؤ نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی مگر یہ نہ مانے‘ آپ بھارتی حکمرانوں اور سیاست دانوں کا کمال دیکھیے‘ وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر اٹل بہاری واجپائی سے ملاقات کی اور انھیں من موہن سنگھ کے گھر بھجوا دیا‘ آپ اب صورت حال دیکھیے‘ کھاد کی قیمتیں وزیر خزانہ نے بڑھائیں‘ ایشو اپوزیشن نے اٹھایا اور اپوزیشن کے دباؤ کی وجہ سے وزیر خزانہ نے استعفیٰ دے دیا‘ یہ اپوزیشن کی سیاسی کام یابی تھی اور واجپائی صاحب کو اس کا ڈھول بجانا چاہیے تھا لیکن اس کے برعکس وزیراعظم کی درخواست پر وزیر خزانہ ان کے گھر گئے اور انھیں استعفیٰ واپس لینے پر مجبور کرنے لگے‘ واجپائی اور من موہن سنگھ کے طویل ڈائیلاگ کے بعد یہ طے ہوا وزیر خزانہ اضافے میں سے دو روپے کم کردیں گے‘ اس سے حکومت اور اپوزیشن دونوں کی عزت بچ جائے گی اور کسانوں کو بھی فائدہ ہو جائے گا‘ من موہن سنگھ نے اگلے دن قیمتوں کے اضافے سے دو روپے کم کر دیے اور یوں واجپائی کی وجہ سے یہ معاملہ نبٹ گیا۔
کیا PTA ایلون مسک کی سٹار لنک انٹرنیٹ سروس بھی بند کر سکے گا
جاوید چوہدری کے کہتے ہیں اب دل پر ہاتھ رکھ کر جواب دیجیے اگر پاکستان میں آج کی حکومت کو آج کی اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر پاکستان کا بیس سال کا ایجنڈا طے کرنا پڑے تو کیا یہ کریں گے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے وزیرخزانہ اورنگ زیب مستعفی ہو رہے ہوں تو کیا شہباز شریف کی درخواست پر عمر ایوب ان کے گھر جا کر انھیں راضی کریں گے؟ آپ کا جواب یقینا ناں ہو گا۔ ہم آج اس ناں کی وجہ سے عالمی دوڑ میں پیچھے ہیں اور بھارت ہم سے بہت آگے ہے۔ آپ یقین کریں ہم جب تک اپنے سسٹم میں من موہن سنگھ جیسے لوگ تلاش نہیں کریں گے اور واجپائی اور نرسیما راؤ جیسے بڑے دل پیدا نہیں کریں گے ہم اس وقت تک اسی طرح دردر بھیک مانگتے رہیں گے۔
