منشا پاشا کا پاکستان میں سیاسی ڈرامے بنانے کا مطالبہ

پاکستانی شوبز انڈسٹری میں نہایت کم وقت میں اپنا نام بنانے والی اداکارہ منشا پاشا نے کہا ہے کہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں سیاسی موضوعات پر بننے والے ڈراموں کی شدید کمی ہے حالانکہ بھارت سمیت دنیا بھر میں سیاسی ڈرامے بنائے جاتے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ پابند میڈیا اور سینسرشپ کی وجہ سے ہمارے ہاں بہت سے موضوعات پر ڈرامے نہیں بنتے جن میں سیاسی ڈرامے قابلِ ذکر ہیں، حالانکہ دنیا بھر میں سیاست پر ڈرامے اور ویب سیریز بنتی لہذا ہمت کر کے ہم لوگوں کو بھی یہ تجربہ کرنا چاہئے۔

منشا پاشا نے فلم ’’لال کبوتر‘‘ اور ڈرامے ’’سرخ چاندنی‘‘ میں منفی کردار نبھا کر مداحوں کی خوب داد سمیٹی، اداکارہ نے فلم اور ٹی وی دونوں ہی میڈیم پر اداکاری کا جادو جگایا۔ عام طور پر منشا پاشا کو ڈراموں میں زیادہ تر مثبت کردار ادا کرتے دیکھا گیا ہے لیکن جب اداکارہ نے ڈرامہ سیریل ‘سرخ چاندنی’ میں مرکزی ولن کا کردار نبھایا تھا تو ان کے چاہنے والوں کا ملا جلا ردِ عمل دیکھنے میں آیا، منشا پاشا کا کہنا تھا کہ کردار کو چیلنج سمجھ کر قبول کیا تھا اور لوگوں کے ردِعمل سے انہیں اندازہ ہو گیا کہ وہ اس چیلنج پر پورا اتریں ہیں۔
اداکارہ نے بتایا کہ جب انہیں ‘سرخ چاندنی’کی پیشکش ہوئی تھی تو اس لیے حامی بھری تھی کیونکہ کافی عرصے سے ولن کا کردار نہیں ادا کیا تھا اور اس ڈرامے کی کہانی ایک ایسی عورت کے گرد گھومتی تھی جس کا چہرہ تیزاب پھینکے جانے کی وجہ سے متاثر ہوا تھا۔
منشا پاشا نے مزید کہا کہ یہ ایک اہم موضوع تھا جس میں اداکارہ نے ولن بن کر لوگوں کی توجہ اس طرف دلانے کی کوشش کی تھی، منشا پاشا سوشل میڈیا پر مختلف معاملات پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بھی نظر آتی ہیں، خواتین کے مسائل ہوں یا سائبر بلیئنگ جیسے واقعات، اداکارہ اہم واقعات پر بات کیے بغیر نہیں رہتیں۔

اداکارہ نے بتایا کہ انہیں دونوں ہی میڈیم میں کام کرنا اچھا لگتا ہے، سکرین چھوٹی ہو یا بڑی انہیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان کی بس یہی کوشش ہوتی ہے کہ پروجیکٹ اچھا ہو چاہے وہ کسی بھی میڈیم کا ہو اگر پراجیکٹ اچھا ہے اور اس میں آپ کا کردار بھی اچھا ہے تو وہ فلم ہو یا ٹی وی، ان کے لیے سب برابر ہیں۔
حال ہی میں اداکارہ منشا پاشا کی تیسری فلم ‘کہے دل جدھر’ سنیما میں ریلیز ہوئی ہے، اس سے قبل وہ 2017 میں ’’چلے تھے ساتھ‘‘ اور 2019 میں ’’لال کبوتر‘‘ میں کام کر چکی ہیں، منشا پاشا کی تینوں ہی فلموں میں ان کے کردار مختلف تھے، اداکارہ کے مطابق تینوں فلموں میں مختلف کردار کرنے کا فیصلہ ان کا اپنا تھا، اگر وہ ایسا نہ کرتیں تو ان کی فلموں کی تعداد تو زیادہ ہوتی لیکن لوگوں کو ان کے کردار یاد نہ رہتے۔

اداکارہ کے مطابق ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ اسے ایسا پراجیکٹ ملے جو مختلف ہو، ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں آغاز میں ہی ‘لال کبوتر’ جیسا پراجیکٹ مل گیا لیکن اس کے بعد انہیں اس طرح کی فلموں اور کرداروں کی پیشکش آنے لگیں، وہ ایک جیسے کردار نہیں کرنا چاہتی تھیں اور فیصلہ کیا کہ اب جو بھی فلم کی گئی، وہ پچھلی فلم سے مختلف ہو، پاکستانی ڈراموں میں عورتوں کے محدود کرداروں پر بات کرتے ہوئے منشا پاشا کا کہنا تھا کہ اب ہمارے ڈراموں میں عورتوں کے کردار صرف ساس اور بہو تک محدود نہیں رہے بلکہ آہستہ آہستہ بڑی عمر کی خواتین کی زندگی پر بھی بات کی جا رہی ہے۔۔

منشا پاشا کے مطابق ڈراموں میں اب بدلاؤ آرہا ہے، حدیقہ کیانی کی مثال ہم سب کے سامنے ہے جنہوں نے دو ڈراموں میں پختہ عمر عورت کا کردار بخوبی ادا کیا ہے، آہستہ آہستہ اب وہ کہانیاں سامنے آ رہی ہیں جس میں مختلف عمر کے لوگوں کو بھی مرکزی کردار دیا جا رہا ہے، اب لکھنے والے کرداروں سے زیادہ کہانی کی طرف توجہ دے رہے ہیں، اگر کہانی خوبصورت ہوگی تو ہر عمر کے کردار اس میں اچھے لگیں گے۔

شعیب ملک اداکارہ ثنا جاوید کی حمایت میں سامنے آ گئے

اداکارہ کے بقول انہیں جو بات صحیح لگتی ہے وہ اس پر تبصرہ کر دیتی ہیں، وہ یہ نہیں دیکھتی کہ یہ بات کسی کو اچھی لگے گی یا بُری، بس اتنا سوچتی ہیں کہ اگر آپ کی بات کسی پر اثر کر جائے تو اس سے بہتر کچھ نہیں ہوتا۔ گزشتہ برس منشا پاشا سیاست دان و سماجی کارکن جبران ناصر سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی تھیں جبران ناصر سماجی سرگرمیوں کی وجہ سے نوجوانوں میں خاصےمقبول ہیں، اداکارہ نے کہا کہ انہیں سیاست کے بارے میں پتہ تو ہے لیکن اس کے طور طریقوں سے واقف نہیں، وہ اپنے کام کو لے کر کافی مصروف رہتی ہیں اور اس میں ہی خوش ہیں، وہ جبران کے لیے صرف ایک سپورٹ سسٹم کے طور پر ہی رہیں گی۔

انکا کہنا ہے کہ پاکستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں آج کل یہ رجحان سامنے آ رہا ہے کہ جو افراد سوشل میڈیا پر مقبول ہیں انہیں ڈراموں میں کاسٹ کر لیا جاتا ہے، منشا پاشا کے خیال میں سوشل میڈیا کے ذریعے اداکاروں و اداکاراؤں کا آگے آنا خوش آئند ہے۔ ان کے بقول سوشل میڈیا پرپہلے زیادہ فالوورز والوں کو اہمیت دی جاتی ہوگی لیکن اب ایسا نہیں ہوتا، اب ان لوگوں کو اہم سمجھا جاتا ہے جن کے بارے میں زیادہ بات ہو رہی ہوتی ہے، آپ اگر لوگوں کی نظر میں ہیں تو اس سے آپ کی سلیکشن میں آسانی ہو جاتی ہے، گزشتہ ایک دو برسوں کے دوران ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ اداکارو اداکارائیں سوشل میڈیا سے ٹی وی یا فلمز میں آئے ہیں جو ایک خوش آئند بات ہے۔

Mansha Pasha demand for making political dramas in Pakistan

Back to top button