پاکستان میں طلاق پر مبنی ڈراموں کی بھرمار کیوں ہے؟

پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں طلاق کا موضوع ہاتھوں ہاتھ بک رہا ہے، ہر دوسرا ڈرامہ رشتوں کو ٹوٹتے ہوئے دکھا کر عوامی توجہ حاصل کرنے میں مصروف ہے، حالانکہ طلاق کو اخلاقی، معاشرتی اور دینی طور پر انتہائی ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے۔ایسا ہی ڈرامہ ’’ایک سو ایک طلاقیں‘‘ ہے، جو سوشل میڈیا میں خواتین کے گروپس میں بحث کا موضوع بنا رہا، اس ڈرامے میں بہت ہی مزاحیہ انداز میں بتایا گیا ہے کہ آج کل طلاق کی وجہ بہت سی معمولی باتیں بھی بن رہی ہیں۔اس ڈرامے میں اداکارہ انوشے عباسی نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ انوشے عباسی ایک ایسی بیوی کا کردار ادا کر رہی ہیں جس کو اپنے شوہر سے بہت سے مسائل ہیں اور وہ کافی کوشش کرنے کے باوجود روزمرہ کی لڑائیوں کو روک نہیں پا رہی ہوتی۔انوشے عباسی نے بی بی سی کے ساتھ گفتگو میں بتایا کہ یہ ڈرامہ کرنا اُن کے لیے بہت بڑی کامیابی تھی۔ میرے لیے یہ دلچسپ سی صورتِحال تھی۔ میں نے اپنی زندگی میں پہلے ایسا کردار کبھی نہیں کیا جو مجھ سے ملتا ہو، اُن کو ڈرامے کرنے میں اسی وجہ سے زیادہ مشکل پیش نہیں آئی کیونکہ اُن کو کئی جگوں پر لگتا تھا کہ اگر ان چھوٹی چھوٹی باتوں کو میاں بیوی مل کر بات کر کے حل کرنے کی کوشش کریں تو شادی بچائی جا سکتی ہے۔اس ڈرامے میں پاکستانی معاشرے کے اُن پہلوں پر بھی نظر ڈالی گئی ہے جو طلاق کی وجوہات بنتی ہیں۔ جیسے کہ ساس کا بیٹے کے گھر میں دخل اندازی کرنا، لڑکی کا شوہر سے بات بات پر ناراض ہو جانا وغیرہ۔انوشے نے بتایا کہ اس ڈرامے میں فلمائے گئے سین حقیقت سے اتنے قریب ہیں کہ لوگ اُن کو خود سے جوڑ سکتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ایسا ہی ہوتا ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر لوگ طلاق جیسی بڑی چیز لے آتے ہیں۔اس ڈرامے میں زاہد احمد ایک ایسے وکیل کا کردار ادا کر رہے ہیں جن کے پاس جب کوئی جوڑا طلاق لینے کے لیے کیس کروانے آتا ہے تو وہ شادی کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔انوشے عباسی نے اپنے کریئر میں بہت سارے ڈراموں میں کام کیا، جن میں ’میرا سائیں، میری سہیلی میری ہم جولی، ٹوٹے ہوئے پر، ننھی، پیارے افضل اور رقص بسمل‘ سمیت بہت سے ڈرامے شامل ہیں، انوشے نے ڈراموں میں ایک رونے والی لڑکی کا یا پھر منفی کردار ادا کیا مگر ڈرامہ ’ایک سے سو ایک طلاقیں‘ میں ان کے کردار کو عوام کی جانب سے خوب پسند کیا جا رہا ہے۔انوشے عباسی آئے دن سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اپنی تصویروں کی وجہ سے لوگوں کی توجہ حاصل کرتی رہتی ہیں، کئی بار تو اُن کو شدید تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے مگر انوشے نے بتایا کہ وہ صرف اُن لوگوں کے کمنٹس پڑتی ہیں جنھوں نے اُن کے کام کو سراہا ہو کیونکہ اُن لوگوں کی وجہ سے اُن کو مزید اچھا کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔انوشے نے بتایا کہ ’یہ ڈرامہ اُن خواتین کے بارے میں ہے، جو مشکل حالات میں سے نکل کر کامیابی حاصل کرتی ہیں، ورکنگ وومن کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی اقساط یوٹیوب پر اپ لوڈ ہوتے ہی گھنٹوں میں اس کے ویوز لاکھوں تک پہنچ جاتے ہیں۔انوشے کا کہنا ہے کہ اس ڈرامے کا فیڈ بیک اُن کی سوچ سے بھی زیادہ اچھا آ رہا ہے، میں یوٹیوب کی قسط کے نیچے لوگوں کے کمنٹس صبح پڑتی ہوں، تاکہ میرا دن اچھا گزرے، مستقل میں بھی کامیڈی رولز کرنا چاہوں گی کیونکہ وہ خود کو ایک ورسٹائل ایکٹر کے طور پر دیکھتی ہیں۔
