چلغوزے کے جنگل میں آتش زدگی سے مارخور کی نسل متائثر

خیبرپختونخوا میں چلغوزے کے جنگلات میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی سے صرف ہزاروں درخت ہی نہیں جلے بلکہ پاکستان کے قومی جانور مارخور کی نسل کا بھی بڑا نقصان ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آگ میں صرف درخت ہی نہیں جلے بلکہ اس نایاب ماحولیاتی نظام میں موجود مختلف نسل کے بہت سے جانور، پرندے، کیڑے مکوڑے، جڑی بوٹیاں اور پھول پودے بھی خاکستر ہو گئے۔ سب سے زیادہ نقصان ان جانوروں کا ہوا جو زمین میں گھر یا بل بنا کر رہتے ہیں مثلا سانپ اور چوہے وغیرہ۔

یاد رہے کہ شیرانی کے علاقے میں واقع چلغوزے کے یہ جنگلات بقا کے خطرے سے دوچار عالمی تحفظ یافتہ سلیمان مارخور کا مسکن بھی ہیں۔ یہاں افغان اڑیال اور لگڑ بگھا بھی پایا جاتا ہے، یہ تمام تحفظ یافتہ جانوروں کی انواع ہیں۔ نو ہزار ہیکٹرز پر مشتمل کوہ سلیمان، سلیمان مارخور کا مسکن ہے۔ تورغر اور شیرانی کے یہ جنگل اس کا خصوصی گھر ہیں۔ اس آگ سے ان جانوروں کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آ رہے ہیں۔ سلیمان مارخور وہ نوع ہے جو آج سے 30 سال پہلے معدومی کے قریب پہنچ چکی تھی اور اس کی نسل کے بہت کم مارخور بچے تھے۔ ان کے تحفظ کی ایک طویل جدوجہد ہے اور اگر اس آگ سے یہ جانور متاثر ہوتا ہے یا نقل مکانی کر جاتا ہے تو یہ بھی ایک بڑا نقصان ہو گا۔

باپ اور بیٹے کو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ بنانے کی اصل وجہ کیا؟

ہزاروں فٹ اونچائی پر آسمان سے باتیں کرتے پہاڑ اور جنگلات میں لگی آگ کے بلند و بالا شعلوں کو ٹھنڈا کرنا انسان کے بس کی بات نہیں تھی، اور وہ بھی اس موسم میں جب تیز ہوائیں آگ کو اپنے راستے میں کھینچتے ہوئے ساتھ لے جا رہی تھیں،26 ہزار ہیکٹرز پر مشتمل ان انتہائی زرخیز جنگلات سے کئی ارب ڈالرز مالیت کا 700 میٹرک ٹن چلغوزہ پیدا ہوتا تھا۔ پاک فوج کی امدادی ٹیموں کے مطابق یہ آگ بہت شدید تھی اور کوہ سلیمان کے درمیان ایک پیالہ نما وادی میں لگی تھی، آگ کی شدت اور ہوا اتنی تیز تھی کہ ہیلی کاپٹر کا بھی اوپر سے پرواز کرنا مشکل تھا، آرمی کے فائر فائٹر جیٹ طیاروں نے پانی، آگ بجھانے والا کیمیکل اور 400 فائر بالز بھی آگ بجھانے کے لیے استعمال کیے۔

سلیمان مارخور کی کم تعداد کے باعث اسے فطرت کے تحفظ کی عالمی تنظیم نے خطرات سے دوچار جانداروں کی ’ریڈ لسٹ‘ میں شامل کر رکھا ہے، سلیمان مارخور پاکستان کے قومی جانور مارخور کی ایک ذیلی نوع ہے، اسے کوہِ سلیمان یا سلیمان رینج کے حوالے سے سلیمان مارخور کہا جاتا ہے۔ اس کے سینگ دوسرے مارخوروں کے سینگ کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے ہیں اور ان میں بل بھی کم ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے پہاڑوں میں اس کا اصل مسکن تورغر اور شیرانی کے جنگلات اور پہاڑی علاقے ہیں۔

بلوچستان میں سلیمان مارخور کے شکار کیلئے ٹرافی ہنٹنگ کی اجازت ہے اور اس کے شکار کی فیس لاکھوں ڈالرز میں ہے، 2011 کے سروے کے مطابق ان پہاڑوں میں سلیمان مارخور کی تعداد 3500 سے زائد ہے۔ بلوچستان کے وائلڈ لائف کنزرویٹر کے مطابق یہ کوئی ہموار علاقہ نہیں، نالے، کھائیاں، اونچائی غرض یہ کہ یہ پہاڑی علاقے دشوار گزار ہوتے ہیں، وہاں سے نکلنا اتنا آسان نہیں ہوتا ہے، تیز ہوا میں آگ کی تپش اور شعلوں کی لپٹیں دور دور تک پہنچ رہی ہوتی ہیں، جانوروں کے جھلسنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

ورلڈ وائڈ فنڈ فار وائلڈ لائف یا ڈبلیو ڈبلیو ایف کے ریجنل ڈائریکٹر طاہر رشید کا کہنا ہے کہ یہ پائن کے جنگلات ہیں جو بہت آہستہ نشو و نما پاتے ہیں۔ آگ کے بعد سب سے بڑا مسئلہ زمین کے کٹاﺅ کو روکنا ہے، کیونکہ درختوں اور جھاڑ جھنکاڑ سے زمین کی مٹی بندھی رہتی ہے، اب چونکہ یہ زمین خالی ہے لہٰذا اس کا کٹاﺅ بڑھ جائے گا۔ آگ کی شدت کے باعث یہ بھی خدشہ موجود ہے کہ یہ جانور گھبرا کر یہاں سے ہمیشہ کے لیے نقل مکانی نہ کر جائیں، یاد رہے کہ سلیمان مارخور کے ساتھ ساتھ چلغوزے کا کاروبار کرنے والے 300 گھرانے بھی یہاں سے رخصت ہونے پر مجبور ہوں گے۔

Back to top button