مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیے والے مریم اور حمزہ ایک پیج پر

وزیراعظم کے خلاف اپوزیشن تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد ن لیگ میں مزاحمتی اور مفاہمتی بیانیے کا اختلاف اب ختم ہوتا نظر آتا ہے اور نواز شریف اور شہباز شریف کے سیاسی جانشین، مریم نواز اور حمزہ شہباز، ایک ہی پیج پر اکٹھے ہوتے دکھائی دیتے ہیں. نون لیگ نے اعلان کیا ہے کہ 24 مارچ کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی قیادت مریم نواز اور حمزہ شہباز مشترکہ طور پر کریں گے۔

یاد رہے کہ عمران خان کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے ایک روز پہلے 27 مارچ کو اسلام آباد میں شو آف پاور کے اعلان کے بعد اپوزیشن نے بھی اپنے اپنے کارکنان کو 25 مارچ کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دے رکھی ہے۔ مسلم لیگ ن نے لانگ مارچ کا شیڈیول جاری کیا تو بتایا گیا کہ مارچ کی 24 تاریخ کو لاہور سے مریم نواز اور حمزہ کی قیادت میں لانگ مارچ کا آغاز ہو گا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے اور اس کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ نواز لیگ میں اب بیانیے کا بھی کوئی اختلاف باقی نہیں رہا۔ پارٹی اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ فیصلہ پارٹی قائد نواز شریف اور صدر شہباز شریف کی پارٹی کی دیگر قیادت سے مشاورت کے بعد کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ن لیگ کی اپنی سیاسی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہو گا کہ مریم نواز اورحمزہ شہباز کسی سیاسی سرگرمی میں اکھٹے میدان میں نکلیں گے۔ مبصرین کے خیال میں اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ دونوں مختلف نقطہ نظر پر یقین رکھتے ہیں اور اب انہیں ایک پیج پر دکھانا ضروری ہے۔ حمزہ اپنے والد شہباز شریف کی طرح مفاہمتی سیاست کے قائل ہیں تو مریم اپنے والد نواز شریف کی طرح مزاحمتی بیانیے کی ہمیشہ حامی رہی ہیں، دونوں کے نظریات میں فرق یہ ہے کہ نواز شریف نے ٹکراؤ کی سیاست بھی کی ہے جبکہ شہباز شریف نے ہمیشہ ہی مصالحت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔  تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ساڑھے تین برس تک ہائبرڈ نظام کے تحت چلنے والی عمران خان حکومت کی فراغت بالآخر آصف زرداری کے اسمبلی کے اندر سے تبدیلی لانے کے پرانے فارمولے کے تحت ہی ہو رہی ہے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کی سیاسی جانشین سمجھی جانے والی مریم نواز عوامی سیاست میں تب آئیں جب نواز شریف کو سپریم کورٹ نے انکے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے والد کی خالی نشست پر انتخاب لڑنے والی اپنی والدہ کلثوم نواز کی انتخابی مہم چلائی اور پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔  انہوں نے بھی اپنے والد کیطرح ہمیشہ سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیہ آگے بڑھایا ہے اور فوج کے سیاسی کردار پر ہمیشہ تنقید کی ہے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اپنے والد کی غیر موجودگی میں مریم نواز نے بڑے مؤثر انداز میں انکا مزاحمتی بیانیہ ملک بھر میں پھیلایا ہے۔

مریم کے آگے آنے سے مسلم لیگ ن کی سیاست میں بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اس حوالے سے سب سے بڑی تبدیلی یہ تھی کہ اپنے تایا کو اپنا آئیڈیل مانتے والے اور زبان و بیان میں بھی ان کا لہجہ اختیار کرنے والے حمزہ شہباز نے تب پیچھے ہٹ کر مفاہمتی بیانیہ اپنا لیا جب نواز شریف نے آگے بڑھ کر اسٹیبلشمنٹ کو للکارا اور فوجی قیادت کا نام لیکر تنقید شروع کردی۔ تو مریم نواز شریف آگے آئیں اور اپنے والد کا سخت ترین بیانیہ لے کر مسلسل آگے بڑھیں۔

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ حمزہ شہباز نے گذشتہ ایک دہائی میں گلی محلے کی سیاست کی ہے اور ہر چیز ان کی انگلیوں پر ہے۔ جوڑ توڑ ہو یا ٹکٹوں کی تقسیم ان کا تمام معاملات میں کلیدی کردار رہا ہے۔ البتہ 2017 کے بعد مسلم لیگ ن کے حالات بدل گئے نواز شریف اور مریم کے جیل جانے کی وجہ سے اندرونی سیاست بھی مختلف ہو گئی۔ اور مریم نواز نے اپنی الگ پہچان اور شناخت بنا لی۔ یہ پہلی مرتبہ ہو رہا ہے کہ دونوں ایک ہی سیاسی سرگرمی کو اکھٹا شروع کریں گے اور یقیناً پہلی دفعہ ہی ہو گا اور بظاہر لگتا بھی یہی ہے کہ  فریکوئنسی بھی ایک ہی طرح کی ہوگی۔‘

حکومت بچ سکتی ہے، عمران خان کا وزیراعظم رہنا مشکل ہے

سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن کی قیادت کے چاروں بڑوں نے قید کاٹی ہے۔ نواز شریف اور مریم کو 2018 کے انتخابات سے پہلے سزا سنائی گئی تو تحریک انصاف کی حکومت میں شہباز شریف اور حمزہ دو باپ بیٹے جیل میں بڑا عرصہ رہے۔  لیکن اس قید کا دونوں خاندانوں پر مختلف انداز میں اثر پڑا۔ نواز شریف اور ان کی بیٹی نے ردعمل میں مزاحمتی بیانیہ اختیار کیا جبکہ شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ نے مفاہمتی بیانیہ اپنا لیا۔

سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ یہ صورت حال نئی نہیں ہے، ’نواز شریف اور شہباز شریف نے بھی ہمیشہ اسی طرح کی سیاست کی ہے لیکن دونوں کی مختلف سیاست کا فائدہ البتہ دونوں کو اکھٹے ہی ہوا ہے۔ ہاں یہ ہے کہ ان کی اولاد کا یہ پہلا موقع ہو گا کہ وہ اختلافی بیانیے کے بعد اب ایک ہی مقصد کے لیے اکھٹے اور ایک ہی وزن سے لانگ مارچ کو لیڈ کریں گے۔‘ مسلم لیگ ن کی جانب سے جو لانگ مارچ کا شیڈیول جاری کیا گیا ہے اس کے مطابق مارچ کا باقاعدہ آغاز تو 24 مارچ کو لاہور سے ہوگا اور یہ 25 تاریخ کو یہ گوجرانوالہ سے جہلم پہنچے گا۔  شیڈیول کے مطابق یہ لانگ مارچ 26 مارچ کو روالپنڈی میں قیام کرے گا اور 27 مارچ کی صبح اسلام آباد میں داخل ہوگا۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اتوار 27 مارچ کوہی ڈی چوک میں ایک بڑے جلسے کا اعلان کر رکھا ہے۔

Maryam and Hamza on one page with resistance statements

Back to top button