مریم حکومت نے منشیات فروش بھی پارکرناشروع کردیئے

وزیراعلیٰ مریم نواز کی مجرم مکاؤ مہم کو اور تیز کرتے ہوئے اب پنجاب پولیس نے منشیات فروشوں کو بھی جعلی مقابلوں میں پار کرنا شروع کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ سنگین جرائم میں ملوث ملزمان کو پہلے ہی فل فرائی کرتے ہوئے اگلے جہان پہنچایا جا رہا ہے جبکہ جنسی جرائم میں ملوث ملزمان کو ہاف فرائی کرتے ہوئے ان کے نیفوں میں پستولیں چلائی جا رہی ہیں۔

تازہ اطلاعات کے مطابق پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ سی سی ڈی نے صوبے بھر میں منشیات کی سمگلنگ اور فروخت کے خلاف بڑے پیمانے پر خصوصی آپریشن کا جارحانہ آغاز کر دیا ہے جس کے پہلے 48 گھنٹوں کے دوران ہی 41 سے زائد مبینہ منشیات فروش مختلف پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ جبکہ صرف 2دسمبر کو یعنی 24 گھنٹوں میں 18 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔  سی سی ڈی کی جانب سے اس آپریشن کو صوبے کو منشیات سے پاک کرنے کے لیے جاری مہم کا ایک بڑا مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ یکم دسمبر 2025 کو پنجاب بھر میں سی سی ڈی کی جانب سے صوبائی سطح پر انسدادِ منشیات آپریشن اس وقت شروع ہوا جب سی سی ڈی نے ایک ساتھ صوبے کے مختلف اضلاع میں چھاپے مارنے کا فیصلہ کیا۔ آپریشن میں ابتدائی توجہ نوجوانوں میں تیزی سے پھیلنے والے نشے آئس کے ڈیلروں پر مرکوز رکھی گئی اور پہلے ہی روز 23 مبینہ ڈیلر مقابلوں میں مارے گئے جبکہ دوسرے دن مزید 18 ہلاک ہوئے  یوں مجموعی طور پر 41 منشیات فروشوں کو ٹھکانے لگا دیا گیا۔ تاہم سی سی ڈی کا مؤقف ہے کہ پولیس کی جوابی فائرنگ میں تمام ملزمان ہلاک ہوئے ہیں کیونکہ سی سی ڈی نے منشیات فروشوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے تو مشتبہ افراد نے چھاپہ مار ٹیموں پر فائرنگ کی جس کے جواب میں پولیس نے کارروائی کی جبکہ بعض کیسز میں گرفتار ملزمان کو ریکوری کیلئے لے جایا جا رہا تھا جس دوران ملزمان کے ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی اور ملزمان کو چھڑانے کی کوشش کی جبکہ جوابی فائرنگ میں ملزمان اپنے انجام کو پہنچ گئے۔

سی سی ڈی ذرائع کے مطابق صرف 2 دسمبر کو کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کی کارروائیوں میں 18 افراد ہلاک ہوئے جن میں سب سے زیادہ 6 ملزمان صرف لاہور کے مختلف علاقوں میں مارے گئے۔ گرین ٹاؤن، کاہنہ، ماڈل ٹاؤن، صدر، کینٹ اور اقبال ٹاؤن کے علاقوں میں ہونے والے ان مقابلوں میں پولیس نے بھاری مقدار میں آئس، چرس اور حشیش کے علاوہ پستول، موٹر سائیکل اور دیگر سامان بھی برآمد کیا۔ منشیات فروشوں کے خلاف صرف لاہور میں ہی کارروائیاں نہیں کی جا رہی ہیں بلکہ پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی منشیات فروشوں کو ٹھکانے لگانے کا سلسلہ جاری ہے24گھنٹوں میں ٹوبہ ٹیک سنگھ میں چار، ڈیرہ غازی خان میں دو، گوجرانوالہ میں ایک، ساہیوال میں دو، اوکاڑہ میں ایک اور سرگودھا میں دو مشتبہ ڈیلر مارے گئے ہیں۔ پنجاب کے مختلف اضلاع سے سامنے آنے والی ہلاکتوں کے ڈیٹا سے واضح ہوتا ہے کہ سی سی ڈی کی جانب سے منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں بیک وقت جاری ہیں۔ تاہم دو دنوں میں سب سے زیادہ ہلاکتیں لاہور اور گوجرانوالہ ریجن میں رپورٹ ہوئی ہیں۔ لاہور میں دوسرے روز چھ افراد ہلاک ہوئے جبکہ گوجرانوالہ ریجن  میں یکم دسمبر کو 16 مبینہ ڈیلر مارے جا چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد آئس، ہیروئن، حشیش اور چرس کے بڑے ڈیلر قرار دیے جا رہے ہیں جو آن لائن سپلائی چینز سمیت مختلف طریقوں سے منشیات فروخت کرتے تھے۔ آپریشن کے دوران کئی ایسے افراد بھی مارے گئے جنہیں پولیس عرصے سے انتہائی مطلوب قرار دیتی تھی۔ وزیرآباد میں آن لائن منشیات فروشی میں ملوث گروہ کے سرغنہ حسنین عرف نونا کی ہلاکت اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ سی سی ڈی کی یہ کارروائیاں منشیات کے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچائیں گی تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں ان مقابلوں کی آزادانہ تحقیقات پر زور دے رہی ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے ان اقدامات کو ’منشیات فری پنجاب‘ مہم کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں اب کسی بھی قیمت پر منشیات فروشوں کے نیٹ ورکس کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔ پنجاب میں منشیات کے خلاف سی سی ڈی کی کارروائیوں پر پنجاب کے سابق آئی جی پولیس خواجہ خالد کہتے ہیں کہ ’اس وقت جو صورت حال چل رہی ہے وہ ذاتی طور پر اسے جائز نہیں سمجھتے۔ پولیس کو ہمیشہ اور ہر حال میں قانون کی درست عمل داری کرنی چاہیے۔ وہ مزید اس پر کچھ نہیں کہتے کیونکہ خود محکمہ بھی اس پر کھل کر نہیں بول رہا ہے۔‘  دوسری طرف سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق سیکریٹری آفتاب باجوہ کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت نے سی سی ڈی کو لا محدود اختیار دے کر اسی کو جج جیوری اور ایگزیکیوشنر بنا دیا ہے جو قطعا درست نہیں ہے۔ اگر سزا بھی پولیس نے دینی ہے تو پھر عدالتیں بند کر دینی چاہییں۔ لیکن جس طرح کے حالات ہیں یہ سب کچھ سمجھ سے ہی باہر ہے۔‘

تاہم اس ساری صورتحال بارے سی سی ڈی نے پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی ہے، سی سی ڈی نے ان ہلاکتوں پر تو کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم اس آپریشن کے آغاز ایک پریس ریلیز ضرور جاری کی گئی تھی کہ پنجاب بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف ایک گرینڈ آپریشن ہونے جا رہا ہے۔

 

Back to top button